امام ربانی مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ۔۔۔ابو المصباح محمدآزاد نقشبندی



  امام ربانی الف ثانی علیہ الرحمۃ


 

 مولاناابو المصباح  آزاد نقشبندی


   اس خاندانی گیتی میں نہ جانے کتنے چراغ روشن ہوئے،روپوش ہوگئے جس کا کوئی نام و نشان تک نہ رہا،مگر کچھ ایسے سخصیت بھی نمودار ہوئے،جن کا کل بھی چرچا تھا اور آج بھی ہیں اور تا قیامت رہے گا ،انہی ہستیوں میں ایک ہستی کا نام بہت ہی نمایاں ہے امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت احمد بن عبد الاحد کی ذات ستودہ ہے ۔
**نام ونسب** اسم گرامی: احمد بن عبد الاحد ،سلسلہ نسب 31 واسطوں سے حضرت امیرالمومنین  عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے جاملتا ہے ۔

*تاریخِ ولادت*
۔14 شوال المکرم 971ھ مطابق 16 مئی 1564ع کوسرہند ،ضلع پٹیالہ پنجاب میں ولادت باسعادت ہوںٔی۔

امام ربانی مجدد الف ثانی کے آباواجداد  کا اصل وطن مدینہ شریف تھا
پھر وہاں سے منتقل ہوکر کابل افغانستان  میں سکونت اختیار کی۔پھر انکے آباؤ اجداد میں شیخ رفیع الدین فاروقی نے کابل سے ہندوستان تشریف لائے
  اور سرہند میں سکونت اختیار کی

      *تعلیم و تربیت*
امام ربانی مجدد الف ثانی کم عمر ہی میں قرآن پاک پڑھ لیا تھا
 پھر اس کے بعد اپنے والد ماجد سے بیشتر علوم عقلیہ ونقلیہ حاصل کیں
ان کے علاوہ دوسرے اساتذہ سے بھی دیگر علوم فنون حاصل کی

   **بیعت و اجازت*
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ سے شرف بیعت حاصل تھا
اور تین ماہ تک خواجہ باقی باللہ کی بارگاہ سے اکتساب فیض کیا
 اور اسی درمیان حضرت  خواجہ باقی باللہ
مجدد الف ثانی کو خلافت و اجازت سے نوازا۔

*شا نِ قیو مِ زمانی اما مِ ربانی*

سلطان العارفین حضرت خواجہ باقی باللہ فرماتے ہیں
شیخ احمد حضرت مجدد الف ثانی ایسے آفتاب ہیں
 جن کے سائے میں ہم جیسے ہزاروں تارے چھپے ہوئے ہیں

ہماری پیری مریدی کا مقصد صرف حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی کا ظہور تھا
اس لئے اب ہم نے مشیخیت ترک کردی
*تصنیف و تالیف*
یوں توآپ نے درجنوں کتابیں لکھیں مگر *مکتوبات امام ربانی*  کوجو شہرت ملی وہ دوسرے کتابوں کو نہیں ملی
مکتوبات امام ربانی  علوم تصوف و معرفت ایک عظیم خزانہ ہے

 دین حق کی دعوت و تبلیغ کے لیے انتہائی حکیمانہ ہمدردانہ اور مصلحانہ طریقہ اپنایا تھا۔
جس ماحول میں آپ نے دعوت واصلاح کا آغاز فرمایا وہ دور مختلف الانواع خرافات اور رسومات کا مجموعہ تھا
 دین بھی خطرے میں تھا اور دیندار لوگ بھی خطرے میں تھے

*آپ نے جن فتنوں کا سدباب کیا ان میں سے چند یہ ہیں*
1..ملا عبداللہ سلطان پوری نے حج کے اسقاط کا فتویٰ دیا
2..لاالہ الا اللہ اکبر  خلیفۃاللہ کا کلمہ پڑھنے کا حکم دیا گیا
3..ملا سعید نے داڑھیاں منڈوانے کے سلسلے میں ایک حدیث گڑہی
4..بادشاہ کے لیے سجدہ تعظیمی کو جائز قرار دیا گیا
5..سود کو حلال قرار دیا گیا
6..شراب کو حلال اور پاک قرار دیا گیا
7..یا چار وقت آفتاب کی پرستش لازم قرار دی گئی
8.. مساجد کو مندروں میں تبدیل کر دیا گیا
9..روزہ رکھنے کی ممانعت قرار دی گئی
10..خنزیر کے گوشت کو جائز قرار دیا گیا
 11..ماتھے پرقشقہ  لگانا،
گلے میں زنار پہننا
 اور غسل جنابت نہ کرنا
 دین الہی کا شعار قرار دیا گیا،،
تذکرہ مجددین اسلام صفحہ 314
ان کے علاوہ اور بھی خرافات و بدعات و منکرات کا جم کرسدباب کیا۔
*وفات*
28 صفر المظفر 1034ھ بروز منگل چاشت کے وقت  63 سال کی عمر میں
آپ کا وصال ہوا
 نماز جنازہ آپ کے بڑے بیٹے حضرت خواجہ سعید نے پڑھائی
  سرہند میں آپ کی حویلی کے صحن میں آپ کو سپر د خاک کیا گیا

      *سگ بارگاہ اولیاء*
ابوالمصباح آزاد نقشبندی
تنظیم پیغام سیرت
 رام پور۔پوسٹ،لکھی پور
اتر دیناجپور  بنگال
9595931218
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں