شب قدر اور اس کی فضیلت۔۔۔۔۔ابو عدنان سعید الرحمن ۔۔۔

شب قدر اور اس کی فضیلت



ابوعدنان سعیدالرحمن بن نورالعین سنابلی
رمضان المبارک کا مہینہ نہایت ہی عظمت اور فضیلت کا حامل ہے۔اس مہینہ کا آخری عشرہ جونہی سایہ فگن ہوتا ہے اس مہینے کی عظمتوں اور فضیلتوں کو چار چاند لگ جاتا ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آخری عشرہ کو انتہائی معزز اور مکرم بنایا ہے۔ اس عشرے کی فضیلت کی وجہ سے ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ عبادت الٰہی میں مصروف ہوجاتے اور دنیا سے کنارہ کش ہوکر اعتکاف جیسے فضیلت یافتہ عمل کو انجام دیا کرتے تھے۔ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جاگتے، اپنے اہل و عیال کو بیدار کرتے اور اپنا لنگوٹ کس لیا کرتے تھے یعنی مکمل طور پر عبادت کے لئے کمربستہ ہوجایا کرتے تھے۔نیز ایک دوسری حدیث میں بھی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری عشرہ میں جس محنت و جانفشانی سے عبادت الٰہی کیا کرتے تھے، اتنی لگن اور تندی سے دوسرے ایام میں نہیں کیا کرتے تھے۔اس آخری عشرے کی فضیلت کا عالم یہ ہے کہ جیسے یہ عشرہ آتا ہے ، تسلسل کے ساتھ رحمت کی پھوار یںہماری زندگیوں کو سیراب کرنے کے لئے کھل کر برسنے لگتی ہیں۔اس بارش سے پیڑ ، پودے اور زمین ہی نہیں بلکہ انسان بھی سیراب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کو جن اہم خصوصیات و امتیازات نوازا ہے، ان میں سے ایک اہم فضیلت یہ ہے کہ اسی عشرہ میں وہ رات ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے دستورِ حیات، قرآن کریم کو لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر واقع بیت العزۃ تک نازل فرمایا اور پھر وہاں سے تئیس (۲۳) سال کے دوران تھوڑا تھوڑا کرکے حسبِ موقع اور حسبِ ضرورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کرتا رہا۔چنانچہ زیرِ نظر سطور میں اسی مبارک اور حکیمانہ فیصلوں والی رات کے چند گوشوں کو ذکر کرنے کی سعادت حاصل کی جارہی ہے ، تاکہ ہم اس رات کی اہمیت کو جانیں اور اس کو حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ عبادت و ریاضت کریں۔
شبِ قدر کی وجہ تسمیہ:اس رات کو عزت و شرف والی رات کیوں کہا جاتا ہے؟ علمائِ کرام نے اس کے مختلف وجوہات بیان کئے ہیں۔پہلا قول یہ ہے کہ اس رات میں قابل قدر فرشتہ کے بذریعہ ، قابل قدر نبی پرقابلِ قدر امت کے لئے قابل قدر کتاب کا نزول ہوا ،اسی وجہ سے اسے قدر اور عزت و شرف والی رات کہا جاتا ہے۔
دوسرا قول یہ کہ اس رات کو قابلِ قدر اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس رات نیکیوں کو انجام دینے والا انسان ، اللہ تعالیٰ کی نظر میں قابل قدر اور شرف و عزت کا حامل ہوجاتا ہے۔
تیسرا قول یہ ہے کہ اس کو لیلۃ القدر کہنے کا سبب یہ ہے کہ عربی زبان میں ’’قدر ‘‘ کا معنی تنگ ہونے کے ہوتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:’’ ومن قدر علیہ رزقہ‘‘ (سورۃ الطلاق؍۷)یعنی جس پر اس کے رزق کو تنگ کردیا گیا ہو۔چونکہ اس رات میں آسمان سے نازل ہونے والے فرشتوں سے زمین پر ہوجاتی ہے اور تنگ پڑجاتی ہے،لہذا اس کو لیلۃ القدر یعنی زمین کی تنگی والی رات۔اس کی تائید اس فرمانِ نبوی سے ہوتی ہے ، جس میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ اس رات میںزمین پر کنکریوں سے زیادہ تعداد میں فرشتے ہوتے ہیں‘‘ ۔اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
چوتھا قول یہ ہے کہ ’’لیلۃ القدر‘‘ میں’’ قدر‘‘ تقدیر سے ماخوذ ہے۔گویا یہ تقدیر والی رات ہے، یعنی اس رات آنے والے سال وقوع پذیر ہونے والے حوادث و واقعات اور دیگر ضروری امور کو قلمبند کردیا جاتا ہے اور ان کے تعلق سے فیصلہ لیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کو لیلۃ القدریعنی تقدیر والی رات کہا جاتا ہے۔اس کی تائید اس الٰہی فرمان سے ہوتی ہے ، جس میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’ فیھا یفرق کل أمر حکیم‘‘ (سورۃ الدخان؍۴)یعنی اس رات میں ہر مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں راجح ترین بات یہ ہے کہ شبِ قدر کو ان تمام وجوہات اور اسباب کی بنیاد پر عزت و شرف اور قدر والی رات کہا جاتا ہے یعنی اس رات قرآن کریم جیسی قابل قدر کتاب کا نزول بھی ہوا،زیادہ تعداد میں فرشتے بھی اترتے ہیں اور اس سال ربِ تعالیٰ بندوں کے آئندہ سال کے اعمال سے بھی واقف کرتا ہے اور انہیں لکھنے کا حکم دیتا ہے۔ (ملاحظہ فرمائیں:ماذا تعرف عن لیلۃ القدر،للشیخ ندا أبو أحمد،ص؍۴)
شبِ قدر کی فضیلت:اس مبارک رات کی فضیلت کے تعلق سے مختلف نصوصِ کتاب و سنت وارد ہیں۔اس رات کی فضیلت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک پوری سورۃ کو نازل فرمایا، جسے ’’سورۃ القدر ‘‘کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ،اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مختلف فضیلتوں سے نوازا ہے۔ درج ذیل سطور میں انہی فضائل کو ذکر کیا جارہا ہے۔
۱-اللہ تعالیٰ نے اس مبارک رات میں قرآن کریم جیسی بابرکت اور مقدس کتاب کو نازل فرمایا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’ انا أنزلناہ فی لیلۃ القدر‘‘ (سورۃ القدر؍۱)یعنی ہم نے اس کتاب کو عزت و شرف والی رات میں نازل کیا ہے۔
اس نزول کے تعلق سے صحیح ترین بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کلامِ پاک کو لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر واقع’’ بیت العزۃ ‘‘میں اتارا، یہی بات حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں کہی ہے اور یہی مشہور صحابی رسول عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس نزول سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پراسی رات سے قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔
اسی طرح سے ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی رات قلم کو حکم دیا کہ وہ قرآن مجید کو لوح محفوظ میں لکھے۔
چاہے نزول کا جو بھی مفہوم ہو ، لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ اس رات کو قرآن مجید کا نزول شروع ہوا اور یہ ایسا مبارک موقع اور حسین لمحہ تھا ، جس کا زمین و آسمان نے پہلے کبھی بھی مشاہدہ نہیں کیاتھا۔
٭اس رات میں انجام دی جانے والی عبادت و ریاضت، ذکر و اذکار، تسبیح و تحمید، تہلیل و تکبیر اور دیگر نیک کام ایسے ہزار مہینے یعنی تیراسی (۸۳)سال اور چار(۴) مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے، جس میں’’ لیلۃ القدر‘‘ نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’ لیلۃ القدر خیر من ألف شھر‘‘ سورۃ القدر؍۳)یعنی شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
حافظ ابن جریر طبری رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز تفسیر ۳۰؍۱۶۷میں لکھتے ہیں کہ اس رات کی عبادت ایسے ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے، جن میںشبِ قدر نہ ہو۔اسی مفہوم کو حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیرمیں راجح قرار دیا ہے۔
٭ یہ رات مومنوں کے لئے سراپا سلامتی اور امن و شانتی والی رات ہوا کرتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:’’ سلام ھی حتی مطلع الفجر‘‘ سورۃ القدر؍۵) یعنی یہ سراسر سلامتی کی رات ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔
اس آیت کی تفسیر کی سلسلے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں:ایک قول یہ ہے کہ یہ رات تمام شرور و فتن سے سلامتی کی رات ہوا کرتی ہے اور امن و شانتی کا گہوارہ ہوتی ہے ۔دوسرا قول یہ ہے کہ اس رات اہل ایمان شیطان کے شرور سے محفوظ رہتے ہیں اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس رات فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اہلِ ایمان کی سلامتی کے لئے دعائیں کیا کرتے ہیں۔
٭ یہ رات نہایت ہی بابرکت ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’ انا أنزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ اناکنا منذرین‘‘ (سورۃ الدخان؍۳)یعنی ہم نے اس قرآن کریم کو برکت والی رات میں نازل کیا ، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں۔
بعض مفسرین نے کہا کہ اس آیت کریمہ میں ’’لیلۃ مبارکۃ ‘‘ سے مراد شبِ براء ت یعنی پندرہویںشعبان کی رات ہے ، جو کہ صحیح نہیں ہے۔اس وجہ سے کہ قرآن کی نص صریح سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ یہ قرآن شبِ قدر میں نازل ہوا ہے۔اسے ہی سورۃ دخان میں ’’لیلۃ مبارکۃ‘‘ قرار دیا گیا ہے اور یہ رات رمضان المبارک ہی میں ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیتِ کریمہ میں ارشاد فرمایا:’’ شھر رمضان الذی أنزل فیہ القرآن‘‘ سورۃ البقرۃ؍۱۸۵) یعنی ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا۔
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا نزول ماہِ رمضان میں ہوا ہے اور دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ماہ کے اس رات میں نازل ہوا ہے، جس کو شبِ قدر کہا جاتا ہے، یہ رات بڑی بابرکت ہے۔
٭ اس رات جبرئیل علیہ السلام اور دیگر فرشتے دنیا میں تشریف لاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’ تتنزل الملائکۃ والروح فیھا باذن ربھم من کل أمر ‘‘( سورۃ القدر؍۴)یعنی اس میں ہرکام سر انجام دینے کو فرشتے اور روح (جبرئیل علیہ السلام ) اترتے ہیں۔
امام ابن خزیمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ شب قدر ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے، اس رات زمین پر کنکریوں سے زیادہ فرشتے ہوتے ہیں اور فرشتے رحمتوں ، برکتوں اور سکینت کے ساتھ نزول فرماتے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ان تمام الٰہی فیصلوں اور تقدیروں کو لے کر نازل ہوتے ہیں، جسے نئے سال کے لئے ربِ تعالیٰ تجویز فرماتا ہے۔
٭ اس رات کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا ہے۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ شبِ قدر کی صبح کے سوا،ہر روز سورج شیطان کے دو سینگوں کے مابین نکلتا ہے۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ)
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’اس رات میں شیطان ہرگز نہیں نکل سکتا ہے‘‘۔(مسند احمد)
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ طلوعِ فجر سے پہلے تک اس رات شیطان نہیں نکل پاتا ہے‘‘۔(صحیح ابن حبان)
٭ اس رات میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرنا ، سابقہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر کا قیام کیا تو اس کے پچھلے سارے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا‘‘۔ (صحیح بخاری؍، صحیح مسلم؍)
٭ اس رات میں آنے والے سال کی بابت موت و حیات اور وسائلِ زندگی کے فیصلے لوح محفوظ سے اتارکر فرشتوں کے سپرد کردیئے جاتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’ فیھا یفرق کل أمر حکیم‘‘( سورۃ الدخان؍۴)یعنی اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
ان تمام فضائل کی وجہ سے ہمارے اوپر یہ ضروری قرار پاتا ہے کہ ہم شبِ قدر کورمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کریں، اس وجہ سے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :’’ شبِ قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو‘‘۔(صحیح بخاری؍۲۰۱۷،صحیح مسلم؍۱۱۶۹)
لہذا ، ہم مسلمانوں کو چاہئے کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس رات کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کریں اور اس میں زیادہ سے زیادہ عبادتوں کا اہتمام کریں ، تاکہ ہم اس رات کی فضیلت کو پاسکیں ۔
شبِ قدر کی عدم تعیین: شبِ قدر کے تعلق سے راجح ترین بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا علم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا ، جیسا کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شبِ قدر بتانے کے لئے نکلے تو دیکھا کہ دو لوگ جھگڑ رہے تھے ۔اس موقعہ سے آپ نے ارشاد فرمایا :’’ میں گھر سے نکلا تھا کہ تم لوگوں کو شبِ قدر کے بارے میں بتادوں، لیکن دیکھا کہ فلاں اور فلاں لڑرہے تھے ،چنانچہ اس کاعلم اٹھا لیا گیااور ہوسکتا ہے کہ اسی میں تمہارے لئے خیر اور بھلائی ہو۔لہذا، تم اس بابرکت رات کو آخری عشرے میں تلاش کرو‘‘۔(صحیح بخاری؍)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رات کا علم پوشیدہ رکھا ہے اور اس کی تعیین نہیں فرمائی ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حدیثوں میں حکم دیا ہے کہ اس بابرکت رات کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا جائے۔چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو۔(صحیح الجامع،ص؍۳۶)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ اس رات کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو ، میں نے وہ رات دیکھی ، مگر پھر اسے بھول گیا‘‘۔(صحیح بخاری، صحیح الجامع۱؍۳۹۳)
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ اسے رمضان کے آخری عشرے کی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں یا آخری یعنی انتیسویں رات میں تلاش کرو‘‘۔ (سنن ترمذی، صحیح الجامع۱؍۳۹۴)
اس کے علاوہ بعض ایسی حدیثیں بھی مروی ہیں ، جن میں کسی خاص رات کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس رات ہی میں شبِ قدر کو تلاش کیا کرو۔ان روایتوں میں سے بعض درج ذیل ہیں:
۱- تئیسویں رات کے بارے میں
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ شب قدر کو تئیسویں رات میں تلاش کرو‘‘۔(سنن ابوداود؍، مسند احمد)
۲- ستائیسویں رات کے بارے میں
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ شبِ قدر کو تلاش کرو اور جو اسے تلاش کرنا چاہتا ہو، اسے چاہئے کہ وہ ستائیسویں رات میں تلاش کرے‘‘۔ (سنن ابوداود، مسند احمد)
۳- اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں رات کے بارے میں
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ اس رات کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو،شبِ قدر اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں رات ہے‘‘۔(صحیح بخاری)
۴-انتیسویں رات کے بارے
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ شبِ قدر کو رمضان المبارک کی آخری رات میں تلاش کرو‘‘۔ (صحیح ابن خزیمہ؍، سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ۳؍۴۵۷- ۴۵۸)
اس کے علاوہ بھی بے شمار روایتیں ہیں، جن میں کسی ایک رات کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہی شبِ قدر ہے۔اس سلسلے میںصحیح موقف یہ ہے کہ یہ بابرکت رات عشرۂ اخیرہ کی طاق راتوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔لہذا، اس سلسلے میں محتاط موقف یہی ہے کہ آخری عشرے کی سبھی راتوں میں قیام کیا جائے ، ورنہ کم از کم طاق راتوں میں۔(فتح الباری۴؍۲۶۶)
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مخفی کیوں رکھا ہے اور اس کی تعیین کیوں نہیں فرمائی ہے؟ اس کے بہت سے اسباب بتائے گئے ہیں۔پہلا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ اس کی تعیین کو اس وجہ سے مخفی رکھا گیا ہے کہ لوگ اس کی تلاش اور جستجو میں زیادہ سے زیادہ عبادتِ الٰہی کو انجام دیں اور زیادہ سے زیادہ راتوں میں جاگیں اور توبہ و استغفار کیا کریں۔
دوسرا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ اگر لوگوں کو اس دن کی تعیین بتادی گئی ہوتی تو ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص خواہشات نفسانی کا شکار ہوکر اس دن کی فضیلت کو جاننے کے باوجود معصیت کا ارتکاب کرلیتا۔چنانچہ اس دن کو مخفی رکھا گیا کہ اگر کوئی شخص اس دن معصیت کا ارتکاب کر بھی لے تو اس کا گناہ دانستہ طور پر کئے گئے گناہ سے کم تر ہو وغیرہ۔
شبِ قدر کی علامتیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی پہچان کے لئے ، مسلمانوں کو بعض علامتیں بتائی ہیں ، تاکہ مسلمان آسانی سے اس رات کو پاسکیں اور اس میں زیادہ سے زیادہ عبادت و ریاضت اور نوافل و سنن کی پابندی کرکے ، اس کی فضیلتوں اور عظمتوں سے محظوظ ہوسکیں۔
٭موسم پرسکون ہو اور ہوا تھمی ہوئی ہو:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’عزت و شرف والی رات پرسکون و معتدل ہوا کرتی ہے، جس میں نہ تو گرمی ہوتی ہے اور نہ ہی سردی ہوتی ہے اور اس کی صبح سورج اس طرح سے طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدھم ہوجاتی ہے‘‘۔ (اسے صحیح ابن خزیمہ اور مسند بزارنے روایت کیا ہے اور شیخ البانی نے ’’صحیح الجامع ؍۵۴۷۵‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے۔
٭ شبِ قدر کی صبح میں نمودار ہونے والا سورج تھالی کے مثل ہوتا ہے اور اس میں ہلکی روشنی ہوتی ہے
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ شبِ قدر کی صبح کو سورج کے بلند ہونے تک اس کی شعاع نہیںہوتی، وہ ایسے ہوتا ہے جیسے کہ تھالی‘‘۔(صحیح مسلم؍۱۷۶۳)
ٍٍ ٭ شبِ قدر میں نمودار ہونے والا چاند بڑے تھال کے کنارے کی طرح ہوتا ہے
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شبِ قدر کا تذکرہ کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا :’’ تم میں سے کون اسے یاد رکھتا ہے، اس رات جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کا کنارہ‘‘۔(صحیح مسلم؍۱۱۷۰)
انسان کو شبِ قدر میں کون کون سے اعمال کو انجام دینے چاہئے: شبِ قدر نہایت ہی فضیلتوں اور عظمتوں کی حامل رات ہے۔یہی وجہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات کو مختلف راتوں میں تلاش کیا کرتے تھے اور صرف اسی رات کی وجہ سے اس پورے عشرے میں مخصوص عبادتوں کو انجام دیا کرتے تھے،چنانچہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں جس محنت اور لگن سے عبادت کیا کرتے تھے، اتنی محنت دوسرے مہینوں میں نہیں کیا کرتے تھے۔(صحیح مسلم؍۱۱۷۵) چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری عشرہ میں بعض مخصوص عبادتوں کو بھی انجام دیا کرتے تھے ،زیرِ نظر سطور میںانہی چندعبادتوں کو مذکورہ سطور میں ذکر کیا
جارہا ہے۔
۱-اعتکاف:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بابرکت رات کی تلاش میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کا مسجد میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔چنانچہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے اور آپ کے بعد آپ کی پاک طینت بیویوں نے اس کام کو انجام دیا۔(صحیح بخاری؍، صحیح مسلم؍)
۲- تہجد اور نوافل کا اہتمام کرنا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر کا قیام کیا تو اس کے پچھلے سارے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا‘‘۔ (صحیح بخاری؍، صحیح مسلم؍)
ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ شبِ قدر میں قیام کا مفہوم یہ ہے کہ پوری رات تہجد کی نماز پڑھی جائے اور نوافل کا اہتمام کیا جائے۔(لطائف المعارف۲؍۳۳۷)
۳- اس رات اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ دعائیں کی جائیں:ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول! اگر مجھے شب قدر کا علم ہوجائے تو میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ تم یہ دعا پڑھا کرو:(اللھم انک عفو، تحب العفو ،فاعف عنی)یعنی اے میرے اللہ! یقینا تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، لہذا تو مجھ کو معاف فرمادے۔(سنن ترمذی؍۸۴، سنن ابن ماجہ؍۳۸۵۰)
امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ نے ابوسفیان کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: اس رات میں دعا کرنا میرے نزدیک نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے۔ (لطائف المعارف۲؍۳۳۷)
۴- اپنے اہل و عیال کو اس رات ذکر و اذکار اور عبادتِ الٰہی کے لئے جگایا جائے:ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کس لیا کرتے تھے، راتوں میں جاگا کرتے تھے اور اپنے گھر والوں کو بیدار کیا کرتے تھے۔(صحیح بخاری؍۲۰۲۴، صحیح مسلم؍۱۱۷۴)
یہ رہی عظمتوں، فضیلتوںکی جامع رات شبِ قدر کے تعلق سے کچھ باتیں۔خوش نصیب ہیں وہ افراد جو کہ رمضان کے آخری عشرے میں ہونے والی رحمتوں کی بارش کو اپنے اندر جذب کرکے خود کو تمام فضائل کا مستحق بناتے ہیں اور اپنی زندگی کو پرسکون بناتے ہیں،اس وجہ سے کہ اس عشرے میں رحمتوں کی ایسی بارش ہوتی ہے ، جس میں سرتا پر بھیگ کر ہی ایک انسان زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھتا ہے اور اس بارش کے ایک ایک قطرہ کو پی کر مغفرتِ ربانی کا مستحق ٹھہراتا ہے، لیکن بڑا ہی بدنصیب ہے وہ انسان جو کہ اس آخری عشرے میں بھی رحمت کے کوئی چند چھینٹوں پر ہی اکتفاء کرکے دنیاوی کاموں ہی میں مگن ہوجاتا ہے اور آنے والی عید کی خوشیوں میں مدہوش ہوکر مبارک ماہ کے آخری لمحات کو خریداری کی نذر کردیتا ہے اور آنے والی عید کی خوشی میں روئے زمین پر موجود سب سے مبارک عشرے اور ان میں موجود سال کی سب سی فضیلت یافتہ راتوں کو یونہی رائیگاں جانے دیتاہے۔
(بصیرت فیچرس)
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں