روزے کی نیت ( دوسری قسط ) اول کا لنک نیچے۔۔۔ نثار مصباحی

روزے کی نیت

(دوسری قسط) 


تحریر : نثار مصباحی

بہارِ شریعت میں ہے:
*"اگر رات میں نیت کرے* تو یوں کہے : نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ غَدًا لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ ھٰذَا ۔
’یعنی میں نے نیّت کی کہ ﷲ عزوجل کے لیے اس رمضان کا فرض روزہ کل رکھوں گا۔‘
*اور اگر دن میں نیّت کرے* تو یہ کہے: نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ ھٰذَا الْیَوْمَ لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ ۔
’میں نے نیّت کی کہ ﷲ تعالیٰ کے لیے آج رمضان کا فرض روزہ رکھوں گا۔"
بعض لوگ رات میں نیت کے لیے "بصوم غد نویت من شھر رمضان" یا اس سے ملتے جلتے الفاظ پڑھتے ہیں. یعنی لفظ "غد" اس میں بھی موجود ہے. برصغیر میں رمضان کے پوسٹرز اور اشتہارات میں یہ الفاظ کثرت سے شائع ہوتے ہیں, بلکہ بہت سے پوسٹرز میں رات اور دِن کے الگ الفاظ کی بجاے صرف "غد" کے لفظ کے ساتھ یہ کلمات شائع کیے جاتے ہیں, جب کہ مسئلے کی پوری وضاحت کے ساتھ دونوں طرح سے شائع ہونا چاہیے.
روزے کی نیت کے جو الفاظ بہارِ شریعت کے حوالے سے ہم نے ذکر کیے وہ امام ابوبکر الحداد الیمنی کی کتاب "جوہرۃ نیرۃ شرح قدوری" سے لیے گئے ہیں. امام ابو بکر الحداد الیمنی ایک عظیم فقیہ اور مفسرِ قرآن گزرے ہیں, جن کی وفات 800ھ یعنی آج سے 640 سال قبل ہوئی. ان کی "تفسیر الحداد" مطبوع ہے.
وہ "الجوہرۃ النیرۃ" اور "السراج الوہاج" اپنی دونوں کتابوں میں لکھتے ہیں:
"يقول إذا نوى من الليل: نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ غَدًا لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ. و إن نوى من النهار يقول: نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ ھٰذَا الْیَوْمَ لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ."
(1- السراج الوهاج، كتاب الصوم، مخطوط.
2-الجوهرة النيرة، كتاب الصوم، ج 1، ص 329، دار الكتب العلمية،بيروت.1427ھ,2006ء)
جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ روزے کی نیت اگر رات ہی میں کی جا رہی ہے تو اس نیت کے الفاظ میں "غداً" کا لفظ آیا ہے, لیکن اگر دِن میں نیت کی جا رہی ہے تو اس میں یہ لفظ نہیں ہے, بلکہ اس کی جگہ "ھذا الیوم" ہے.
اردو زبان میں "غدا/غد" کا عام معنی "کَل" ہوتا ہے اور "الیوم" کا *ایک* معنی "آج" ہوتا ہے.
بعض لوگوں کو یہ اِشکال ہے کہ نیت جب آج کے روزے کی ہو رہی ہے تو نیت میں "کَل"(غد) کا لفظ کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟
یہ اعتراض جہاں لفظِ 'غد' کے معنی سے اُن کی لاعلمی کی دلیل ہے وہیں یہ اُن کی غفلت کی بھی نشانی ہے. ہمارے فقہاے کرام نے صاف لکھا ہے کہ رات ہی میں روزے کی نیت کرے تو 'غد' کا لفظ استعمال کرے, اور اگر دِن میں نیت کرے تو اس کی جگہ 'ھذا الیوم' استعمال کرے.
اگر آدمی غفلت کا شکار نہ ہو تو یہ تفصیل دیکھتے ہی سمجھ جائے گا کہ لفظِ "غد" اور لفظِ "الیوم" کے معنی میں ضرور ایسی کوئی بات ہے جس کی وجہ سے رات کی نیت میں 'الیوم' نہیں ہے, اور دِن کی نیت میں 'غد' نہیں ہے.
خیر, اصل گفتگو سے قبل یہاں کچھ تمہیدی باتیں عرض ہیں :
۝ روزے کی ایک مخصوص مدت ہے, یعنی صبحِ صادق سے سورج ڈوبنے تک. روزہ نہ تو اس سے کم ہوتا ہے اور نہ ہی رات میں ہوتا ہے. لہذا روزہ صحیح ہونے کے لیے صبحِ صادق سے سورج ڈوبنے تک کی نیت(یعنی ارادہ) ہونا ضروری ہے. اگر نیت پورے دِن کی نہیں ہے تو روزہ نہیں ہوگا. یوں ہی نیت کے الفاظ بھی ایسے ہوں جو اس پورے وقت پر دلالت کرتے ہوں ورنہ وہ الفاظ ہماری نیت یعنی ارادے کی ترجمانی کرنے والے نہیں ہوں گے, اور انھیں نیت کے الفاظ کہنا صحیح نہیں ہوگا.
۝  یہ سبھی جانتے ہیں کہ ایک دِن 24 گھنٹے کا ہوتا ہے. دِن کے دو حصے ہوتے ہیں جنھیں ہم "دِن" اور "رات" کہتے ہیں. اجالے کا وقت یعنی سورج نکلنے سے سورج ڈوبنے تک کا وقت "دِن" کہلاتا ہے, اور اندھیرے کا وقت یعنی سورج ڈوبنے سے سورج نکلنے تک کا وقت "رات" کہلاتا ہے. دِن اور رات کا مجموعہ ایک دِن کہلاتا ہے جس کے ختم ہونے پر تاریخ بدل جاتی ہے.(تاریخ کی ابتدا اور انتہا کے چار طریقے ہیں. تفصیل امام احمد رضا قدس سرہ کے ملفوظات کے شروع میں دیکھیں)
۝ 'رات' کو عربی زبان میں 'لَیل', اور 'دِن' کو 'نَہار' کہا جاتا ہے.
۝  سورج نکلنے سے سوا گھنٹہ یا اس سے کچھ زائد وقت پہلے پورب کی طرف نیچے سورج نکلنے کی جگہ پر روشنی نمودار ہوتی ہے. اسی کو "فجرِ ثانی"، "فجرِ صادق" اور "صبحِ صادق" کہا جاتا ہے.
لوگوں کے عام عُرف میں 'دِن' کا آغاز سورج نکلنے سے ہوتا ہے, مگر شرعی معاملات میں دِن کی شروعات اِسی صبحِ صادق سے ہو جاتی ہے. اسی لیے روزہ جو کہ 'دِن' میں رکھا جاتا ہے وہ صبحِ صادق طلوع ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے.
حاصل یہ کہ "عُرفی دِن"(نَہارِ عُرفی) اور "شرعی دِن" (نَہَارِ شرعی) میں تھوڑا سا فرق ہوتا ہے. عرفی دِن سورج نکلنے سے شروع ہوتا ہے, جب کہ شرعی دِن صبحِ صادق ہی سے شروع ہوجاتا ہے, اگرچہ دونوں سورج ڈوبنے ہی پر ختم ہوتے ہیں.
رد المحتار میں ہے :
النَّهَارُ الشَّرَعِیُّ مِنْ أوَّلِ طُلُوعِ الصُّبحِ اِلیٰ غُرُوبِ الشَّمْسِ (رد المحتار حاشیۂ در مختار, کتاب الصلاۃ, الأوقات المکروہۃ)
"'شرعی دِن' طلوعِ صبحِ(صادق) کے آغاز سے سورج ڈوبنے تک ہے."
اسی طرح لوگوں کے عُرف میں رات کی مدت سورج ڈوبنے سے سورج نکلنے تک ہے, لیکن شرعی امور میں رات کی مدت سورج ڈوبنے سے صبحِ صادق تک ہے. یہی وجہ ہے کہ روزے دار کو رات میں کھانے پینے کی اجازت صبحِ صادق پر ختم ہو جاتی ہے. اگر کوئی صبحِ صادق کے بعد کھاتا یا پیتا ہے تو دِن کے حصے میں کھانے کی وجہ سے اس کا روزہ ختم ہوجاتا ہے.
لسان العرب میں ہے:
وَأمَّا اللَّيْلُ فِي الاصطِلاحِ الشَّرَعِي فَهُوَ زَمَانٌ مُمْتَدٌّ مِنْ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ الثَّانِي أي الفجر الصادق ، وهو موعد أذان صلاة الفجر.
'شرعی اصطلاح میں "رات" وہ وقت ہے جو سورج ڈوبنے سے صبحِ صادق کے طلوع تک پھیلا ہوا ہے. یہی صبحِ صادق نمازِ فجر کی اذان کا وقت ہے."

یہ گفتگو ذہن میں رکھتے ہوئے اب 'غد' کے معنی کی طرف چلتے ہیں.

(جاری)

تیسری قسط اِن شاء اللہ کل ظہر بعد پیش کی جائے گی. رات کے 12 بج کر 10 منٹ پر یہ کَہ رہا ہوں : "غدا بعد الظہر اِن شاء اللہ." کوئی اعتراض نہ کرے کہ "غدا" کیوں کَہ رہے ہیں. 😊

#نثارمصباحی
رکن-روشن مستقبل
12 رمضان 1441ھ

پہلی قسط کا لِنک :
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2869674666462792&id=100002608608558
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں