پرایٔوٹ مدارس وان کے اساتذہ کا گھر کیسے چلے گا؟؟؟۔۔محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی ۔۔۔

؟پرایئوٹ مدارس وان کے اساتذہ کا گھر کیسے چلے گا*
ہاشم قادری صدیقی مصباحی۔۔

جمشید پور۔

آج لاک ڈاون ہے مدارس کو جو چندے بڑے شہروں سے
حاصل ہوتے تھے وہ بھی لاک ڈاون کے نذر ہوگئے
سفرا حضرات اپنے گھروں میں مقید ہیں مدارس بند ہیں رمضان المبارک کی وصولی پر پھلنے پھولنے والے مدارس پر لاک ڈاون کا جن بندش کرکے مرجھانے کیلیے چھوڑ دیا ہے
اس سال چندہ نہ ہونے کیوجہ سے نہ جانے کتنے مدارس کو بند کرنا پڑے گا کیونکہ ان مدارس نے کبھی مستقبل کی مستقل منصوبہ بندی نہیں کی تھی بڑے کی کھال بند ہوئی آنکھیں نہیں کھلیں چرم قربانی بے قدروقیمت ہوگیا پھر بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوئی ایڈد مدارس میں تقرری کے نام پر دس دس لاکھ لیے گئے مگر مدارس کیلیے کوئی مستقل ذریعہ آمدنی کا انتظام نہیں ہوا آج زکواة کی رقم بھی تقریبا مدارس کیلیے بند ہو چکی ہے جو زکواة دیتے تھے وہ خود اپنے اہل وعیال کیلیے زکواة کی رقم سے دو وقت کی روٹی کا انتظام کر رہے ہیں میں سب کی بات تو نہیں کرتا لیکن لاک ڈاون نے اچھے اچھوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے کل لے دے کے مدارس کے آمدنی کا ایک واحد ذریعہ تھا وہ بھی بند ہوگیا لیکن سوال یہ ہے کہ بجٹ نہ ہونے کیوجہ سے خدا نہ کرے مدارس بند ہوں اگر بن ہوئے تو کیا اراکین مدارس جو پچاسوں سال سے چندے کی رقم اپنے پاس بیلنس کرکے رکھتے تھے اس سال وہ اپنے مدرسے کے اساتذہ کیلیے اپنی تجوری کھولیں گے اگر کھولتے ہیں تو انھیں دل سے سلام اگر دل بڑا نہیں کرتے ہیں تو ان ہزاروں ہزار علماے کرام اساتذہ کرام جنھیں رمضان المبارک کے چندے سے تنخواہ ملتی تھی انکا کیا ہوگا انکے بچوں کا کیا ہوگا یہ ایک بڑا سوال پرائیویٹ مدارس کے اساتذہ کیلیے ہوگا اللہ رب العزة مسبب الاسباب ہے
لیکن ظاہری طور پر اگر میں اراکین کے بعد ان پیشےور خطباء کا نام لوں جنھیں انھیں علماے کرام نے چندے کرکے ایک ایک گھنٹے کی تقریر کا پچیس تیس پچاس ہزار روپیہ نذرانہ دیا تھا کیا وہ اس مشکل گھڑی میں اپنے ہاتھ مدد کیلیے دراز کریں گے میں تو سمجھتا ہوں کہ وہ سوچیں گے بھی نہیں مگر ہوسکتا ہے کچھ خطباء ایسے ہوں جنکے دل میں خوف خدا پیدا دل میں چندہ کرکے نذرانہ دینے والے مولویوں کا درد پیدا ہو جائے تو اپنی جمع پونجی سے مدد کا ہاتھ بڑھا بھی سکتے ہیں اگر ایسا کوئی خطیب آگے بڑھکر کسی ایک مدرسے کے سال بھر کا خرچہ اپنے زمہ لے لے تو چندہ کرکے نذرانہ دینے والے علماء مجھے اطلاع کردینا میں انکی دست بوسی کرکے اپنے آپ کو خوش قسمت بنا لوں گا ورنہ آئیندہ کیلیے آپ خود عالم دین ہیں اپنے آپ کو سنبھال لینا جو آپ کی مصیبت میں کام نہیں آسکتا جو دینی مدارس کے مشکل وقت میں مدد نہیں کرسکتا نہ وہ دین کا سچا داعی ہوسکتا ہے اور نہ مدارس کا مخلص رکن ہوسکتا ہے
اللہ تعالی ہمارے پرائیویٹ مدارس رحم فرماے  اور پرائیویٹ اساتذہ کرام کو سمجھ عطا فرماے اور  اللہ رب العزة ہمارے علماے کرام کو غیب سے بہتر رزق عطا فرماے اور انکی ہر مشکل کو آسان فرمائے امین
بات تلخ ضرور ہے مگر سچائی بھی ہے غور کرنے کی سخت ضرورت ہے .
*حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی جمشیدپور*
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں