عیدالفطر یومِ تشکر و جشن مسرت۔۔۔ عبد الرشید امجدی۔۔۔۔

*عید الفطر یوم تشکر و جشن مسرت*

عید الفطر مسلمانوں کا مقدس ترین تہوار ہے یہ دن ہمارے دینی و ملی شان و شوکت کا مظہر ہے عید دنیا کے تمام مسلمانوں کو ظہور اسلام نماز ' روزہ اور زکوۃ کی فرضیت اور فتح بدر کی یاد دلاتی ہے امت مسلمہ چودہ سو سال سے اس مبارک دن کی خوشیاں منا کر اپنے پروردگار کا شکریہ ادا کر رہی ہے عید الفطر جو اہل اسلام کے لئے یوم تشکر اور جشن مسرت ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ آج سے چودہ سو سال قبل 2 ہجری میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو اس کے دوسرے سال رمضان المبارک کے روزے فرض کئے گئے چنانچہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجری کے دوسرے سال ہزاروں فرزندان توحید و رسالت کے ساتھ روزے رکھے اور رمضان المبارک کی خصوصی عبادت کی احسن طریقے پر بجا آوری کے اختتام پر *یکم شوال کو یوم تشکر* یعنی عظیم تاریخی اور روحانی جشن مسرت و انبساط منایا یہی یوم تشکر در اصل عید الفطر ہے
عید اسلام کا انتہائی مقدس اور پر مسرت دن ہے اس روز پوری امت مسلمہ ایک باوقار اور عظیم الشان تقریب میں دو رکعت کی صورت میں سجدہ شکر بجا لاتی ہے فطرہ ادا کر کے ملت کے نادار اور بے وسیلہ افراد کو بھی خوشیاں اور مسرتوں میں شریک کیا جاتا ہے عید کا تہوار ہمیں رمضان المبارک کے فریضہ صوم کی پابندی کے صلے میں بارگاہ یزدی سے عطا ہوا ہے در حقیقت اس تہوار کے مستحق وہی مسلمان ہیں جنہوں نے پورہ مہینہ محض اللہ تعالیٰ کے واسطے بھوک پیاس کی تکلیف برداشت کی ہیں اور بہت سے کاموں کو اپنے اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خوشنودی کے لئے چھوڑ کر روزے رکھے ہیں انہیں محض مسلمانوں کے واسطے یہ تہوار اور یہ دن رحمت و برکت ہے
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر لیلۃ الجائزہ انعام کی رات سے لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں اور راستوں کے سروں پر گھڑے ہوجا تے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسانوں کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکار تے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی امت اس کریم رب کی بارگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے بڑے قصور کو معاف کرنے والا ہے جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے کہ کیا بدلہ ہے اس مزدوروں کا جو اپنا کام پورا کر چکا ہو وہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے فرشتوں! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو رمضان المبارک کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت فرما دی اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد فرماتا ہے میرے بندوں! کچھ مانگو میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم آج کے اجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کر دوں گا اور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر رکھوں گا میری عزت کی قسم کہ جب تک تم میرا خیال رکھو گے تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا اور ان کو چھپاتا رہوں گا میری عزت کی قسم میں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رسوا نہ کروں گا بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ہو گیا فرشتے اس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو عید الفطر کے دن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں
عید الفطر کا یہ پر مسرت تہوار وسیع پیمانے پر اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے عید الفطر کی نماز کی ادائیگی سے قبل ہی حکم ہوا سب افراد کی طرف سے خواں وہ چھوٹا ہو یا بڑا صدقہ فطر ادا کیا جائے تاکہ وہ بھی اپنی ضروریات زندگی پوری کر کے عید کی خوشیاں میں شریک ہو سکے کیونکہ حقیقی خوشی کا حاصل دوسروں کی غم کو کم کرنا اور انہیں مسرتوں سے مالا مال کرنا ہے اس سے محبت بھائ چارہ اتحاد و اتفاق کے جذبات فروغ پاتے ہیں مزاہب عالم میں اسلام کو یہ امتیازی حاصل ہے کہ اس نے امت مسلمہ کو اقوام عالم میں ہر حیثیت سے امتیازی اور انفرادی مقام عطا کیا ہے
عید کے دن مسلمانوں کے اجتماع کا یہ پیغام ہے کہ اگر مسلمان اپنے عمل سے اسلام کی صداقت پر گوہی دے دیں تو ناممکن ہے کہ اسلام کی طرف دلوں میں کشش نہ پیدا ہو تعلیم اسلام کا اس سے بہتر سبق ہے کیا ہو سکتا ہے کہ ہر مسلمان اپنی گزشتہ زندگی کا جائزہ لے اس کا احتساب کرے اور آئندہ اپنی زندگی تعلیم اسلام کے مطابق گزار نے کا تہیہ کرے عید الفطر کے ساتھ ہی ساتھ زکوٰۃ اور صدقے ادا کرنے کا تہیہ کرے زکوٰۃ صدقہ جو کچھ بھی دیں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے دیں آیئے ہم خلوص دل اور خلوص نیت سے رمضان المبارک کی ان بے پناہ رحمتوں اور برکتوں کے جلوے میں عید الفطر کی تقریب سعید کے اس روح پرور ماحول میں خدائے بزرگ و برتر کے حضور اس بات کا عہد کریں کہ آج کی عارضی اور وقتی خوشی کو دائمی اور پائدار خوشی میں تبدیل کر دیں آج ہمارا جو عملی قدم اٹھے گا وہ اسلام کی سربلندی اور ملی اتحاد کے لئے ہوگا اور ہم زندگی کے ہر موڑ پر قرآن مجید و احادیث مبارکہ سے جو حکمت و دانائی کا سر چشمہ ہے رہنمائ  حاصل کریں گے ہم دینا میں حق کے علمبردار اور باطل کو مٹانے والے بنیں گے مولی تعالیٰ جملہ مسلمانوں کو اعمال خیر کی توفیق آمین ثم آمین یارب العالمین بجائے سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم

______از قلم گوہر رقم_____
_تلمیذ محدث کبیر خلیفہ حضور شیخ الاسلام والمسلمین و خلیفہ ارشد ملت_ *عبدالرشیدامجدی ارشدی دیناجپوری*
خادم..... *تنظیم پیغام سیرت مغربی بنگال*
مقیم حال حیدرآباد
____رابطہ نمبر____
*7030786828*

*rashidamjadi00@gamil.com*

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں