رمضان کا آخری عشرہ،شب قدر اور معمولات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔مفتی عبد الخبیر مصباحی۔۔۔

رمضان کا آخری عشرہ، شب قدر اور معمولات رسول


عبد الخبیر اشرفی مصباحی،صدر المدرسین دار العلوم عربیہ اہل سنت منظراسلام،التفات گنج،امبیڈکرنگر


وہی خداہے جو پالنہارہے،مختار ہے،سب کا خالق وہی ہے، سب کامالک وہی ہے۔ اگروہ کسی کو کچھ نہ دیتاتو کسی کے پاس کچھ نہ ہوتا۔ اس نے جوچاہاجسے چاہا،دیا- عالم کوعلم دیا،جاہل محروم رہ گیا- امیرکو توانگری دی اور فقیرنےگداگری لے لی-اس نے جس کوچاہارسول بنادیااورجس کو چاہا امتی کردیا’’اَللہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ‘‘اللہ خوب جانتا ہے کہ رسالت کا حق دارکون ہے اور امتی ہونے کا مستحق کون ہے-حکومت وبادشاہت اسی کی عطاہے ،عزت وآبروبھی اسی کی بخشش ہے-ایک رات جوسورج کی روشنی سے بالکل محروم تھی،چاندکی چاندنی بھی نام کی میسرتھی، وہ تاریک تھی،بے نورتھی، قرآن کریم نے اس کانام’’قدر‘‘ رکھ دیا،اسی کے نام پر ایک سورہ کانام رکھ دیا،ذرہ کو آفتاب بنادیا، قدروتعظیم اس کی اصل میں شامل کردیا،اس تعظیم وتکریم کوجلالت وعظمت کاتاج اس وقت پہنایاگیاجب’’خَیۡرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہۡرٍ‘‘کَہ کراسےہزارمہینوں سے بہتر قراردےدیاگیا۔وہ قدروالی ہوگئی،اس کی قدرشناسی کرنے والے قدرداں ہوگئے اور محبوب بارگاہ رحمان ہوگئے۔
نسبتیں انسان کو ممتازکرتی ہیں،شب قدرکی نسبت جسے ملتی ہے ،وہ بھی ممتازہوتاہے،دل ایمان واخلاص سے بھراہو، جبین  لذت سجدہ سےآشناہو، شب قدرکی برکتیں نصیب ہو،عبادتوں اورریاضتوں کی سوغات لیے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتورب  تعالیٰ ایسے بندوں کےگناہ معاف کردیتاہے۔نسبت شب قدر کی باعث بارگاہِ الٰہی میںان کی عبادتوں کی قدرکی جاتی ہے۔[دیکھئے:صحیح بخاری،امام ابو عبد اللہ محمدبن اسماعیل بخاری،باب من صام رمضان ایمانا واحتساباونیۃ،حدیث نمبر:1802،دارابن کثیر،یمامہ،بیروت،بارسوم،سال اشاعت،1407ھ]
جب قدر کی رات آنے والی ہوتی،ہمارے آقانبی کریم ﷺکی جولانیت بڑھ جاتی،نئی امنگ ،نیاجوش پیداہوجاتا، معمولات شب وروز،دیگر ایام کے مقابلہ میں بڑھ جایاکرتے۔ہماری ماں رسول کریم ﷺکی محبوبہ سیدتناعائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں:’’كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا دخل العشر شد مئزره‘‘۔رمضان کا آخری عشرہ آتاتورسول اللہﷺ [عبادت کے لیے]کمربستہ ہوجاتے[بخاری، مرجع سابق،باب العمل فی العشر الآواخر من شہر رمضان،حدیث نمبر1920؛مسلم شریف،ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری، الاعتکاف باب الاجتہاد في العشر الآواخر من شہر رمضان،حدیث نمبر 1174،داراحیاء التراث العربی،بیروت ]
ایک دوسری روایت میں فرماتی ہیں:’’ ان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجتهد في العشر الأواخر ما لا يجتهد في غيره ‘‘رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں وہ مجاہدہ اورمحنت کرتے جو دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے۔[مسلم،مرجع سابق،باب الاجتہاد فی العشر الآواخرمن شہر رمضان،حدیث نمبر1175]
رسول اللہﷺ رات میں کتنی دیر سوتےتھے؟کم وبیش آدھی رات۔نمازیں کتنی پڑھتےتھے؟چھ نمازیں ان پرفرض تھیں،نوافل کاعالم یہ تھاکہ حالت قیام میں پاؤں متورم ہوجاتےتھے۔روزوں کاحال یہ تھاکہ ’’صوم وصال‘‘رکھتےتھے،دانالیتے تھے نہ پانی پیتےتھے،مسلسل روزے رکھتےتھے۔ایسی ذات شب قدر کااستقبال کرنے لیےنئے،جوش وخروش کے ساتھ تیارہیں۔عبادت ومجاہدہ کے لیے کمربستہ ہیں۔ذیل میں چندجھلکیاں پیش ہیں:
رات بھر قیام
بخاری ومسلم نے متفقہ روایت دی ہے:رسول اللہﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں رات بھرقیام کرتے تھے۔ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہاسے’’أحيأ ليله‘‘کےالفاظ مروی ہیں۔رسول کریم ﷺ ان راتوں کے علاوہ پوری رات کبھی نہیں جاگتے تھے۔
اہل خانہ کی بیداری
رسول کریم ﷺ خود عبادت فرماتےتھے، اہل خانہ کوبھی جگاتے تھے،انہیں سجدہ ریزی کی تعلیم دیتے تھے،اپنے خالق ومالک سے رشتۂ عبودیت استوارکرنے کادرس دیتےتھے،حدیث شریف میں’’أيقظ أهله‘‘کے الفاظ واردہوئے ہیں۔طبرانی جیسے محدثین نے لکھاہے کہ:رسول اللہﷺ کی بیداری کی مہم اہل خانہ تک محدود نہیں تھی،بلکہ بیداری وعبادت گزاری کی طاقت رکھنے والے ہرخورد وکلاں کو شامل عبادت کرتےتھے،انہیں شب بیداری کا حکم کرتےتھے۔
اعتکاف کی پابندی
رسول کریم ﷺشب قدر کی جستجو میں آخری عشرہ کا پابندی سے اعتکاف فرماتے تھے،اعتکاف آپ کا معمول بن گیاتھا، آپ اسے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے۔اپنے جانثاروںکواعتکاف اورجستجوئے شب قدرکی رغبت دلاتے تھے،فرماتے تھے:’’رمضان کے آخری دس دنوں میں شب قدر کی تلاش کرو‘‘۔ایک روایت میں ہے’’يعتكف في العشر الأواخر يتحرى ليلة القدر فيها‘‘رسول اللہﷺ عشرئہ اخیرمیںاعتکاف کرتےاور شب قدرکی جستجوکرتےتھے۔[تطریز ریاض الصالحین،فیصل بن عبد العزیز،ج:2،ص:165،مکتبہ شاملہ]
بے پایاں سخاوت
روشنی کی رفتار،سرعت آبشار،تندی موج ولہراورتیزیِ بادصرصرسب کی پیمائش کے آلے ایجاد کئے جاچکے ہیں۔رسول کریم ﷺکے جود وسخاکوتولنے کاکوئی پیمانہ ایجادہواہےاور نہ اس کاامکان ہے۔آپ سخی تھے،فیاض تھے،دونوںہاتھوں سے دیتے تھے،جب رمضان کامہینہ آتا،قدرکی راتیں آتیں،آخری عشرہ کےایام آتے،جبرئیل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کادورہ ہوتا؛نیکیوں کے ان موسم بہارمیںآپ ﷺ کی سخاوت تیزہواسے تیزترہوتی ۔’’كَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ‘‘حضرت جبرئیل ہرشب رمضان رسول اللہﷺ کے پاس آتے،قرآن کریم کادورہ کرتے،اس وقت رسول اللہﷺ تیزہواسے بڑھ کرجودوسخاکرتے۔[بخاری ،مرجع سابق، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہﷺ ،حدیث نمبر6]
شب قدراللہ عزوجل کاتحفہ ہے، فضائل کی جامع ہے، برکات کی منبع ہے-فرشتوںسے ملاقات، رب سےمناجات اور لطف و عنایات والی ہے۔یہ تحفہ رسول اکرمﷺ کی امت کوملاہے۔جامع الاحادیث میں امام سیوطی نے دیلمی سےنقل کیاہے:’’ إن الله وهب لأمتى ليلة القدر،ولم يعطها من كان قبلكم‘‘اللہ تعالیٰ نے شب قدر میری امت کودیا،ازیں قبل کسی اورکویہ شب نہیں دی گئی۔[جامع الاحادیث،امام جلال الدین سیوطی،37/6،حدیث نمبر39912،مکتبہ شاملہ]
ہمیں غورکرناچاہیے؛ سید عالم ﷺ مقبول ہیں،معصوم ہیں،بخشے بخشائے ہیں۔وہ اللہ کی خوشنودی کی تلاش میںرہتے تھے،شب قدر کی جستجومیں رہتے تھے ، جدوجہد فرماتے تھے،رات بھرمصروف عبادت رہتے تھے،اہل وعیال کوبستروںسے اٹھاتے تھے،انہیںآغوش نیندسےآغوش عبادت میںبٹھاتے تھے۔کیاانہیں ایساکرنے کی ضرورت تھی؟یقیناً نہیں تھی،وہ ہمیں تحفۂ خداوندی کی قدربتانے کےلیے ایساکرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ہمیں اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا، ہمیں اس رات کی تلاش و جستجو کرنا چاہیے اور آخری عشرہ کی راتوں کو ذکر و عبادت میں گزارنا چاہیے۔

طالب دعا

عبد الخبیر اشرفی مصباحی،متوطن:مہان خاں،بوڑھی جاگیر،اسلام پور،اتردیناجپور،9932807264

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں