کورونا افسانچوں کی بھیڑ میں ایک اور سہی ۔۔ قرنطینہ ( افسانچہ : پروفیسر جاوید نہال حشمی

کورونائی افسانچوں کی بھیڑ میں ایک اور سہی ...... احباب ملاحظہ فرمائیں اور اپنی رائے سے نوازیں۔


قرنطینہ (افسانچہ)
*******************************


 از:جاوید نہال حشمی


آبادی سے بہت دور جنگل کے قریب واقع یہ چھوٹا سا گاؤں قبائلیوں سے بسا ہوا تھا۔لیکن آج یہ اجڑ کر تقریباً شمشان بن چکا تھا۔ صرف پولیس اور میڈیکل ٹیموں کے دستے  موجود تھے۔سبھوں کے چہرے ماسک سے  اور ہاتھ دستانوں میں ڈھکے ہوئے تھے۔کھانستے اور ہانپتے تمام لوگوں کو گاڑیوں میں بھر بھر کر شہر کے اسپتال میں پہنچایا جا چکا تھا اور ان کےجملہ افرادِ خانہ کو قرنطینہ مراکز میں شفٹ کئے جانے کے انتظامات کئے  جا رہے تھے۔اب صرف چند لاشیں بچی تھیں جنہیں پوسٹ مارٹم کے لئے لے جانے کی تیاری چل رہی تھی۔
ابتدائی تحقیق کے مطابق شہر سے جنگل میں آئے کسی شکاری  نے گاؤں والوں میں سے کسی سے  پانی مانگ کر پیا تھا، اور اسی سے پورا گاؤں اس مہلک وبائی بیماری کا شکار ہو گیا تھا۔گاؤں کے ہیلتھ ہوم کے واحد ڈاکٹر  کو برطرف کر دیا گیا تھا۔ وہ ہفتے میں دو ایک بار ہی چہرہ دکھاتا تھا، اور پچھلے دو ہفتوں سے گاؤں میں نظر ہی نہیں آیا تھا۔
اچانک انسپکٹر کی نظر ایک چھوٹی سی خستہ حال چھونپری پر پڑی جس کی  ایک ٹوٹی دیوار سے وہ اندر بندھی بکریوں کو دیکھ سکتا تھا۔مگر اس کے ساتھ کھڑے دیگر لوگ بھی چونک پڑے جب  اس کے دروازے پر ایک نوجوان، نحیف اور قدرے گندے کپڑوں میں ملبوس ایک عورت  کھڑی  نظر آئی۔ وہ اپنی غنودہ آنکھوں سے کبھی انہیں  اور کبھی اس مکان کی طرف حیرت سے دیکھ رہی تھی جس کے سبھی مکین شہر لے جائے جا چکے تھے۔ افسروں کے چہروں پر بھی تعجب کی علامتیں تھیں کیوں کہ وہ عورت نہ تو کھانس رہی تھی اور نہ ہی ہانپ رہی تھی، بس نقاہت طاری تھی۔
چھونپڑی کے اندر برتن، گلاس، پانی کی بالٹی اور کچھ پرانے کپڑے وغیرہ رکھے دیکھ کر انسپکٹر پوچھ بیٹھا:
”تم یہاں اس گندگی میں کیا کر رہی ہو؟“
”کیا بات کرو ہو صاحب۔ ہم تو ہر مہینہ چھ سات روج ہیاں کٹاوت ہیں۔پھر صاف صفائی کے بعداپن لوگ  میں لوٹ جات ہیں ...“
وہ ہنوز خالی مکان کی طرف حیرانی سے دیکھے جا رہی تھی  !
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں