17 رمضان المبارک یوم بدر ۔۔۔مفتی محمد معراج عالم شمسی

 مفتی محمد معراج عالم شمسی
استاد و مفتی دارالعلوم علی حسن ۔

مہاراشٹر ممبئی 



١٧رمضان المبارک یوم بدر



مقام بدر


مقام بدر مدینۃ المنورہ سے تقریبا اسی ٨۰میل کے فاصلہ پر ایک قریہ کانام ہے جس جگہ زمانہ جاہلیت میں سالانہ میلہ لگاکرتاتھا، اسی مقام پر ایک کنواں بھی تھاجس کے مالک کانام بدرتھااسی کےنام پر اس جگہ کانام بدرہوگیا۔بدریہ وہی جگہ ہے جہاں حق وباطل کی پہلی جنگ عظیم ہوئی، جس میں مومنوں اور کفارقریش کے درمیان خونریزی ہوئی ،اور مسلمانوں کو فتح عظیم حاصل ہوئی، اورپھر اسکےبعد اسلام کا بول بالا ہو گیا اور کفارقریش کی شان وشوکت خاک میں مل گئی 

*یوم جنگ بدر*

جنگ بدرکادن وہ عظیم دن ہے کہ اللہ تبارک وتعالی نے اسے "یوم الفرقان" کانام دیاہے، قرآن مجید میں تفصیل کیساتھ سورۃ انفال میں اس معرکہ کا تذکرہ فرمایاہے 
یقینابدرایک ایسامعرکہ ہے جسے تاریخ اسلام میں ایک خاص مقام حاصل ہے خود اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجیدمیں اس کا تذکرہ فرمایاہے اور اسکی فضیلت اپنی مددکے ذریعہ بیان فرمائی ہے اللہ تعالی کا ارشادہے *"ولقد نصرکم اللہ ببدروانتم اذلۃفاتقواللہ لعلکم تشکرون "* اور بے شک اللہ نے بدرمیں تمہاری مددکی جب تم بالکل بے سروسامان تھے تو اللہ تعالی سے ڈروکہ کہیں تم شکرگذارہو، (کنزالایمان،) 

*اصحاب بدرکی فضیلت*

اہل اسلام کے نزدیک جنگ بدر، اور اصحاب بدررضی اللہ عنھم کی فضیلت مسلم ہے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اصحاب بدررضی اللہ عنھم کا جومقام ومرتبہ ہے وہ دوسروں کو نصیب نہ ہوا

اصحاب بدر کی فضیلت حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک خزرجی انصاری بدری صحابی رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے بھی جان سکتے ہیں کہ ایک روز حضرت جبریل امین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدری صحابہ رضی اللہ عنھم کا مقام ومرتبہ کیاہے؟  تو جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سب مسلمانوں میں افضل ترین ہیں تب حضرت جبریل نے عرض کیاکہ جوفرشتے غزوۃ بدرمیں شریک ہوئے تھے وہ بھی تمام فرشتوں میں معززترین شمار کئے جاتے ہیں، 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب بدرکا خاص طور پر عزت فرماتے تھے ایک مرتبہ چند بدری صحابہ رضی اللہ عنہھم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایسے وقت میں تشریف لائے کہ دوسرے صحابہ کرام سے مجلس بھری ہوئی تھی سلام کا جواب دینے کےبعداہل مجلس اپنی اپنی جگہ جگہ بیٹھے ہی رہے اور بدری صحابہ رضی اللہ عنھم کو کسی نے جگہ نہ دی توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بارخاطر ہوکر اپنے نزدیک والے صحابہ کو ہٹاکر بدری صحابہ رضی اللہ عنھم کواپنے متصل شرف سے بٹھایاہٹائے جانے والے اصحاب دل میں گراں خاطرہوئے توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نےاس روزاصحاب بدرکا جوخاص اکرام فرمایااسکی پسندیدگی اللہ تبارک وتعالی نے یوں ظاہر فرمائی *"یاایھاالذین آمنوااذاقیل لکم تفسحوافی المجالس فافسحوایفسح اللہ لکم* (المجادلۃ) 
اصحاب بدرکی فضیلت اس واقعہ سے بھی ظاہر ہوتی ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب ابن ابی بلتعہ سے اس خفیہ مراسلہ کے متعلق پرسش فرمائی اور اس خطاپر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت حاطب کی گردن مارنے کی اجازت چاہی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایاکیاحاطب بدری نہیں ہے؟  اللہ تعالی نے اصحاب بدر پر خاص توجہ کیساتھ فرمایاہے اے اہل بدرتم جو چاہو سوکروتمہارے لئے جنت واجب کردی گئی میں نے تمہیں بخش دیاہے ،

باتفاق جمیع اہلسنت وجماعت، بدری صحابہ کرام تمام صحابہ سے افضل ترین ہیں چاروں خلفاء راشدین اورباقی چھہ حضرات عشرہ مبشرہ بھی شاملین غزوۃ بدر ہیں 

*جنگ بدرمیں صحابہ کرام کی تعداد*

تمام مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تین سو تیرہ صحابہ کرام نے شرکت کی تھی ،اور بنفس نفیس شامل معرکہ نہ ہونے والے گیارہ مزیدصحابہ کاشمار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاملین غزوہ فرمایاجن میں سے نوصحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی تعمیل میں خاص خدمات پر معمورتھے اورباقی دومیں سے ایک دوران سفر زخمی ہوگئے تھے جنہیں واپس روانہ کیاگیااور دوسرے روانگی سے قبل رات کو قضاء الہی سے واصل بحق ہوئے ان گیارہ کوبھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت سے حصہ عطافرمایا

*بدری صحابہ کرام کےاسماء گرامی سے برکتوں کاظہور اور انکے توسل سے دعاءوں کی قبولیت* 

علامہ دوانی علیہ الرحمۃ شیخ عمرجمال مکی علیہ الرحمہ وغیرھم نے فرمایاکہ اصحاب بدرکاجہاں بھی ذکرہووہاں جوبھی دعاء کی جاتی ہے وہ قبول ہوتی ہے۔۔                
بعض علماء کرام کابیان ہے کہ بعض لوگوں نے صرف اصحاب بدرکے اسماء گرامی کی برکات سے درجات ولایت حاصل کئے ہیں جبکہ علامہ قبانی نے یوں لکھاہے کہ بہت سے اولیاء کوولایت ملی ہی ہے ان ناموں کے پڑھنے اور ان سے وسیلہ لینے سے۔          
ان مقربین بارگاہ خداوندقدوس کے توسل سے مریضوں نے   اورمہلک امراض سے شفاءپائی ہے 

*قارئین کرام* :بالخصوص سترہ رمضان المبارک بدری صحابہ کرام کے اسماء مکرم پڑھ کر انکے توسل سے دعاکریں کہ اللہ تبارک وتعالی ہم سب کو اس مہلک وائرس و دیگرامراض سے محفوظ ومامون رکھے اور جو بیمار ہیں انہیں شفاء کاملہ عاجلہ تامہ نصیب فرمائے آمین یارب العالمین 

ماخذ :رفع القدربتوسل اھل البدر، بدرالکبری، ضیاء البیان ودیگر کتب 
*محمد معراج عالم شمسی اشرفی اسلامپوری* 
*استاذومفتی دارالعلوم علی حسن اہلسنت ساکی ناکہ ممبئی*
*رابطہ نمبر 8976664716*مورخہ ١٧رمضان المبارک١۴۴١ھ   
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں