عید اور مولوی کی بیٹیاں۔۔۔۔۔

*👈 مولوی کی
بیٹیاں*


عید سے چند روز قبل بڑی بیٹی نے کہا :
" بابا عید میں پانچ دن رہ گئے ہیں، اور ہم نے ابھی تک کچھ بھی خریداری نہیں کی ... "

مولوی صاحب نے کہا :
" اچھا میری بیٹی! ابھی بہت دن ہیں خرید لیں گے چاند رات سے ایک دن قبل سب کچھ لے لیں گے ... "

مولوی صاحب یہ بات کر رہے تھے کہ آذان سنائی دی مولوی صاحب جو آنکھیں بیٹی کو جھوٹی تسلی دینے پر شرمندگی سے جھکائے ہوئے تھے؛ انکو موقع مل گیا اور مسجد کی طرف چل دئے ...

عید سے ایک دن قبل جب مولوی صاحب ہر طرف سے ناامید ہو گئے کیونکہ مانگنے سے عزت نفس جاتی ہے اور قرض لینا نہیں، کیونکہ واپسی کی کوئی صورت ممکن ہی نہیں اور خود سے ہم جیسوں میں سے کسی کو توفیق نہیں ہوئی، کیونکہ مولوی صاحب کے بچوں کے کون سے دل ہوتے ہیں جو مچلتے ہوں، ان کے کون سے احساسات ہوتے ہیں، وہ کونسا محسوسات رکھتے ہیں، انہوں نے کون سا باہر نکلنا ہے۔ تو مولوی صاحب جو کہ تاویلوں کے بےتاج بادشاہ تھے، دلیل تو انکے گھر کی لونڈی تھی سمجھانے میں تو ماہر تھے جب کوئی انتظام نہ ہوا تو سوچا، آج جتنی منطق اور استقراء قیاس پڑھا ہے، سب کو بروئے کار لاکر بیٹی کو قائل کروں گا کہ بیٹا بڑی عید پر کوئی کپڑے نہیں پہنتا یہ تو رضا خداوندی کی عید ہے۔ لیکن دھڑکا تھا کہ بیٹی بھی تو مولوی کی ہے۔ خیر سارا علم مستحضر کر کے گھر گیا تو بیٹیاں ہاتھوں میں پرچیاں لیکر منتظر تھیں کہ بابا جان نے آج کا وعدہ کیا ہے تو ہمیں مطلوبہ چیزیں لا دیں گے
جیسے مولوی صاحب کھنگورا مارتے داخل ہوئے تو مولوی صاحبہ کی زوجہ سمجھ چکی تھی کہ بیٹوں کے دل ٹوٹنے والے ہیں تو وہ جلدی سے گئی پیاز لے آئی کہ پیاز کاٹنے کے بہانے آنسو بہا لے گی، کیونکہ ماں تو ماں ہوتی ہے اسکے آنسو اولاد کے لئے تو پلکوں کی منڈیر پر ہی بسیرا کرتے ہیں لیکن وہ بیٹیوں کے سامنے شوہر کو اور باپ بیٹیوں کو ٹوٹتا نہ دیکھ سکے ...

عزیز دوستو!  مولوی صاحب بیٹھے تو چھوٹی آنے لگی کہ پرچی تھماؤں۔ مولوی صاحب نظریں جھکائے جرابیں اتارنے لگے اور ٹوپی لپیٹ کے رکھی جو کہ علامت ہوتی ہے کہ اسکے بعد باہر نہیں جانا کہ اچانک چھوٹی کو بڑی بیٹی بازو سے پکڑتی ہے اور اسے اشارے سے روکتی ہے، اسکے ہاتھ سے پرچی لیکر اپنی پرچی میں رکھ کر چپکے سے چٹائی کے نیچے چھپاتی ہے۔ یہ سب مولوی صاحب کن اکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن نہ دیکھنے کی کمال فنکاری کر رہے تھے۔ وہاں زوجہ محترمہ کے آنسو پیاز کے بہانے سیل رواں بنے ہوئے تھے۔ مولوی صاحب کا سارا علم زیرو ہو گیا اسے لگا جیسے وہ سب سے زیادہ جاہل اجڈ اور گنوار ہے ...

قابل قدر قارئین کرام اس سے پہلے کہ مولوی صاحب کچھ کہتے تو بیٹی بولی :
" بابا جان کل ہم نے نئے کپڑے نہیں لینے، کیونکہ یہ تو رمضان المبارک کے صیام و صلاة کی مزدوری ملنے کا دن ہوتا ہے نہ کہ نئے کپڑے پہنتے کا دن، اور ویسے بھی اس دن فقط صاف ستھرا اور عمدہ لباس زیب تن کرنے کا فرمایا گیا ہے تو وہ ہمارے پاس پچھلی عید کے کپڑے پڑے ہوئے ہیں، ہم لوگ وہی پہن لیں گے ... "

وہ سارے دلائل جیسے کاپی پیسٹ کیے ہوں اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ عالم فاضل اور سمجھدار بیٹی ہی لگی۔
بیٹی کی یہ بات سن کر مولوی صاحب نے نظریں اٹھائی ایک نظر بیٹی کے چہرے پر ڈالی کچھ دیر کو گردن فخر سے تن گئی اپنی پگ کا شملہ اونچا بہت اونچا محسوس ہوا، لیکن اگلے لمحے ہی بچیوں کی معصومانہ خواہشات کا یوں خود کشی کرنا ان کو توڑ گئی۔ انہیں اپنا آپ بےتحاشہ ناکام باپ لگا، جو عید پر بھی اپنی اولاد کی ضرورت کی خواہش نہ پوری کر سکا۔ ان سے یہ برداشت نہ ہوا، اور جلدی سے کمرے میں جا کر سونے کا کہہ کر بستر میں گھس گئے اور وہاں ہونٹ سی لیے، منہ کو بھینچا اور آنکھوں سے کہا :
"تم آزاد ہو برس لو ورنہ
غم کے اندر کے سونامی سے مر ہی جاؤ گے ... "

صبح اٹھ کر مولوی صاحب نماز کے لئے چلے گئے واپس آئے تو چھوٹی بیٹی نے دس بیس پچاس کے چند نوٹ پکڑے ہوئے تھے بولی :
" بابا یہ پیسے ہیں، آپ ایسے کریں کہ بھائی کو کپڑے لے دیں اس نے کل آپ کے ساتھ مسجد جانا ہے اور وہ چھوٹا ہے۔ گلی میں کھیلے گا تو سب کیا کہیں گے ... "

یہ ایک اور دھماکہ تھا۔ لیکن بہن کا بھائی کے لئے پیار کیا ہوتا ہے سب سمجھا گیا ...

میرے نہایت ہی محترم، باشعور اور قابل قدر قارئین کرام المختصر و مقصود تحریر منجانب کم فہم و خاکسار فقط یہ ہے کہ، *ہمارے معاشرے میں اکثر مولوی حضرات کی زندگی اسی طرح کی کشمکش کی شکار ہے۔ وہ شخص جو پورے محلے کو عید کی نماز پڑھاتا ہے۔*
*خود اپنے اور اپنے بچوں کے لئے کپڑے بھی نہیں خرید سکتا۔ کیونکہ نہ ان لوگوں کی تنخواہ مناسب ہوتی ہے، اور نہ ہی آمدنی کا دوسرا کوئی اور معقول ذریعہ*۔ ایسے میں ہم لوگوں کو ہی ان کی مدد کرنی چاہیے۔ میں نہایت معذرت چاہتے ہوئے عرض کروں گا کہ ہم 1500 روپے کا سوٹ، 5000 روپے میں تو خرید لیتے ہیں، مگر کسی غریب کی مدد نہ کرنے کے ہزاروں بہانے اور تاویلیں ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بڑے پلازہ میں جا کر دو کوڑی کی چیز ہزاروں روپوں میں چپ چاپ خرید لیتے ہیں لیکن اگر کوئی غریب اور 100, 50 مانگ لے تو فلاسفر بن کر اسے ایسا لیکچر دے ڈالتے ہیں کہ وہ ضرورت مند و مستحق شخص مرنا گوارا کر لیتا ہے مگر ضرورت کے لیے آئندہ کسی مسلمان بھائی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا خود سے وعدہ کر لیتا ہے۔
*عزیز دوستو یقین جانئیے کہ دوسرے کی مدد سے (چاہے کسی حد تک ہی ممکن ہو) ہی زندگی کا اصل مقصد حاصل کیا جا سکتا۔* اللہ تعالٰی مجھ گناہ گار و کم فہم اور ہم تمام مسلمانان عالم کو ایسے مستحقین کو پوشیدہ ہاتھوں سے دینے والا بےغرض و سخی کرتے ہوئے تاحیات عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمیـــــــــــــــــن یارب العالمین ...

یاد رہے! کہ عید بلکل قریب ہے، اور آپ کے اطراف کئی ایسے اشخاص ہیں، جن کو اس عید الفطر پر آپ کی امداد کی نہایت ضرورت ہے ...!!!

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں