Abu al-Fadl Abdullah ibn Mahmud ibn Maudood Mosali Sahib Mukhtar (died 683 AH) ابو الفضل عبد اللہ بن محمود بن مودود موصلی صاحب مختار (متوفی 683 ھ)

*ابو الفضل  عبد اللہ بن  محمود بن مودود موصلی    صاحب مختار    (متوفی 683 ھ)*
از محمد غضنفر حسین زیلعی مصباحی. 
جامعہ قادریہ مدینۃ العلوم بنگلور

*نام و نسب* : عبد اللہ بن محمود بن مودود بن محمود موصلی بلدجی

*کنیت*  :ابوالفضل ،  *القاب*  :مجدالدین ،  ابن بلدجی۔
موصل کی طرف نسبت کرتے ہوۓ آپ کو موصلی کہا جا تا ہے (  الفوائد البھیۃ فی تراجم الحنفیة  ،ص:106 /107 ، مصنف عبد الحیی لکھنوی، ناشر دارالکتاب الاسلامی القاھرۃ)
*تاریخ و جاۓولادت* : آپ نے شوال 599ھ/1203ء بروز جمعہ کو موصل کے ایک علمی گھرانے میں آنکھیں کھولیں۔  (الاعلام قاموس تراجم لاشهر الرجال و النساء من العرب و المستعربين و المستشرقين، مؤلف خيرالدين زرکلی ، ص: 135،ج:4 ، دارالعلم للملایین بروت ، الطبعة الخامسة عشرة 2002ء/ الطبقات السنیۃ فی تراجم الحنفیہ ،ج: 4 ،ص:239 ، مصنف: تقی الدین عبد القادر تمیمی عزی مصری حنفی، دارالرفاعی ریاض، الطبعة الاولى 1410ھ۔۔۔۔1989م  )
*خاندانی پس منظر*: موصل میں آپ کا خانوادہ  علمی اعتبار سے کافی مشہورتھا،آپ کے والد محترم ابو الثنا محمود علیہ الرحمہ (متوفی 623ھ) علماۓ موصل میں امتیازی شان کے حامل تھے ،آپ کے برادران ـــــ عبد الدا ئم (متوفی 680ھ)،  عبدالکریم اورعبد العزیزــــــ ،کا شمار وقت کے جید علما میں ہوتا ہے ،فقہ حنفی کی نشرو اشاعت میں  آپ کے خاندان کا نمایا کردار رہا ،درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں بڑا شہرہ بھی رہا۔
*تعلیمی زندگی*: آپ کی پیشانی پر بلندی اور فیروزمندی کا ستارہ  بچپن ہی سے چمک رہا تھا، اوائل عمر ہی  سے علم اور علما کی طرف طبعی میلان رکھتے تھے،چناں چہ آپ نے ابتدائی تعلیم  اپنے والد محترم  ابو الثنا  محمود علیہ الرحمہ سے حاصل کی  اور تمام  علوم فنون کی مبادیات میں درک حاصل کیا، پھر اعلیٰ تعلیم اور ہر فن  کے ماخذ سے استفادہ کے لیے دمشق کا قصد کیا جو اس وقت محد ثین اور فقہا کا مرکز تھا ، جہا ں دور درازسے طالبان علوم نبویہ علمی تشنگی کو بجھانے کے لیے آتے اور خوب سیرابی حاصل کرتے ۔  آپ نے یہاں آسمان علم و فضل کے درخشاں ستاروں کے سامنے زانوے تلمذ                                              تہ کیا   اور  خوب خوب علمی استفادہ کیا۔  (الفوائد البھیۃ فی تراجم الحنفیہ، ص:107، دارالکتاب الاسلامی القاھرۃ / الاختیارلتعلیل المختار ، التعریف بالمؤلف وکتابہ الاختیار  ، ج :1 ، ص:7،  دارالرسالۃ العالمیۃ ، الطبعة الاولى 1430ھ۔۔۔۔۔۔2009م)
*اساتذہ* : آپ نے جن نابغہ روزگار ہستیوں کی صحبت اختیار کی اور اکتساب  فیض کیا  ان میں سے کچھ کے نام اس طرح ہیں :
1  ابو الثنا محمود بن مودود بن محمود   (متوفی 623ھ)
2 ابوحفص موفق الدین  عمر بن محمد بغدادی  (متوفی607 ھ)
3  شیخ الحنفیۃ جمال الدین احمد ابو محامد محمود بن احمد حصیری  (متوفی  636ھ)
4  محدث شہاب الدین  ابو حفص عمر بن محمد قرشی تیمی بغدادی  (متوفی 633ھ)
5  محدث ابو محمد عبد القادربن عبداللہ رھاوی حنبلی  (متوفی612 ھ)
6  شیخ المسند  ابو الحسن علی بن ابی بکر روزبۃ بغدادی قلانسی  (متوفی 633ھ) 
7  محدث ابو المظفر فخرالدین عبد الرحیم مروزی شافعی  
8  محدث خراساں ابو الحسن المؤید بن محمد نیساپوری (متوفی 617 ھ)
9  شیخ المسند ضیا ء الدین ابو نصیر موسی بن شیخ الاسلام ابومحمد عبد القادر جیلی بغدادی حنبلی  (متوفی 618 ھ)
10  محدث  ابومحمدعبد  العزیز محمود بغدادی  (متوفی611 ھ)
11  محدث ضیا ء الدین ابواحمدعبدالوھاب  بن ابومنصورعلی بغدادی شافعی  (متوفی 608ھ)
 ( الاختیارلتعلیل المختار، التعریف بالمؤلف وکتابہ الاختیار ، ج :1 ، ص:7، دارالرسالۃ العالمیہ)
*عام حالات* :  آپ نے جملہ علوم عقلیہ ونقلیہ سے فارغ ہوکر 637ھ  میں عراق کا  رخت سفر باندھا ۔اور کوفہ کے عہدے قضا کو زینت  بخشا ۔ کچھ عرصے بعد عہدہ قضا  سے معزول ہو کر  بغداد کا سفر کیا  اور مشہد امام اعظم میں بساطہ درس بچھایا  ۔ تدریس اور کا ر افتا کی ذمہ داری کو بھی  بخوبی  نبھایا  ۔آپ کی علمی شہرت دور دراز تک پھیل گئ۔ بغداد  کے اطراف و اکناف میں آپ کی خدا داد صلاحیتوں کا خوب  خوب چرچہ ہونے لگا، آپ کی خدمت  میں  چہار جانب سے طلبہ کا ایک سیلاب امڈ پڑا۔ ورآپ کی درسگاہ  علم وتحقیق کا محور بن گئ ۔(الکتاب السابق/الجوہر المضیۃ فی  طبقات الحنفیۃ  ، ج: 2، ص: 350، مطبوعہ ھجر للطباعۃ والنشر و التوزیع و الاعلان، مصنف :محیی الدین ابو محمد عبد القادر بن محمد بن محمد (متوفی775)  الطبعةالثانیة1413ھ۔۔۔۔1993م)
*تلامیذہ* : آپ کے خوشہ چینوں میں  محققین اور فضلا کی ایک بڑی جماعت ہیں  جنھوں نے دین  متین کی بے لوث خدمات کیں اور آنے والی نسل کےلیے مشعل راہ ثابت ہوئے، آپ  کےکچھ مشہور طلبہ کے اسما  اس طرح ہیں:
1  شیخ المحدثین عبد المؤمن بن خلف دمیاطی شافعی( متوفی705ھ )
2  ابراھیم احمد بن بر کت موصلی
3    قطب الدین ابو احمد عبد الکریم بن عبد النور حلبی                        ( الاختیارلتعلیل المختار، السابق)
*فقہی خدمات* : آپ کا شمار فقہا ے احناف کے یہاں  اصحاب تمیز کے طور پر ہوتا ہے  ۔ اصحاب تمیز  فقہا ے احناف کا وہ گروہ ہے  جو مسائل میں  اقوی، قوی، ضعیف ، ظاہر الروایۃ، ظاہر مذھب اور نادرالروایۃ میں امتیاز کی صلاحیت رکھتا ہے۔  آپ کی فقہی خدمات میں ایک زمانے تک مشہد امام عظم میں  فقہی مسائل سے لوگوں کی رہنمائی کرنا، ایک بے مثال علما کی ٹیم  تیاری کرنا  اور آپ کی تصنیفات و تالیفات داخل ہیں ۔ یہاں صرف آپ کی بعض تصنیفی و تالیفی خدمات کا تذکرہ کیا جائے گا ۔
*قلمی جواہر پارے*: اللہ تعالٰی نے آپ کو ایک سیل قلم عطا کیا تھا  ، فقہ حنفی کی نشرواشاعت میں آپ کی نوک قلم سے متعدد کتابیں اور رسائل وجود میں آئیں جو اپنی جگہ آفتاب ومہتاب سے کم نہیں ہیں ، ان گراں قدرکتب ورسائل میں چند کے اسما مندرجہ ذیل ہیں:
1   کتاب الفوائد ،  2  المشتمل علی مسائل المختصر  ۔ 3  المختار للفتوی ۔ 4   الاختیار لتعلیل المختار ، 5   شرح الجامع الکبیر لمحمد بن  الحسن الشیبانی۔  (  السابق) 6    مسالۃ غسل الرجلین  (ویکیپڈیا)
المختار : آپ کی کتابوں میں المختار للفتوی کو کافی شہرت ملی ، علما اور فقہا نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا ، متاخرین فقہائےحنفیہ کے نزدیک یہ کتاب متون ار بعہ کی فہرست میں شامل ہے ۔ آپ نے یہ کتاب عنفوان شباب  میں مبتدی طلبہ کےلیے لکھی  اور اس میں مفتی بہ اقوال کو جمع کرنے کا اہتمام کیا۔مقدمہ کتاب میں  وجہ تالیف  اور  وجہ تسمیہ کو بہترین انداز میں بیان کیا  کہ میں نے یہ کتاب بعض احباب کی گزارش پر فقہ حنفی میں ترتیب دی   اور اس میں مفتی بہ اور معتمد اقوال کو جمع کیا ۔ـــــــ فقہا کےمذاہب کی طرف اشارہ کرنے کے لیے بعد میں آپ نے کچھ ایسے حروف ہیجا کا اضافہ کیا  جن سے فقہا کے نام معلوم ہوتاہے جیسے   (س)  امام ابویوسف ۔ (م) امام محمد ۔ (سم)  امام ابو یوسف و امام محمد ۔ (ز ) امام زفر ۔  (ف) امام شافعی ــــــــ علیھم الرحمہ۔
الاختیار لتعلیل المختار:  المختار کی شہرت اور مقبولیت کے بعد بعض  احبا ب کی التماس پرآپ نے ( الاختیار لتعلیل المختار )  کے نام سے اس کی شرح کی اس کتاب نے بھی مقبولیت کے آسمان کو چھویا ، اس میں آپ نے مسائل کی علتیں، صورتیں ،معانی ، اصول اور ان فروعات کو بیان کرنے کا اہتمام کیا جو محتاج الیہ اور معتمد علیہ ہیں۔  ساتھ ہی ساتھ فقہا کےاختلافات مع دلائل ذکر کر کے محاکمہ بھی کیا۔
  المختار کی اہمیت وافادیت کی پیش نظر وقت  کےجید علما اور فقہا  اس کو اختصار کرنے ، نظم میں پرونے اور شرح کر نے کی طرف متوجہ ہوئے ۔ یہاں الاختیار لتعلیل المختارمطبوعہ دار الرسالہ العلمیۃدمشق  کے حوالے سے ان کی  ایک فہرست پیش کی جا تی ہے:
1  ابو العباس احمد بن علی دمشقی (متوفی 782 ھ ) نے " التحریر" کے نام سے اس کا اختصار کیا ، پھر اس کی شرح کی جو کہ غیرمکمل ہے ۔
2    ابو  اسحاق ابراہیم بن احمد موصلی حنفی نے "توجیہ المختار"  کے نام سے اس کی شرح کی 
3   ابو القاسم القرہ حصاری رومی نے اس کی شرح کی
4  محمد بن الیاس  نے " الایثار لحل المختار" کے نام سے اس کی شرح کی
5  محمد بن ابراہیم بن  احمد نے" فیض الغفار" کے نام سے اس کی شرح کی 
6  امام فخر الدین عثمان بن علی زیلعی (متوفی 879 ھ )نے اس کی شرح کی 
7   تاج الدین ابوعبداللہ  عبد اللہ بن علی بخاری( متوفی 799ھ) نے اس کو نظم میں پرویا  
8  ابن امیرحاج محمد بن محمد حلبی( متوفی 879ھ) نے اس کی شرح کی 
9  شیخ الاسلام شمس الدین شبرسی حنفی محمد بن حسن بن علی شاذلی (متوفی 847 ھ) نے اس کی شرح کی
10  زین الدین ابومحمد عبدالرحمٰن بن ابی بکر عینی حنفی( متوفی 893ھ)  نےاس کی شرح کی
11  شیخ قاسم بن قطلوبغا (متوفی 879ھ ) نے الاختیار کی احادیث کی تخریج کی  جوکہ غیر مکمل اورغیر مطبوعہ ہے ۔ المختار پر آپ کی  ایک شرح بھی ہے ۔  (الاختیارلتعلیل المختار، التعریف بالمؤلف وکتابہ الاختیار ، ج :1 ، ص:7، دارالرسالۃ العالمیۃ)      
  صاحب المختار اور المختار  للفتوی علما کی نظر میں : صاحب مختار ابو الفضل  عبد اللہ بن محمود کی پہچان  فقہائے احناف کے مابین  اصاحب تمیز کے طور پرر ہوتا ہے اور آپ کی کتا  ب المختار للفتویٰ  متون معتبرہ کی فہرست میں شامل ہے۔ ہم یہاں اس سلسلے میں کچھ علماۓ کرام کے  اقوال  پیش کریں گے 
علامہ ابن عابدین شامی فقہائے احناف کے مدارج بیان کرتے ہوے لکھتے ہیں: السادسۃ طبقۃ المقلدین القادرین علی التمیز بین الاقویٰ والقوی و الضعیف و ظاہر الروایۃ و ظاہرالمذہب و الروایۃ النادرۃ کا صاحب المتون المعتبرۃ کصاحب الکنز وصاحب المختار وصاحب الوقایہ وصاحب المجمع وشانھم ان لاینقلو فی کتبھم الاقوال المردودۃ والرویات الضعیفۃ (حوالہ:شرح عقود رسم المفتی، ص:11 ،  مصنف :سید محمد امین الدین بن عمر بن عبد العزیز-------الشہیر ب:ابن عابدین-----، مکتبۃ البشریٰ کراچی پاکستان،  الطبعة الاولى--1430 ھ--2009ء)
دوسری جگہ متون معتبرہ کا    تذکرہ کرتے ہو ے لکھتے ہیں: ثم لا یخفی ان المرادبالمتون المعتبرۃ کالبدایہ ومختصرالقدوری والمختاروالنقایہ الوقایہ والکنزوالملتقی، الخ ( الکتاب السابق ،ص:  60 )
اس عبارت سے علامہ شامی  نے  صاحب مختار ابو الفضل عبد اللہ بن محمود اور  المختار للفتوی کے مقام کو واضح کیا ہے کہ فقہاۓ احناف کے یہاں صاحب مختار کا شمار اصاحب تمیز میں ہو تا ہے اور آپ کی کتاب المختار  للفتوی متون معتبرہ کی فہرست میں ہے۔
 علامہ عبد الحیی لکھنوی لکھتے ہیں : کان من افرادالدھرفی الفروع والاصول و کانت مشاھیرالفتاوی علی حفظہ، (الفوائد البھیۃ فی تراجم الحنفیۃ، ص:106،107 ،دارالکتاب الاسلامی القاہرۃ)
علامہ عبد الحیی لکھنوی نے اس عبارت سے صاحب مختارکی شخصی پہلوں کو بیاں کیا ہے کہ آپ اصول وفرع کے ماہرین میں سے ایک تھے، مشہور فتاویٰ آپ کو زبان زد تھے۔
آگے لکھتے ہیں : قد طالعت المختار و الاختیار و ھما کتابان معتبران عند الفقھا قد کثر اعتماد المتاخرین علی الکتب الاربعۃ سموھا المتون الاربعۃ المختاروالکنزوالوقایۃ و مجمع البحرین  ( الفوئد البھیۃ فی تراجم الحنفیۃ، ص:106، 107)
خلاصہ:اس عبارت سے علامہ عبد الحیی لکھنوی نے المختار للفتویٰ اور الاختیارلتعلیل المختار کی فقہی  مقام کو اجاگر کیا ہے کہ یہ دونوں کتابیں فقہا کے یہاں معتبر ہیں اور متاخرین حنفیہ نے ان پر کثرت سے اعتماد کیا ہے۔
صاحب تاج التراجم لکھتے ہیں :کان فقیھا عارفا بالمذھب ( تاج التراجم ، ص : 177، مصنف : ابوالفداء ز ين الدين قاسم بن قطلوبغا سودانی (متوفی879 ) ، مطبوعہ دار القلم دمشق، الطبعة الاولى 1413ھ ----1992ء)
صاحب معجم المولفین لکھتے ہیں : فقیہ عالم لہ مصنفات فی الفقہ عدیدۃ   و  فی الخلاف و معرفۃ الرجال۔ ( معجم المولفین تراجم مصنفی الکتب العربیۃ  ، ج: 2 ، ص: 295 ، مصنف :عمر رضا کحالہ، موسسۃ الرسالۃ، الطبعةالاولی 1414ھ۔۔۔ 1993ء)
خیر الدین زرکلی لکھتے ہیں: فقیہ حنفی من کبارھم ۔ ( الاعلام لزرکلی ، ص: 135،ج:4 ، دارالعلم للملایین بیروت)
صاحب الطبقات السنیۃ لکھتے ہیں : قال ابو العلا الفرضی کان شیخافقیھاعالمافاضلا مدرساعارفابالمذھب ( الطبقات السنیۃ فی تراجم الحنفیۃ، ج:4 ،ص: 239۔ دار الرفاعی) 
آگے لکھتے ہیں: قال ابن حبیب فی حقہ عالم زمانہ وفرید وقتہ واوانہ ومقدم اعلام العلماء والحذاق وزعیم الطائفۃ الحنفیہ علی الاطلاق وصاحب المصنفات المشھورۃ وساحب اذیال المولفات الماثورۃ ،سارت بہ اخبار فوائدہ الی البلاد سیرالمثل ورحل الطلبۃ الیہ قائلین لایدرک المجد الافارس بطل  ( الکتاب السابق ) 
*خلاصہ* : اس عبارت سے ابن حبیب نے صاحب مختارکے مقام و مرتبے کو واضح کیا ہے،کہ:آپ زمانے کے بڑےعالم، یکتاے زمانہ، اکابر اور ماہر علما کے سرخیل، گروہ حنفیہ کے سردار، مشہورومعروف کتابوں کے مصنف ،منقول و ماثور کتابوں میں کشادہ دامن والے جن کے فائدے کی باتیں ضرب المثل بن گئیں، اور طلبہ  ان کی طرف یہ کہتے ہوۓچلے کہ شرف و بزرگی فارس کے اس بطل جلیل اور مرد صف شکن کے علاوہ کہیں نہیں ملے گی ۔
*وفات*  19/ محرم/ 683ھ/ بروز  شنبہ  کو علم کا یہ چمکتا سورج غروب ہو گیا  ( تاج التراجم ، ص177،دارالقلم دمشق / حدائق الحنفیہ،مولوی فقیر محمد جہلمی،  طبع چہارم (صدی ایڈیشن)، ناشر:مکتبہ سہیل لمٹیڈ اردو بازار لاہور) 
*تربت انور*: آپ کی تربت انور  مقبرۃ الخیزران میں مرقد امام اعظم کے ساتھ ایک ہی  گنبد کے نیچے ہے۔ (  ویکیپڈیا)

 
از محمد غضنفر حسین زیلعی مصباحی. 
جامعہ قادریہ مدینۃ العلوم بنگلور 

Share on Google Plus

About qalamkijasarat

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں