معین العلماء حضرت علامہ معین الحق علیمی مصباحی علیہ الرحمہ! چند یادیں چند باتیں : از مبارک حسین مصباحی

معین العلما حضرت علامہ معین الحق علیمی مصباحی علیہ الرحمہ

چند یادیں چند باتیں

از: مبارک حسین مصباحی 

استاذ جامعہ اشرفیہ


معین العلماء حضرت علامہ معین الحق علیمی مصباحی کا ۲۹؍ رمضان المبارک ۱۴۲۱ھ/۲۳؍ مئی ۲۰۲۰ء میں لگ بھگ ۱۲؍ بج کر ۲۵؍ منٹ پر ممبئی ہاسپیٹل میں وصال پر ملال ہو گیا۔ ہم نے قریب پون بجے فیس بک پر یہ اندوہناک خبر پڑھی، مزید یقین کے لیے ممبئی رابطہ کیا ، خبر صحیح تھی، ہم نے کلمات استرجاع کے بعد چند سورتیں پڑھ کر حضرت علیہ الرّحمہ کی روح پر فتوح کو ایصال ثواب کیا ۔ حضرت سے ہماری کثیر ملاقاتیں تھیں، وہ علم و عمل کے پیکر ، بلند اخلاق و کردار کے حامل ، دور اندیش، مثبت فکر اور منصوبہ بند شخصیت کے حامل تھے۔ آپ جامعہ اشرفیہ کے نام ور فاضل اور دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی ، بستی کے صدر اعلیٰ تھے، فراغت کے بعد آپ ممبئی میں مقیم تھے، بڑوں کا ادب، احباب سے محبت خوب فرماتے تھے، آپ نے ممبئی اور دیگر مقامات کے افراد کو دار العلوم علیمیہ سے بہت قریب کر لیا تھا، آپ کی رہنمائی میں دارالعلوم علیمیہ کے لیے بڑا تعاون ہوتا تھا، علیمی برادران ملک اور بیرون ملک اپنے اہم کارناموں سے خوب پہچانے جاتے  ہیں ـ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے اساتذہ سے خوب محبت فرماتے تھے ۔ جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی قدس سِرہ سے ٹوٹ کر محبت فرماتے تھے، موجودہ سربراہِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ حضرت علامہ شاہ عبد الحفیظ سجادہ نشیں خانقاہ عزیزیہ دامت برکاتہم العالیہ سے بے پناہ عقیدت و محبت فرماتے تھے۔ راقمِ سطور سے بھی حد درجہ محبت و شفقت فرماتے تھے۔ آپ کی نمازِ جنازہ لاک ڈاؤن کے باوجود ناریل باڑی قبرستان ممبئ میں ادا کی گئی۔ معین المشائخ حضرت علامہ سید شاہ معین الدین اشرف اشرفی جیلانی نے نمازِ  جنازہ پڑھائی۔ شرکاے نمازِ َ کے وصال سے حد درجہ متاثر تھے۔

حضرت علامہ معین الحق علیمی کی شخصیت و فکر سے ہم بہت پہلے سے واقف تھے۔ ۱۹۹۲ء میں دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی میں عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی، اس تاریخی کانفرنس میں دار العلوم علیمیہ کے سرپرست اعلیٰ ، قائدِ اہلِ سنت حضرت علامہ شاہ احمد نورانی، تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختر رضا قادری ازہری، شارحِ بخاری حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی ، رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری، غازیِ ملت حضرت علامہ سید محمد ہاشمی میاں کچھوچھوی، عزیز ملت حضرت علامہ شاہ عبد الحفیظ سربراہِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ مبارک پور وغیرہ ایک سے ایک یکتاے روزگار شخصیات تھیں۔ حقیر مبارک حسین مصباحی عفی عنہ بھی مدعو تھا۔ اس عظیم الشان کانفرنس کی مکمل قیادت فرما رہے تھے معین العلما حضرت علامہ معین الحق علیمی علیہ الرّحمہ ۔ اس کانفرنس کی بہت سے یادیں ذہن میں محفوظ ہیں ، خاص بات یہ تھی کہ حضرت قائدِ اہلِ سنت قدس سرّہ کی زندگی میں پہلی بار زیارت ہوئی، ان کی علمی اور نورانی مجلس میں بیٹھ کر استفادہ کرنے کا شرف بھی حاصل کیا۔ حضرت قائدِ اہلِ سنت نے فارغین کو بخاری شریف کی تکمیل کے موقع پر اپنے مخصوص لب و لہجہ میں بڑا ایمان افروز خطاب فرمایا۔ آپ نے عاشقِ رسول ﷺ حضرت شاہ محمد بن اسماعیل بخاری قدس سرّہ کے مزار اقدس کا ذکر خیر فرمایا کہ ان کی بارگاہِ رسول ﷺ میں مقبولیت کی زندہ کرامت یہ ہے کہ ان کے مزارِ پاک کی مٹی سے خوشبو پھوٹتی ہے، فرمایا: ہم نے خود دور سے سونگھے تھی اور قریب جا کر ہاتھ میں لے کر اسے سونگھا تو دل و دماغ معطر ہو گئے۔

ہم نے دار العلوم علیمیہ میں متعدد بار حاضری کا شرف حاصل کیا ، ہم ممبئی جاتے تو اکثر اوقات ان سے شرفِ نیاز حاصل کرنے کے لیے علیمی دربار ہوٹل، مصطفےٰ بازار میں حاضری دیتے، حضرت دیکھتے ہی فرطِ مسرت سے جھوم اٹھتے۔ حضرت نے متعدد بار مصطفیٰ بازار کے صحن میں عاشورۂ محرم میں دس روزہ پروگرام میں بولنے کی دعوت پیش  فرمائی مگر افسوس ہم اپنی مصروفیت کی وجہ سے موقع نہیں نکال سکے اور بڑے ادب سے معذرت کر لی۔ آج احساس ہو رہا ہے کہ کاش حاضر ہو جاتے تو کم از کم بارہ دن ان کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل کر لیتے۔متعدد بار دس محرم الحرام کو عرس مبلغِ اسلام میں سامعین سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل کیا ۔ ایک بار مفتیِ اعظم یورپ حضرت مفتی محمد شفیق الرحمٰن عزیزی  مصباحی ممبئی میں جلوہ گر تھے، آپ نے باضابطہ دعوت کا اہتمام کیا، ہمیں پہنچنا تھا مبلغِ اسلام ریسرچ سینٹر ممبئی، وہاں معین العلما حضرت علامہ معین الحق علیمی علیہ الرّحمہ پہلے سے موجود تھے۔ حضرت مولانا محمد عرفان علیمی دام ظلہ العالی بھی تشریف فرما تھے، ہم پہنچے، بڑے تپاک سے سب لوگوں نے ہمیں لیا، ان تمام بزرگوں نے یادگار اعزازیہ بھی پیش فرمایا اور پھر بعد میں ایک ہوٹل میں لذتِ کام و دہن کے لیے بھی لے کر گئے، فجزاہم اللہ تعالیٰ خیر الجزاء۔

چند سال پیشتر ۲۵؍ محرم الحرام کو ان دونوں کے ساتھ محبِ گرامی وقار حضرت علامہ فروغ احمد اعظمی سابق صدر المدرسین جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بھی تھے، شاید کچھ اور حضرات بھی تھے، معین المشائخ حضرت علامہ سید شاہ معین الدین اشرفی جیلانی کی دعوت پر کچھوچھہ تشریف لائے۔ خانقاہ عالیہ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ  کے سجادہ نشین آپ ہی ہیں۔ تارک سلطنت غوث العالم مخدوم سید اشرف سمنانی قدس سرّہ کے آستانے پر مین گیٹ کے قریب ایک یادگار پروگرام سے عرس مقدس کا آغاز ہوتا ہے ، اس پروگرام میں ماشاء اللہ ان تمام بزرگوں نے شرکت کا شرف حاصل کیا اور بعد میں حضور معین المشائخ کے حجرۂ خاص میں ہم طعامی اور ہم کلامی کا شرف بھی ہم نے حاصل کیا۔

دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی ، بستی یوپی انڈیا کے ترجمان ماہ نامہ پیامِ حرم کا مبلغِ اسلام نمبر:

چودہویں صدی ہجری کے عظیم ترین داعی، خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، مبلغِ اسلام حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی مہاجر مدنی [متوفیٰ:۱۳۷۴ھ-۱۹۵۴ء] اور ان کے صاحب زادے قائدِ اہلِ سنت حضرت علامہ شاہ احمد نورانی علیہما الرحمۃ والرضوان کی حیات، علمی و تبلیغی فتوحات ، دینی قیادت و امامت، سیاسی بصیرت، ارشاد و دعوت اور دیگر گراں قدر خدمات و کارناموں پر مشتمل وقیع تاریخی دستاویز۔ ۹۱۲؍ صفحات کے اس گراں قدر نمبر کی جمع و تدوین کا فریضہ انجام دیا ہے معروف قلم کار حضرت مولانا صادق رضا مصباحی دام ظلہ العالی اور مستند عالمِ دین حضرت مولانا کمال احمد علیمی نظامی دام ظلہ العالی نے اور حق یہ ہے کہ دونوں با صلاحیت علماے کرام نے جمع و تدوین کا حق ادا فرما دیا ہے۔

زیرِ سرپرستی ہے مفتیِ اعظم یورپ حضرت علامہ مفتی محمد شفیق الرحمٰن عزیزی مصباحی، خطیب و امام و مفتی طیبہ مسجد ایمسٹرڈم، ہالینڈ۔ بفضلہٖ تعالیٰ مخلص و کرم فرما نے صرف علمی سرپرستی نہیں فرمائی بلکہ اس کے اشاعتی امور میں بھی گراں قدر حصہ لیا ہے۔ دوسرے بڑے معاون ہیں حضرت مولانا عبد الغفار بیچن نورانی ، ہالینڈ۔

حضرت مفتی شفیق الرحمٰن عزیزی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے نامور اور مقبول ترین فاضل ہیں ۔ آپ ماشاء اللہ عہدِ طالب علمی میں بھی حضور عزیزِ ملت سربراہِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ سے بہت قریب تھے، اپنے ذوقِ علم اور طلبِ فضل کی وجہ سے اپنے اساتذہ کی آنکھوں کی بھی ٹھنڈک تھے۔ جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی قدس سرّہ العزیز  کے مرید صادق ہیں ، آپ کی تعمیر و ترقی میں حضور حافظِ ملت کی دعاؤں کا بڑا گہرا اثر ہے۔ اسی نسبت و ارادت کی وجہ سے لفظ ”عزیزی“ آپ کے اسمِ گرامی کا جز ہو گیا۔

اب ہم آتے ہیں محسنِ قوم و ملت معین العلما حضرت علامہ معین الحق علیمی مصباحی سابق صدر اعلیٰ دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یو پی  علیہ الرحمۃ والرضوان کی جانب ، آپ نے اس عظیم نمبر کا سارا اہتمام فرمایا ، مضامین و مقالات اور تاثرات حاصل کرنے اور ۲۰۰۹ء میں دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی میں بین الاقوامی مبلغِ اسلام سیمینار کرانے کی ساری ذمہ داریاں سنبھالیں اور اپنے اہم معاونین علما اور اساتذہ سے تمام امور بحسن و خوبی انجام دلوائے۔ اس عظیم و ضخیم نمبر پر نظرِ ثانی کی خدمات ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم مصباحی، صدر شعبۂ اسلامک اسٹڈیز ، جامعہ ہمدرد نئی دہلی نے انجام دیں۔

پہلے ابتدائیہ ہے جس میں چند قلم کاروں کی گراں قدر تحریریں ہیں ۔

آغاز میں ”صداے دل “ کے عنوان سے حضرت علامہ معین الحق علیمی علیہ الرّحمہ نے چند بنیادی احوال رقم فرمائے ہیں۔ حضرت علامہ علیمی علیہ الرّحمہ اپنی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے کتابوں کے مصنف تو نہیں ہو سکے، مگر جب لکھتے تھے تو لگتا تھا کہ کوئی عظیم قلم کار ہے، زبان و بیان کی پختگی، معروضانہ لب و لہجہ ، فصاحت و بلاغت کے بامِ عروج سے کوئی نہر جاری ہے۔ تحریر کا رخ ہمیشہ مثبت اور تعمیری ہوتا تھا، ان کی شخصیت  کا بانکپن ان کی تحریر سے مترشح ہوتا تھا۔ ”صداے دل“ واقعی صداے دل ہے۔

سب سے پہلے آپ نے خلیفۂ اعلیٰ حضرت مبلغِ اسلام  حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی مہاجر مدنی قدس سرّہ کے اجمالی احوال تحریر فرمائے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

”ماضی قریب میں رسول اکرم ﷺ کی داعیانی نیابت کا فریضہ جس حسن و خوبی، بصیرت، حکمتِ عملی اور جذبۂ دینی کے ساتھ مبلغِ اسلام حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرّحمہ نے انجام دیا اس کی مثال ماضی قریب کی صدیوں میں بھی بمشکل ملتی ہے۔“ [ص:۲۰]

آپ  نے حضرت مبلغِ اسلام قدس سرّہ کے  دعوت و تبلیغ کے وصف کو صدیوں میں ممتاز قرار دیا ہے، بلا شبہہ آپ کے اس امتیاز کو اپنوں ہی نے نہیں غیروں نے بھی ببانگِ دہل تسلیم کیا ہے۔ اس کے بعد آپ لکھتے ہیں:

” ایک محتاط روایت کے مطابق آپ کے دست حق پرست پر ستّر ہزار لوگوں نے اسلام قبول کیا۔“ [ص:۲۰]

مبلغِ اسلام علیہ الرّحمہ نے دعوت و تبلیغ کے لیے کسی ایک علاقے کا انتخاب نہیں فرمایا، بلکہ پوری دنیا کے اکثر علاقے آپ کے تبلیغی مشن کے نشانے تھے، اسی طرح مدعووین کا بھی کوئی مخصوص طبقہ مدِ نظر نہیں بلکہ متعدد زبانوں میں لکھنے اور خطاب کرنے کی صلاحیت سے لیس تھے۔ آپ نے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، سنی، دیوبندی، غیر مقلد، قادیانی  اور دہریے، دنیا کا تقریباً ہر فرد آپ کا مخاطب ہوتا، دنیا کے عوام و خواص آپ کے مدعو ہوتے، بعض سامعین الجھانے کی کوشش کرتے مگر آپ خدائی نظامِ تبلیغ ادعوا إلی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ پر عمل فرماتے تھے۔

اسی طرح آپ کسی ملک کی دعوت کا انتظار نہیں فرماتے، بلکہ آپ کسی بھی ملک میں دعوت و تبلیغ کی ضرورت محسوس فرماتے، تنہا تشریف لے جاتے اور واپس آتے تو آپ کے دعوتی کردار،بلند  اخلاقی اور تقویٰ شعاری سے متاثر ہو کر شیدائیوں کی ایک بھیڑ آپ کو رخصت کرنے کے لیے آتی۔ آپ نے دنیا کے بیشتر ممالک میں مدارس، مساجد، مکاتب، تنظیمیں اور مراکز قائم کیے، جنھوں نے آپ کے عہدِ حیات میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں، اور آج بھی دے رہے ہیں یہی حال آپ کے لختِ جگر قائدِ اہلِ سنت حضرت علامہ شاہ احمد نورانی  نے عالمی سطح پر کیا اور اب آپ کے شہزادے حضرت علامہ شاہ محمد انس نورانی صدیقی ، کراچی، پاکستان دامت برکاتہم العالیہ بھی اسی ڈگر پر بآں فضل و کمال مصروفِ عمل ہیں۔ 

مبلغِ اسلام قدس سرّہ کے مریدین و متوسلین  کی بڑی لمبی تعداد دنیا کے مختلف گوشوں میں موجود تھی۔ آپ کے ایک مرید صادق جمدا شاہی بستی کے الحاج سیٹھ شمس الحق علیمی علیہ الرّحمہ تھے، آپ نے مصطفےٰ بازار ممبئی میں علیمی دربار ہوٹل جاری کر رکھا تھا، خانوادۂ علیمیہ کے بزرگوں کا آپ کی قیام گاہ مصطفےٰ بازار، ممبئی میں آمد و رفت رہتی تھی، حضرت مبلغِ اسلام سیٹھ مرحوم کو اپنے حقیقی بیٹوں کی طرح مانتے تھے۔ الحاج سیٹھ شمس الحق علیمی  کو مرشدِ گرامی نے حکم دیا کہ آپ جمدا شاہی، بستی میں ایک دینی ادارہ قائم کریں، آپ نے اپنے احباب سے مشورہ فرماکر مدرسہ علیمیہ قائم کیا، پھر بعد میں دار العلوم علیمیہ ہو گیا۔ الحاج سیٹھ شمس الحق علیمی مرحوم دار العلوم علیمیہ کے تاحیات صدر رہے، ان کے وصال کے بعد ان کے لختِ جگر حضرت مولانا معین الحق علیمی مصباحی علیہ الرّحمہ اس کے صدر اعلی رہے۔ 

آپ کی محنت اور تدبیر سے اس دار العلوم کا الحاق ہند کی متعدد یونیورسٹیز سے ہو گیا ہے، جامع ازہر مصر میں بھی اس کی اسناد کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ آپ کے دورِ صدارت میں ۴۸؍ کمروں پر مشتمل ایک عظیم الشان درس گاہ کی تعمیر بنام القصر النورنی مکمل ہوئی، دیگر قابلِ ذکرتعمیری خدمات بھی ہوتی رہی ہیں۔

آپ نے ۲۵؍ ۲۶؍ مارچ ۲۰۰۹ء کو جمدا شاہی بستی میں عالمی سیمینار و کانفرنس کا انعقاد کیا ، پہلے دن حضرت مبلغِ اسلام کی حیات و خدمات پر مقالا و مضامین پیش کیے گئے، جب کہ دوسرے دن قائدِ اہلِ سنت حضرت علامہ شاہ احمد نورانی پر مدعووین نے اپنے فکر و قلم کے جوہر دکھائے۔

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ اپنے خاص فضل و کرم سے آپ علیہ الرّحمہ کی خوب خوب مغفرت فرمائے، اہلیہ محترمہ، اولاد، امجاد اور تمام پس ماندگان کو صبر و شکر کی توفیق عطا فرمائے، اور حضرت کو ۲۹؍ رمضان المبارک کی برکتوں سے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے چھوٹے ہوئے مشن کو کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنے حبیب ﷺ کے طفیل نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین۔

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں