امام احمد رضا : ایک نابغۂ روزگار شخصیت۔۔ابوالشفق غلام غوث بارہ بنکوی۔۔۔۔

امام احمدرضا:ایک نابغۂ روزگار شخصیت



ابوالشفق غلام غوث بارہ بنکوی
ریسرچ اسکالر, دہلی یونیورسٹی, دہلی
رابطہ نمبر 7289849371
ای میل ggbarabanki@gmail.com
دنیا میں بے شمار انسان آتے ہیں اور دار بقاء کی طرف موت کے واسطے سے کوچ کرجاتے ہیں
ان میں سے بہتوں کے بارے میں دنیا کو کچھ پتہ نہیں ہوتا ہے جبکہ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جن سے ان کے کارنامے کی بنیاد پر بہت زیادہ لوگ واقف ہوتے ہیں
ان کی زندگی اتنی روشن و تابناک ہوتی ہے کہ اپنے تو اپنے اغیار بہی ایسے عظیم لوگوں کی عظمت کا اعتراف کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں
انہیں چند لوگوں میں ایک عظیم اورعبقری شخصیت کے مالک امام اہلسنت ,تاجدار عشق ومحبت , اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کا نام نہ صرف ملکی سطح پر معروف ہے بلکہ عالمی سطح پر انہیں یاد کیا جاتا ہے
1272ہجری کو آپ اس دنیا میں قدم رنجا ہوئے اور 1340 میں حکم الہی پر لبیک کہتے ہوئے مالک حقیقی سے جا ملے
اس سال(1440)ہجری سال کے مطابق آ پ کے وصال کے پورے سو سال مکمل ہوجاتےہیں اس لحاظ سےاس سال آپ کا عرس مبارک صد سالہ جشن کے طور پہ عالم اسلام کے کروڑوں لوگ عقیدت و احترام کےساتھ منارہے ہیں
ملک کے کونے کونے سے زائرین اعلی حضرت کا قافلہ بریلی شریف حاضر ہونے کے لئے رواں دواں ہے
اہلسنت کے بیشتر اداروں میں,, جشن صد سالہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کی پر وقار تقریبات کا انعقاد ہورہا ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سو سال گزر جانے کے بعد بھی قلب انسانی میں اس قدر اعلی حضرت کی عقیدت و محبت کیوں کر پائی جاتی ہے ؟
لوگ تو جن کی جائداد پہ متمکن ہوتے ہیں انہیں یاد کرنا تو دور کی بات ان کا نام تک دلون میں محفوظ نہیں رہ جاتا ہے
اور امام اہلسنت کو سو سال بعد بھی لوگ بھو ل نہیں پاتے ہیں
تو سنو!
اعلی حضرت کو آج جو دنیا یاد کررہی ہے اس کی واحد وجہ یہ کہ انہوں نے اپنی زندگی شہرت ونام وری کے لئے نہیں بلکہ رضائے الٰہی کی خاطر وقف کررکھی تھی اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے رضا میں اپنی حیات گزارنے میں کامیاب ہوجاتا ہے خدائے ذوالجلال اس کی عظمت ومحبت کو اہل دنیا کے گلستان قلب میں راسخ کردیتا ہے
ڈاکٹر غلام زرقانی صاحب اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں,, کہ یہ صرف اور صرف دین متین کی مخلصانہ خدمات ,شبانہ روز جد و جہد تن من دھن نچھاور کردینے کا ثمرہ ہے,,
(روزنامہ اُردو انقلاب 31اکتوبر 2018ء)
اعلی حضرت علیہ الرحمۃ کی پوری حیات اسلام وسنیت کی خدمات, اور اس کے احکام کی اشاعت کے جذبہ صادقہ سے سرشار تھی
آپ کثیر التصانیف ہونے کے ساتھ پچپن علوم و فنون پر زبردست مہارت وممارست حاصل کئے ہوئے تھے علمائے کرام کا ایک بڑا قافلہ آپ کے علوم وفنون کی مہارت پہ کامل اعتماد رکھتا ہے
فقہی بصیرت خدا وند قدوس نے ایسی عطا فرمائی تھی کہ ان کی فقہی عبارات کو دیکھ کر علماء کرام نے اعتراف عظمت کا اظہار کردیا اور ہر عصر کے علماےدین نےان کے کمال فن کا گن گایا ہے
اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی وقت کےجلیل القدر عالم دین مفسر قرآن, فقہ اسلامی کے بلند پایہ محقق ومدقق, اصول شرع کے رموز واسرار سے گہری واقفیت اور علوم دینیہ میں مہارت تامہ رکھنوالی ایک نابغہ روزگار شخصیت کے مالک تھے اصابت رائے, بلند فکری اورحق و باطل کے درمیان نشان امتیاز کھینچنے کا بہترین جوہر رکھتے ہیں بغیر دلیل برہان کے امام احمد رضا کوئی مسئلہ نہیں بتاتے ہیں بلکہ ایک سوال کے جواب میں متعد دلائل کا التزام فرما یا کرتے ڈاکٹر غلام زرقانی کے مضمون,, صد سالہ یوم امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ,, کا یہ اقتباس یقینا قابل مطالعہ ہے
,,امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ عنہ کے فضائل و کمالات, وسعت اطلاع, اصابت رایے, فکری بصیرت, علمی وتحقیقی افادات,ادبی ولسانی شاہکار,فقہی رموزونکات کی نقاب کشائی پر کمال قدرت اور مروجہ علوم وفنون پر بے پناہ تبحر علمی نے بر صغیر پاک و ہند ہی نہیں, پورے عالم اسلام کو یکساں متأثر کیا ہے. خیال رہے کہ یہ صرف زبانی دعویٰ نہیں ہے بلکہ پچپن علوم و فنون میں ایک ہزار سے زائد کتابیں شہادت کے لئے کافی ہیں,,
اسلامی علوم وفنو ن کے زبردست مطالعے کے مالک تھے اور تصنیف وتالیف کا مشغلہ ایسا آ پ کی ذات پہ چھایا کہ اہل علم ودانش کو امام احمد رضا نے ایک ہزار سے زائد تصانیف انیقہ سے بہرہ ور کیا
علمی وتحقیقی, فکری و فقہی مسائل میں کمال کا درک رکھتے ہیں
پچپن علوم و فنون پر کامل دسترس رکھ کر دینی خدمات کا جو عظیم کارنامہ مجدداعظم , امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے انجام دیا ہے وہ اپنے آپ مثال ہے
خلوص وللہیت کا درس دینے کے ساتھ خو د اس پہ عمل پیرا ہوتے تھے, زہد وورع, تقوی وطہارت, تزکیہ نفس کی عظیم مثال تھے آپ, چاپلو سی مداہنت, تملق پرستی سے یکسر بے نیاز رہتے تھے
اہل دولت وسلطنت کی مدحت آپ کو قطعی پسند نہیں تھی لوگ فرمائش کرتے اس کے باوجود آپ کاقلم دنیادار لوگوں کے لئے نہیں اٹھتا تھا وہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم اہل دولت کی تعریف وتوصیف کےلئے نہیں پیدا کئے گئے ہیں بلکہ امام اہلسنت نے ان کی بڑائی اور ثناخوانی کرنے کو ایک بلا ء ومصیبت سے تعبیر کیا ہے کسی عزیز نے آپ سے والئ نان پارہ کی قصیدہ گوئی کی التجاء کی تھی تو آپ نے اس کا جواب اپنے مشہور نعتیہ کلام کے مقطع میں اس طرح دیااور فرمایا

*کروں مدح اہل دول رضاپڑےاس بلامیں میری بلا*

*میں گداہوں اپنےکریم کامیرادین پارہ ناں نہیں*
جس کا جو غلام اور گدا ہوتا ہے وہ اپنے مالک کا ہی ذکر کرنے میں ایمانی لذت و فرحت کا احساس کرتاہے
چونکہ اعلی حضرت ایک سچے عاشق نبی صلی اللہ علیہ و سلم تھے اور انہیں کی ثنا خوانی کو اپنا دین تصور کرتے تھے جو حق بجانب بات تھی .
اعلی حضرت نے اپنے زمانے کے ابھرنے والے بیشتر مسائل پہ قلم اٹھاکر دلائل وبراہین کے ساتھ دینی رہنمائی فرمائی ہے جس کا مشاہدہ اور تجربہ آپ کی تصانیف کے زریعہ کیا جا سکتا ہے
اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے دین متین کی خدمات میں جو تجدیدی کارہائے نمایاں انجام دیا ہے وہ قابل صد رشک ہے علماۓ عرب وعجم نے اعلیٰ حضرت کو ,مجدد ,تسلیم کیا ہے ان کے تجدیدی خدمات نے اہم علم کوجس قدر متاثر کیا ہے اس کی نظیر ملنا مشکل ہے
ملک سخن کے شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
زمانے کی پرتیں جس قدر ترقی کی طرف جائیں گی اس مرد مجاد, عاشق رسول, مجد اعظم اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی اہمیت و فضیلت اسی قدر اہل زمانہ پہ آشکارا ہوتی رہے گی
عشق ومحبت کے آ داب و احترام کا جو عنصر آپ کی تحریروں میں پیارے آقا صلی ا8للہ علیہ و سلم کے حوالے سے ملتا ہے ویسی کیفیت کسی اور میں مفقود ہے
قرآن عظیم کا ترجمہ بنام, کنز الایمان فی ترجمتہ القرآن, مذکورہ بات کے لئے آج بھی شاہد ہے
بلکہ حد تو یہ ہے کہ بعضوں نے ترجمہ کرنے میں ایسی عبارات کا انتخاب کیا کہ جن سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی دکھائی دیتی ہوئی نظر آتی ہے
اور اسی آیت کا ترجمہ اگر امام احمد رضا نے کیا ہےتو مقام نبوت و رسالت کے احترام وآداب میں ایسے کلمات کا استعمال فرمایاہے کہ محبوب رب العالمین کا ہر عاشق وفدائی سمجھ جاتا ہے کہ یہ ترجمہ یقینا کسی عاشق صادق کے رشحات قلم سے نکلا ہوا ہے
مثلا
قرآن مجید کی یہ آیت ملاحظہ ہو
*وَوَجَدَکَ ضَآلًا فَھَدٰی*
ترجمہ اور تمہیں اپنی محبت میں خودرفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی (کنزالایمان)
یہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کا ترجمہ ہے
*ضَالًا* کے ترجمہ میں بہت لوگ دھوکہ کھا کر بڑی غلطی کا ارتکاب کر بیٹھے
اعلی حضرت نے عشق نبوی کا جام پلانے کا ہی پیغام دیا ہے جس کا اظھار آپ کی تصانیف اور ملفوظات سے ہوتا ہے
25صفر المظفر 1440ء بروز اتوار مطابق 5نومبر 2018 کو آپ کے وصال کا سواں سال( 100 سواں )ہوتا ہے
جس کے لئے بریلی شریف میں اس سال صد سالہ عرس امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ منایا جارہا ہے دنیا بھر سے لوگ آستانہ اعلی حضرت پہ عقیدت و احترام کا جذبہ لیکر حاضر ہورہے ہی
اخیر میں دعا ہے کہ خدا وند قدو س ہم کوتعلیمات اعلی حضرت پہ گامزن فرمائے آمین
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں