کرنی ہوگی اپنی مدد۔۔ پروفیسر جمال نصرت۔۔۔

کرنی ہوگی اپنی مدد
 ہم آذار ہوے  بہت خوش تھے کہ اپنی سرکار ہوگی  اسکو ہم سے محبت ہوگی اور ہر طرف ترقیات کا عالم ہوگا ۔ملک کا نقشہ ہی بدل جائے گا ۔ جب خبر آی کہ جیلٹ اور سیون او کلاک کے بلیڈ  داڑھی بنانے والے ولایتی ہین اس لئے جواہر لعل جی نے داڑھی نہیں بنای ۔اسی لیے استرے سے خود بنانے میں چہرے پر خراشیں ڈال لیں ۔ جلد ہی بھارت نام کا بلیڈ بن گیا۔ جب غصے میں گھڑی لگانا چھوڑا تو ایچ۔ایم ٹی ۔گھڑی۔بھی بنی۔                    شروع میں ہم اپنی ضرورت۔کا%65ہی اناج پیدا کر پاتے تھے۔باقی بیرون ملکوں سے پی۔ایل480 کے تحت لیتے تھے ۔جیسے موجودہ بیماری میں  ایک عرب ڈالر حاصل کیا ہے۔پھر بھاکرہ ننگل ڈام بنایا دیگر کام کسانوں کی مدد کے کیے اور تیس برس قبل ہی خود کفیل ہی نہیں دوسروں کو دے نے والے بن گے  ۔      
                                                      کبھی ریل گاڑی لڈجاتی تو لوگ استیفہ دےدیتے ۔سوکھے اور باڑھ میں سب کی مدد ہوتی۔ناگہانی آفت میں لوگوں کو بیرون ممالک سے ہوائی جہاز اورملک میں  ریل اور بس سےمفت  لایا جاتا۔فساد وغیرہ کی صورت میں دورہ  مددآباد کاری اور معافی مانگ لی جاتی۔علاج اور دوبارہ بسانے کا کام ہوتا۔غلطیوں کا اعتراف کیا جاتا ۔راحت کے کام ہوتے کمیشن بیٹھتا .کچھ نتیجہ بھی آتا۔
                                               اب یہ عالم ہے کہ قاتل جب ضمانت ہوتی اور وہ جیل سے باہر آتا تو اسکو ہار پہنائے جاتے۔ طرہ طرہ کا جھوٹ بولے اور بلواے جاتے صاحب سرکار  اشتیال  انگیذ باتین کرتے۔امیروں کے قرضہ معاف کر دے گیے ۔ غریبوں سے کرایہ۔سبھی اخبار اور ٹی وی چینل ایک خاص بولی بولتے ہیں ۔کرونہ کی وجہ سے مندر مسجد بند اور شراب کی بوتلین آرام سے  بک رہی ہیں ۔لاٹھی مارنے والی پولس انکے ہی ساتھ ہے۔ غریب مذدور اسکے بیوی بچچے بچارے سیکڈوں کلو میٹر پیدل بھوک کے عالم میں  اپنے گھر جا رہے ہیں ۔آخر علاج کیاہے؟
                م                        حضرت موسی علیہ السلام نے جب اپنی قوم کے لے ریگستان میں اللہ تعالی سے پانی کی درخواست کی تو اسے پانی نہ دیتے ہوے کہا گیا کہ اپنا عصا اس خاص پتھر پر خود مارو۔نبی علیہ السلام نے حکم پر عمل کیا اور پانی حاصل کر لیا۔ اس طرہ 12 چشمےبھی ملے اور پوری قوم کو اطمینان ہوا۔( ق۔7-160) بس ہماری کوی مدد نہیں  کریگا ہمیں خور اپنی مدد کرنی ہوگی۔                                              پروفیسر جمال نصرت  ۔لکھنؤ  7355962950۔ بہترین 

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں