گھروں میں عیدالفطر کی نماز جاںٔز نہیں،نماز نفل پرھیں۔۔۔علامہ مفتی محمد کمال الدین مصباحی

گھروں میں عید الفطر کی نماز جاءزنہیں,نمازِ نفل پڑھیں_

____________
______________

علامہ مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
_________________________
ادارہ شرعیہ اتر پردیش کے صدر مفتی و شیخ الحدیث علامہ مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی نے اس لاک ڈاؤن میں عید الفطر کی نماز کے تعلق سے اپنے ادارہ کی طرف سے ایک جاری بیان میں یہ کہا ہے  کہ عیدالفطرکی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ انہیں پر واجب ہے جن پر نماز جمعہ واجب ہے اور خطبہ کے علاوہ عیدالفطر کی نماز کی ادائیگی کے لئے وہی شرطیں ہیں جو نماز جمعہ لیے ہیں جس طرح نماز  جمعہ مسجد کے علاوہ  چند لوگ مل کر  گھر میں ادا نہیں کرسکتے اسی طرح نماز عید   بھی عید گاہ اور مسجد کے علاوہ چند لوگ مل کر اپنے اپنے  گھروں میں یا کسی دوسری  جگہ ادا نہیں کرسکتے ہیں کہ ان جگہوں میں شرائط عیدمفقود ہونے کی وجہ سے نماز عید جائز اور درست نہیں ہے--
انہوں نےیہ بھی کہا ہے کہ موجودہ صورتحال لاک ڈاؤن کی وجہ سےجس طرح جمعہ کی نماز چند افراد مسجد میں ادا کرتے ہیں اور باقی لوگ اپنے اپنے گھروں میں تنہا تنہا ظہر کی نماز پڑھتے ہیں  اس سال عید کی نماز میں بھی وہی طریقہ اختیار کریں کہ جن عیدگاہوں  اور مساجد میں عیدین کی نماز پہلے سے قائم ہے وہاں جتنے نمازیوں لیے  حکومت کی طرف سے اجازت ملے اتنے ہی افراد  مسجدوں اور عید گاہوں میں نماز عید ادا کریں اور جن لوگوں کے لیے اجازت نہیں ہے وہ شرعاًمعذور ہیں ان پر عید کی نمازواجب نہیں اور اس کے ترک پران سے شرعاً کوئی مواخذہ بھی نہیں ہے-
انہوں نے  اپنے بیان میں یہ بھی  تحریر کیا ہے  کہ نماز عید کو نماز جمعہ پر قیاس کر کے عید کے بدلے میں کوئی  بھی نماز  اپنے گھروں ں میں نہ پڑھیں کہ نماز عید کا نماز جمعہ کی طرح کوئی بدل نہیں ہے لہذا اس سال عید گاہوں اور مساجد میں نماز عید ہو جانے کے بعد اپنے گھروں  میں چار رکعت  نماز نفل سبھی ادا کریں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا بھی یہ معمول تھا کہ آپ عید کی نماز ادا کرنے کےبعد جب عید گاہ سےاپنے کاشانہ اقدس  میں لوٹ کر آتے تو  نماز  نفل ادا فرماتے تھے، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے امید ہے کہ ہمیں نماز عید کا ثواب ضرور ملے گا_
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

1 تبصرے: