لوگ ڈاؤن میں مزدوروں پر قہر/ ذمہ دار کون ؟... :ایس التمش مصباحی

لاک ڈاؤن میں مزدوروں پر قہر/ذمہ دار کون؟ 

تحریر : ایس التمش مصباح

ملک میں چوتھی بار لاک ڈاؤن میں ہوئی توسیع سے جہاں تمام شہری مضطرب ہیں، وہیں وطن عزیز کی معیشت (جی ڈی پی) کو مضبوط کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کرنے والا غیر رہائشی مزدور طبقہ نالاں و ششدر ہیں, جو زیادہ تر بہار, بنگال اور اترپردیش کے علاقوں سے ہجرت کرکے ملک کے مختلف صنعتی شہروں جیسے ممبئ، دہلی،احمدآباد وغیرہ میں جاتے ہیں تاکہ نہ صرف اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرسکیں بلکہ ملک کے اندرونی پیداوار کی شرح میں اضافہ بھی ہوں,

آج کورونا کے قہر سے پوری دُنیا کے ساتھ ہمارا ملک بھی جوجھ رہا ہے تو عالمی ادارہ صحت کے تحت چلنے والا صحت ایمرجنسی پروگرام کے چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل ریان (Michael Ryan) کا کہنا ہے کہ "بھارت جو آبادی کے لحاظ سے چین کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے وہاں اس عالمی وبا سے لڑنے کے لئے لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل آوری از حد ضروری ہے, وہیں دوسری طرف ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ طویل قفل بندی سے معیشت میں کافی برا اثر پڑنے والا ہے,



لیکن ان سب کے بیچ وزیراعظم مودی اینڈ کمپنی کے اعلان سے ملک کے تمام شہری پچھلے پچاس سے زیادہ دنوں سے گھروں میں محصور و مقید ہیں، ایسے ناساز حالات میں ان غیر رہائشی مزدوروں کی حالت زار کا اندازہ لگائیے جو ان شہروں میں کرایہ کے مکانوں کے ایک ایک کمرے میں دس دس, بیس بیس مزدور رہنے پر مجبور ہیں اور اس پر غضب یہ کہ اتنی لمبی قفل بندی میں کام کاج کی عدم فراہمی کی وجہ سے بے سروسامانی کی خوفناک کیفیت انہیں اپنا گھر کوچ کرنے پر مجبور کر رہی ہے، نتیجتاً مرکزی اور بعض صوبائی حکومتوں کی بے فکری اور بے اعتنائی کے سبب بے چارے مزدور ہزاروں کی تعداد میں بے یارو مددگار اپنے اہل وعیال کے ساتھ دو-دو ہزار کلومیٹر تک کا طویل ترین سفر پر پیدل ہی نکل پڑے, دوران سفر جس طرح بھوک و پیاس کی شدت ,راہ کی صعوبتوں اور جان فشانیوں کی جو تصویریں شوسل میڈیا سے موصول ہوئیں ان سے ہر درد مند انسان کی روح کانپتی ہوگی,چشم پرنم سے سیل رواں جاری ہوگی, لیکن بے حس رہبران وطن کے کانوں میں جو تم نہیں رینگے, پھر یکے بعد دیگرے, کہیں ریل کی پٹریوں میں تو کہیں روڈ کے کنارے,اور کہیں انہی مزدوروں سے بھڑے ٹرکوں کا تصادم سے جس طرح کی دردناک اور خوفناک اموات واقع ہوئیں یہ حکومت وقت کی ناکامی کا بین ثبوت ہے،،،،

ملک میں کورونا کا پس منظر ملاحظہ کیجیے

ذرا غور کیجئے کہ جب ملک میں کورونا کا پہلا معاملہ ٣۰ جنوری کو سامنے آگیا تھا اور اس کے بعد ہی سے کورونا، چین سمیت ایران اور اٹلی وغیرہ ممالک میں اپنا قہر برپا کر رہا تھا، تب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ملک کے بین الاقوامی پروازوں کو رد کر انٹرنیشنل ایئرپورٹس کو مکمل سیل کر دیتے, لیکن عین اسی وقت ہمارے وزیراعظم صاحب سوا لاکھ لوگوں کے ساتھ احمدآباد کے سردار پٹیل اسٹیڈیم میں امریکی صدر کے اعزاز میں "نمستے ٹرم” کے نام سے ایک زور دار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کئے ، اس پر بالاۓ ستم یہ کہ بیرون ممالک میں رہ رہے بھارتی باشندوں حکومت واپس وطن لائی،

حالانکہ اچانک لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے پہلے ذرا ان غریب مجبور اور بے بس غیر رہائشی مزدوروں کی فکر کر لیتے, ان کی رہائش اور خورونوش کا وہیں انتظام کرتے یا باحفاظت انہیں اپنے گھر پہنچا دیتے,,,, لیکن ایسا نہیں کر حکومت وقت نے اپنی امیر دوستی اور غریب مزدور برادان وطن سے لا تعلقی کا جو ثبوت دیا ہے وہ ایک جمہوری مملکت کے اصولوں کے منافی ہے,,,,

بقول استاد بریلوی

سڑک اور پٹریوں پر کیسی آفت ہو رہی ہے

یہ مزدوروں پہ نازل کیوں مصیبت ہو رہی ہے

کوئی "نیتا”کہاں سنتا ہے بے کس کی صدائیں

"رعایا کے جنازوں پر سیاست ہو رہی ہے”
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں