مملکت نعت کے فرماں را امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ: مفتی محمد ضیاء الحق قادری فیض آبادی

مملکت نعت کے فرماں روا امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ


مفتی محمد ضیاءالحق قادری فیض آبادی
فن شاعری میں غالب کا جو مقام ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، چلیے غالب کے دیوان سے اخذ کر کے انھیں کے مشہور زمانہ شعر سے آغاز کرتے ہیں

ہاں وہ نہیں خدا پرست جاو بے وفا سہی
جس کو ہو دین و دل عزیز اسکی گلی میں جاے کیوں
اسی بحر میں امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کا شعر ملاحظہ کریں جو معنی میں متضاد ہے
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھاے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جاے کیوں
اپنے عہد کے استاذ شاعر امیر الشعراء حضرت امیر مینائی کا خوبصورت شعر دیکھیں
اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو
دل میں ہزار درد اٹھے آنکھ تر نہ ہو
اب ذرا فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کے اس شعر سے حظ اٹھائیں
اے خارِ طیبہ دیکھ کہ دامن نہ بھیگ جاے
یوں دل میں آ کہ دیدۂ تر کو خبر نہ ہو
فصیح الملک اردو ادب کی شان ماہر شعر و سخن جناب داغ دہلوی کا خوبصورت شعر نظر نواز ہو
عشق و جنوں سے مجھ کو لاگ ہوش وخرد سے اتفاق
پر یہ کہوں تو کیا کہوں میں نے ستم اٹھاے کیوں
اور اب حضور سیدی سرکار اعلحضرت رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ کو دل تھام کر سنیں جو آپ نے آقا علیہ السلام سے عقیدت و محبت کا اظہار اس شعر میں فرمایا ہے
جان ہے عشق مصطفٰے روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزا نازِ دوا اٹھاے کیوں
مغلیہ سلطنت کے آخر چشم و چراغ جناب بہادر شاہ ظفر کے شاعری کی ایک شہرت کی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ نے لمبی لمبی ردیفوں میں شعر کہا ہے
واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے
یہ جدائی نہیں تو پھر کیا ہے
اب ذرا دیکھیں فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کی فکر ضوفشاں نے کیا کیا پھول
, کھلاے ہیں۔
رخ دن ہے یا مہر سما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زلف ہے یا مشک ختا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
یہ مشہور و معروف اساتذہ شعر وسخن کے اشعار کے ساتھ فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کے چند اشعار بطور نمونہ پیش کیے گئے ، یہاں پر ایک فرق ملحوظ خاطر رہے کہ فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کہ اشعار انکی نعتوں سے لیے گئے جبکہ دیگر شعراء کے اشعار انکی غزلوں سے اہل ادب کاماننا ہے کہ شاعری کی سب سے مشکل صنف نعت گوئی ہے۔ جس میں معبود اور عبد کے فرق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اس
میں قدم قدم پر احتیاط اور حرف حرف پر شرعی قید وبند کا خیال رکھناہے اور تجاوز و بے ادبی سے دامن بچانا ہوتا ہے۔
فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کا یہ کمال ہے کہ کبھی جادۂ ادب سے سرِ مُو انحراف نہیں ہونے دیا اور شعروسخن میں دلکشی ، متانت ، سنجیدگی ، سوز وعشق ، فصاحت و بلاغت اور لطافت میں ایسی انفرادیت حاصل کی شعراے زمانہ اس کے معترف ہیں۔
یہاں شروع میں غالب وغیرہ سے فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کے موازنے کا مقصد صرف اظھار عقیدت یا کسی کو کسی سے برتر یا کم تر ثابت کرنا نہیں بلکہ فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ سے روا رکھی جانے والی ادبی خیانت اور ظلم کی نشاندہی کرنا ہے کہ کس طرح مسلکی تعصب اور بغض و عناد رکھنے والوں نے فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کی شاعری کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔
آج بھی اگر کوئی انصاف پسند شخص حضور فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کے وہ کمالات کو نظر انداز کرکے صرف انکی شاعری کا مطالعہ کرے تو وہ خود بخود انکی عظمت کا معترف ہوجاے گا اور ان سے محبت کرنے لگے گا ، کیونکہ سرکار فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کی شاعری کسی ایک مخصوص مسلک ، گروہ یا صرف محراب و منبر سے وابستگان کےلیے نہیں بلکہ یہ تو ہر اس شخص کےلیے ہے جو بقول اقبال محبت رسول کو دین حق کی شرط اول سمجھتا ہے۔
کسی کا تعصب ، سفیرِ محبت سرکار فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کی پھیلائی ہوئی عشق رسول کی خوشبو کو روک نہیں سکتا ہے۔
دیکھیے تو ذرا اس مسافر کی بے تابی کا عالم جو اس عاشق رسول نے مدینہ منورہ سے اپنی شاعری میں محبت کا اظہار کیا ہے وہ اہل وفا شعار کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہے
جان و دل ہوش وخرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا
دیکھو راہ مدینہ کا ادب کیسے سکھاتا ہے
ہاں ہاں رہ ِ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ
او پاوں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے
بارگاہ رسول اکرم میں یہ عاشق زار رنگ تغزل کو درجہ کمال پر لے جاتا ہے
وہ سوے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
جب مدینہ منورہ سے رخصت کا وقت ہوتا ہے تو اس وقت فاضل بریلوی کے عشق و محبت کس طرح رنج و غم کی تصویر بن جاتی ہے ۔
رخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اٹھاے کیوں
سوتے ہیں ان کے سایہ میں کوئی ہمیں جگاے کیوں
بار نہ تھے حبیب کو پالتے ہی غریب کو
روئیں جو اب نصیب کو چین کہو گنواے کیوں
ایک عاشق رسول نے کہا تھا کہ اقبال کی شاعری قرآن کی طرف لے جاتی ہےلیکن اعلحضرت فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ کی شاعری صاحبِ قرآن کی طرف لے جاتی ہے۔
ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلّم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
اللہ پاک اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں فاضل بریلوی رحمۃاللہ تعالی علیہ جیسا عاشق رسول بنائے آمین ثم آمین یا رب العالمین
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں