تبصرہ وتعارف : کتاب کا نام: آںٔینہ ہند اخی سراج الدین عثمان: احوال و آثار۔۔۔تبصرہ نگار : توفیق احسن برکاتی

نام کتاب : آئینہ ہند اخی سراج الدین عثمان: احوال وآثار

مصنف : مفتی عبدالخبیراشرفی مصباحی
صفحات: ۳۲۰
اشاعت: ۱۴۳۹ھ / ۲۰۱۸ء
ناشر: شیخ الاسلام ٹرسٹ ، احمدآباد، گجرات
قیمت : ۳۰۰؍روپے

سوانح نگاری تحقیق کی ذیلی شاخ ہے ، جس میں تاریخ نویسی کا رنگ بھی ہوتا ہے اور تجزیہ نگاری کی خو،بو بھی ، کچھ یہی حال تذکرہ نویسی کا بھی ہے ، یہ شغل حد درجہ تلاش و تفتیش اور بے پناہ احتیاط و دیانت داری کا متقاضی ہے ، فکر و ذہن کو قدم قدم پر سخت آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے ، بسا اوقات محقق کا دامن کانٹوں میں الجھتا ہے اور قلم غلط نشان کھینچ دیتا ہے ۔ اسی لیے اس کام کو انتہائی دشوار گزار قرار دیا گیا ہے ۔ سوانح، تذکرہ اور ترجمہ نگاری کے افق پر بڑی تیزی سے ابھرتا ہوا نام جامعہ اشرفیہ کے فاضل مفتی عبدالخبیر اشرفی [پرنسپل دارالعلوم عربیہ اہل سنت منظر اسلام ، التفات گنج ، ٹانڈہ ، امبیڈکر نگر، یوپی]کا ہے جنھوں نے بہت کم مدت میں صبا رفتار قلم کاری کا جوہر دکھایا ہے اور ’’حیات مخدوم العالم‘‘ [سوانح شیخ علاء الحق پنڈوی] اور’’آئینہ ہند اخی سراج الدین عثمان : احوال وآثار‘‘ جیسی گراں قدر کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ اس سے قبل وہ جید علما و محققین کے کئی نادرو نایاب رسائل کا اردو ترجمہ کر چکے ہیں جن میں ’’شان اہل بیت ، خاموشی کے محاسن و فوائد ، جنتی والدین ، انیس الغرباء ، جنت کی کنجی ، اہل شریعت وطریقت کی پہچان ‘‘ کا نام نمایاں ہے ، اب وہ شاہ علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کے فرزند ’’شیخ نور قطب عالم کی سوانح‘‘ اور’’ ملفوظات شیخ عمر علاء الحق پنڈوی‘‘ جیسے اہم موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کس مزاج کے آدمی ہیں اور ان کی فکر و قلم کے دبستان میں کس طرح کے پھول کھلنے والے ہیں ، مجھے امید ہے کہ وہ اپنا ریسرچ ورک مسلسل جاری رکھیں گے اور دنیاے علم کا نت نئی دنیاؤں سے رابطہ ہوتا رہے گا ۔
صاحب سوانح [حضرت اخی سراج الدین عثمان علیہ الرحمہ: متوفی :۷۵۸ھ] سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیا کے خلیفہ ، سلسلہ سراجیہ کے بانی اور مرشد ِمخدوم سمنانی شاہ علاء الحق پنڈوی کے مرشد ومربی ہیں ، بہ زبان مرشد ’’آئینہ ہندوستان ‘‘ سے ملقب ہیں ، علم و فضل ، سلوک و تصوف ، زہد و ورع ، اخلاص و بندہ پروری اور فداکاری جیسی خوبیوں اور کمالات سے متصف تھے ، معلی القاب تھے ، زبان و قلم کے دھنی اور بیان کے ماہر تھے ، بحر حقیقت کے غواص اور شرعی علوم و عملیات کے جامع تھے، ان کی بارگاہ ایک بافیض درس گاہ سمجھی جاتی تھی اور آج ان کا مزار پُر انوار کرم کا منبع مانا جاتا ہے ۔ وہ مرشد طریقت تھے ، مربی تھے ، انسانیت نواز ، کردار ساز اور صاحب اعزاز تھے ،ان کا ظاہر و باطن یکساں اور مجلا و مصفیٰ تھا، جوہر علم اور گوہر معرفت لٹانے کا جذبہ صادق رکھتے تھے ، جن کے فیض یافتگان میں شاہ علاء الحق پنڈوی جیسے مرد حق آگاہ کا نام آتا ہے جنھوں نے بڑی تمناؤ ں سے اپنے مرید و خلیفہ حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ کو سنوارا اور راہِ معرفت پر چلا کر فیض وکرامت کا سدرۃ المنتہیٰ بناڈالا۔
جماعت اہل سنت میں اب ایسے قلم کار ومصنفین سامنے آ رہے ہیں جو قدیم اور انتہائی اہم موضوعات اور عناوین کو ٹاریگیٹ کرتے ہیں، مہتم بالشان اخلاقی موضوعات پر مبنی عربی و فارسی کتب و رسائل کے تراجم بھی ہو رہے ہیں اور قدیم کتب کو جدید رنگ و آہنگ میں پیش کرنے کا انداز زور پکڑ رہا ہے اور ناشرین انھیں طبع کراکے عام کر رہے ہیں ، ان میں ایک بڑا نام اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن ، حیدرآباد دکن کا بھی ہے جس کے روح رواں محترم بشارت علی صدیقی لائق تبریک ہیں جنھوں نے اپنی تمام تر توجہات کا قبلہ انھی جیسے کاموں کو بنایا ہے اور ہر سال کچھ ایسی کتابیں وہ مصنفین و محققین اہل سنت سے ترجمہ و تالیف کراکے اپنی نگرانی میں شائع کرتے ہیں ۔ یہ کتاب بھی ان کی مہربانیوں کا حصہ اور ان کی خوش ذوقی کی نشانی ہے، جسے شیخ الاسلام ٹرسٹ ، احمدآباد ، گجرات نے شائع کیا ہے ۔اس سے قبل فاضل مصنف سے انھوں نے ’’مخدوم العالم‘‘ جیسی کتاب لکھوائی تھی ،جس کے لیے مصنف ومہربان دونوں مبارک باد کے مستحق ہیں ۔
زیر نظر کتاب اٹھارہ ابواب پر مشتمل ہے جو درج ذیل ہیں :
[۱]تذکرہ و تعارف [۲] مقام پیدائش کا تحقیقی و تجزیاتی جائزہ [۳]اودھ یا اجودھیا: مختصر قدیم تاریخ [۴]قربتیں اور فاصلے [۵]نام و نسب اور آبا و اجداد [۶] مرشدِطریقت کا انتخاب[۷]تحصیل علم اور تبحر علمی [۸] تعلیم و تربیت کی تکمیل اور خلافتوں کا حصول [۹] دہلی سے پنڈوہ شریف کا سفر [۱۰] پنڈوہ شریف وُرود مسعود اور شیخ کی ارادت[۱۱]اساتذہ و مربیین [۱۲]دوبارہ دہلی کا سفر اور بنگال واپسی [۱۳]فضائل وشمائل [۱۴]دورِ اخیر کے سیاسی حالات [۱۵]خدمات اور کارنامے [۱۶] مریدین اور خلفاے کرام [۱۷]نسبتیں اور خانقاہیں [۱۸]آئینہ ہند پر لکھی گئی بعض تحریروں پر نقد ونظر۔
ان ابواب کا پھیلاؤ ، بحثوں کی جمع آوری اور ان کا تجزیاتی مطالعہ مصنف کے نقطۂ نظر کی تفہیم میں مدد دیتا ہے ،اگر چہ مذکوہ اٹھارہ ابواب کو دس ابواب میں سمیٹنا کچھ مشکل نہیں تھا کیوں کہ جن سرخیوں کو باب بنایا گیا ہے انھیں بہ آسانی ذیل عنوان دیا جاسکتا تھا ، پھر بھی جو ہے بھرپور ہے اور مصنف کی محنت شاقہ کا منہ بولتا ثبوت بھی۔ ابتداء ً یہ ایک سوانحی تذکرہ ہے لیکن کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں تاریخی حقائق کی جلوہ گری ہے ، تحقیق کے ساتھ تنقیدی رویہ بھی موجود ہے اور تجزیاتی حسن بھی ہے ۔مصنف نے تحقیق کا دامن کہیں بھی نہیں چھوڑا ہے ، ان کی ہر بات حوالوں کی کہکشاؤں سے گھری ہوئی ہے جس کا ثبوت کتاب کے اخیر پانچ صفحات میں موجود ۸۱؍ کتب و رسائل کی فہرست ہے جسے انھوں نے ’’مصادر و مراجع ‘‘کا عنوان دیا ہے ۔ مصنف کو اکثر ابواب میں اختلافی امور کا تصفیہ کرنا پڑا ہے ، بطور خاص دوسرے ،پانچویں، ساتویں، پندرہویں اور اٹھارہوں باب میں ان کی فکر ِرسا کا رنگ اور قلم کاری کا جلوہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔کتاب کے تعلق سے مرشد اجازت شیخ الاسلام مفتی سید محمد مدنی اشرفی جیلانی دام ظلہ کا تاثر ہے : ’’مولانا موصوف نے قدیم و جدید کتابوں سے عرق ریزی کرکے حضرت ممدوح علیہ الرحمہ کی زندگی کے تمام اہل واقعات وخدمات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے ، بہت سی پوشیدہ باتوں کو بڑی محنت و کاوش سے تلاش و جستجو کرکے شامل کتاب کیا ہے جس سے کتاب کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ ‘‘[۳۲]
ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی لکھتے ہیں :’’یہ ذکر جمیل عزیز القدر مولانا مفتی عبدالخبیر اشرفی مصباحی زید علمہ وعطائوہ کے اَشْہَبِ تحقیق رقم کا تازہ شاہ کار ہے اور سلسلہ چشتیہ کے عملی موسس، صاحب فیوض نامتناہی ، محبوب الٰہی کے خلیفہ ، آئینہ ہند حضرت اخی سراج عثمان اودھی کی حیات وخدمات سے عبارت ہے ، جس میں زبان و بیان کی رعنائیاں اور بحث و تمحیص کی جلوہ سامانیاں باہم شیر وشکر ہو رہی ہیں ۔‘‘[۳۵]
 کتاب پر ان کے علاوہ مفتی محمود احمد رفاقتی ، مولانا سید جلال الدین قادری میاں اور مولانا شہباز عالم مصباحی کے گراں قدر تاثرات موجود ہیں جو کتاب اور صاحب کتاب کا اکتشاف کرتے ہیں اور مصنف کے حوصلوں کو تازگی فراہم کرتے ہیں ۔ ابتدا میں ممتاز پرگو شاعر مولانا محمد سلمان رضا فریدی [عمان]کی ایک طویل نظم ’’حضرت آئینہ ہند ‘‘کو جگہ دی گئی ہے جو ’’دریا در کوزہ ‘‘کی مثل کو سچ ثابت کر دکھاتی ہے ۔
حضرت آئینہ ہند کی حیات کے چیدہ چیدہ اوراق محدث اعظم ہند حضرت سید محمد کچھوچھوی علیہ الرحمہ نے اپنے قسط وار مضامین میں اجالنے کی کوشش کی تھی جو ماہ نامہ اشرفی [کچھوچھہ شریف] میں شائع ہوتے رہے ، یہ آئینہ ہند کے احوال کے نقش اول کا اجمالاً بیان تھا ۔ مفتی عبدالخبیر اشرفی کی زیر نظر کتاب تقریباً سات سو سال بعد طبع ہونے والا مفصل سوانحی تذکرہ ہے ،اس لیے بھی اسے ایک دستاویزی کتاب کا درجہ دیا جائے گا۔اس کتاب کے کئی ابواب دقت نظر سے مطالعہ کیے جانے کے لائق ہیں جن میں فاصل محقق نے اپنی تنقیدی تحقیق کا رنگ دکھایا ہے اور بحثیں نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں ، مثلاً دوسرا باب مقام پیدائش کا تحقیقی و تجزیاتی جائزہ ، جس میں ’’اودھی ‘‘،  ’’لکھنوتی ‘‘ اور ’’بنگالی ‘‘ کی تکونی سے پیدا ہونے والے شبہات کو مستند ماخذ کی روشنی میں دور کیا گیا ہے ۔ کئی قیمتی صفحات میں مختلف اقوال کاجائزہ لینے کے بعد لکھتے ہیں:
’’ حاصل کلام یہ ہے کہ آئینہ ہندوستان اخی سراج الدین عثمان اودھی رحمۃ اللہ علیہ راجح قول کے مطابق اودھ میں پیدا ہوئے ، یہیں پر آپ کا بچپن گزرا، ابتدائی تعلیم کی تکمیل ہوئی ، پھر اپنے والد گرامی کے ہمراہ ہجرت کرکے لکھنوتی ، بنگال تشریف لائے ، پھر اپنی والدہ محترمہ کی اجازت سے لکھنوتی بنگال کی سرزمین سے دہلی سلطان المشائخ سید محمد نظام الدین بدایونی ثم دہلوی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں تحصیل علم و معرفت کے لیے تشریف لے گئے ۔ ‘‘[۷۲، ۷۳]
اس باب کو پڑھتے ہوئے قاری کا ذہن فوراً آئینہ ہند کی تاریخ پیدائش و سن کی معلومات کا منتظر ہوگا لیکن اسے مایوسی ہوگی کیوں کہ مقام پیدائش کی تحقیق کے بعد تاریخ ولادت کی تحقیق سے یہ باب خالی ہے ، نہ اجمالاً اس کا بیان ہے نہ تحقیقاً اس پر کوئی روشنی ڈالی گئی ہے ۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس کے جملہ حقوق بہ حق مصنف محفوظ۔ہاں سن ِوصال کے ضمن میں مصنف اتنا لکھتے ہیں :
’’ آئینہ ہندوستان اخی سراج الدین عثمان اودھی رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخ ، ماہ اور سال پیدائش کی تفصیل ہمیں کسی معتبر کتاب میں ابھی تک نظر نہیں آئی ۔ اخبارالاخیار کا ترجمہ جو مولانا سبحان محمود اور مولانا محمد فاضل نے کیا ہے اس میں سال پیدائش ۶۵۶ھ اور سال وفات ۷۳۰ھ درج ہے۔ [۱۸۷]
کتاب کے پندرہویں باب میں حضرت اخی سراج علیہ الرحمہ کی رفاہی و فلاحی اور علمی وتصنیفی خدمات کا محاکمہ پورے شرح و بسط اور نقد ونظر کے ساتھ کیا گیا ہے ، جس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت اخی سراج نے جہاں عربی ، فارسی ،اردو اور بنگلہ زبان و ادب میں اپنے علمی نقوش چھوڑے ہیں وہیں انھوں نے درسیات میں مشہور کتاب ’’ ہدایۃ النحو، پنج گنج اور میزان الصرف‘‘ تالیف فرمائی ہے، البتہ ان کتابوں کا ان کے مصنفین سے انتساب قدرے اختلافی رہا ہے اور آج بھی ہے ، لیکن فاضل مصنف نے معتبر شواہد کی روشنی میں حضرت اخی سراج علیہ الرحمہ سے ان کے انتساب کو مجلا کیا ہے اور اخیر میں تحریر کیا ہے :
’’تصنیفات آئینہ ہندوستان اخی سراج الدین عثمان رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ’’ ہدایۃ النحو‘‘ بلا خلاف آ پ کی تصنیف کردہ ہے ۔ اس سلسلے میں کسی اور مصنف کا نام کسی نے بھی پیش نہیں کیا ہے ۔ ’’پنج گنج‘‘ اور ’’میزان الصرف‘‘ کے سلسلے میں محققین کا اختلاف ہے ۔ جمہور علما اور مؤرخین کے نزدیک یہ کتابیں بھی آپ ہی کی تصنیف کردہ ہیں اور مولانا ساجد علی مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی تحقیق یہ ہے کہ میزان الصرف علامہ محمد بن مصطفی بن الحاج حسن کی تصنیف کردہ ہے ۔ اس تعلق سے سارا حقیقی علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ، وہی بہتر جاننے والا ہے ۔ ‘‘[۲۳۲]

حاصل کلام یہ ہے کہ آئینہ ہند حضرت اخی سراج الدین عثمان علیہ الرحمہ کا یہ سوانحی تذکرہ اسلاف شناسی کا منہ بولتا ثبوت اور ایک اہم اخلاقی فریضے کی ادائگی ہے جس کے لیے مصنف و ناشر مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ اللہ یہ خدمت علم قبول فرمائے ، آمین__

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں