تبصرہ وتعارف۔۔۔۔۔کتاب کا نام: مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی_ جہان علوم ومعارف: مطالعاتی میزپر۔۔by wazir Ahmad misbahi

* مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی_جہان علوم و معارف: مطالعاتی میز پر *___
 
نام کتاب:-  مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی_جہان علوم و معارف
مولف   :-   مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی،ادارہ شرعیہ،رائے بریلی (یو-پی)
سن اشاعت:-  جمادی الاولیٰ ١٤٤١ھ/مطابق جنوری ٢٠٢٠ء
تعداد:-      ١١٠٠/ (گیارہ سو)
صفحات:-    ١٨٤
ناشر:-   تاج الاصفیا دارالمطالعہ مخدوم اشرف مشن،قطب شہر پنڈوہ شریف،ضلع مالدہ،بنگال
ملنے کے پتے :-   مخدوم اشرف مشن،پنڈوہ شریف،ادارہ شرعیہ اترپردیش،رائے بریلی،مصباحی اکیڈمی،مبارکپور اعظم گڑھ،وغیرہ
با اہتمام:-  مولانا سید اوحدالدین معاذ اشرف اشرفی جیلانی مصباحی،کچھوچھہ شریف
تبصرہ نگار ⁦✍️⁩  وزیر احمد مصباحی (بانکا)
شعبہ تحقیق:-  جامعہ اشرفیہ مبارک پور،اعظم گڑھ(یوپی)
wazirmisbahi87@gmail.com___
_______________________________
         چند ماہ قبل فیس بک یونیورسٹی پر کئی ایک عمدہ کتابوں کے ٹائٹل پیج باصرہ نواز ہوئے تھے۔ شناسا اور غیر شناسا متعدد افراد نے عرس عزیزی کے پربہار موقع پر اپنی قلمی کاوشوں کی قدرے جھلکیاں سوشل میڈیا کے دامن میں نشر کرکے قارئین کے قلبی ذوق کی تکمیل کے خاطر عمدہ سامان مہیا کیا تھا۔اس ضمن میں تو کئی ایک ہمارے ایسے احباب ہی شامل تھے جو چمنستان حافظ ملت میں اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں۔پر یہ غنیمت ہے کہ اسی بھیڑ میں سوشل میڈیا ہی کی وساطت سے دور حاضر کے ایک عمدہ نثرنگار، کہنہ مشق مفتی و قاضی اور درجن بھر کتابوں کے مصنف یعنی مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی سے میری فیسبکیا ملاقات ہوگئی۔ چونکہ موصوف کی اس وقت تقریبا دو تین کتابیں منظرعام پر آنے والی تھیں۔اس لیے برابر دل میں یہ اشتیاق مچلتا رہتا کہ کاش! کسی طرح مطالعہ کے لیے یہ چند کتابیں مجھے بھی ہاتھ آجاتیں اور معلومات میں قدرے اضافہ ہوجاتا۔
        شاید یہ اسی نیک تمنا اور قلبی لگاؤ کا خوشگوار نتیجہ ہے کہ ابھی چند روز قبل اچانک آپ کا فون آیا، علیک سلیک اور خبر و خیریت لینے کے بعد آپ نے محبت و شفقت بھرے لے میں گفتگو فرمائی اور لگے ہاتھوں بشکل پی ڈی ایف اپنی تازہ ترین کاوش"مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی_جہان علوم و معارف" کے علاوہ اور بھی دوسری چند تصانیف سے مشرف فرمایا۔مفتی موصوف کی ذات بڑی زود نویس واقع ہوئی ہے۔ایک کتاب کی شہرت اور اس سے متعلق اہل علم کے یہاں زبان زد حسن تذکرہ کمزور نہیں ہو پاتا ہے کہ منصہ شہود پر آپ کی دوسری کاوشیں اپنی اہمیت و افادیت کی جانب برابر اہل علم و دانش کی توجہ کھینچےلگتی ہیں۔میرے اپنے خیال کے مطابق اسے مصنف موصوف پر جھماجھم برسنے والے اشرفی فیضان کا حصہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔آپ خانوادہ اشرفیہ کے عقیدت کیش ہیں۔بزرگان کچھوچھہ،خصوصا علامہ سید محمد جلال الدین اشرف اشرفی جیلانی مدظلہ العالی سےآپ کا گہرا ربط ہے۔حضور اشرف الاولیا سید شاہ مجتبیٰ اشرف اشرفی علیہ الرحمہ کے کے لگائے ہوئے علمی چمن" مخدوم اشرف مشن" سے آپ کو قلبی لگاؤ ہے۔ آپ نے تقریبا تین سال تک اس ادارے میں تدریس و افتا کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیے ہیں۔ زیر نظر کتاب (مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی__ جہان علوم ومعارف) بھی خانوادہ اشرفیہ سے عقیدت و محبت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ آپ نے مرکز عقیدت، بانی سلسلہ اشرفیہ،حضرت غوث العالم، محبوب یزدانی، مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی قدس سرہٗ کے تمام تر علمی جاہ و جلال سے جس لطیف پیرائے میں پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے، وہ ہر جہت سے کامیاب ہے۔ لطائف اشرفی کے تذکروں سے سے راقم الحروف کے کان کئی مرتبہ آشنا ہوئے ہیں اور متعدد علمی شخصیات کی زبانی سننے کے ساتھ ساتھ ایک دو دفعہ پڑھنے کا بھی حسن اتفاق میسر آیا ہے،لیکن اس کتاب میں مجھے مخدوم اشرف کے علمی کمالات و خصوصیات کی روشن دلیلوں کے بجائے ان کے کشف و کرامات کی شعائیں زیادہ بکھری ہوئیں ملیں۔
        آپ کی یہ کتاب تقریبا ١٨٤/صفحات پر مشتمل ہے۔ بشمول فہرست متعدد شخصیات مثلا: شیخ الاسلام علامہ مفتی مدنی میاں کچھوچھوی، قائد ملت حضرت علامہ سید شاہ محمود اشرف کچھوچھوی، تاج الاولیا علامہ قادری میاں کچھوچھوی اور مفکر اسلام حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی کی طرف سے بالترتیب " دعائیہ کلمات، کلماتِ تبریک،تقریظ جلیل اور نگاہ اولیں" کے تحت قیمتی اور مفید باتیں رقم کی گئیں ہیں، جو تقریبا ۳۰/ صفحات پر مشتمل ہیں۔ موصوف کی بیش بہا قلمی خدمات کے اعتراف میں ہر دلعزیز شاعر مولانا سلمان رضا فریدی مصباحی،مسقط عمان، کی طرف سے ۱۳،گراں قدر اشعار پہ مشتمل ایک منظوم تاثر بھی شامل اشاعت ہے۔ کتاب ھذا کو سجانے، سنوارنے اور اسے ایک خوبصورت علمی گلدستہ بنانے میں آپ نے کم و بیش ۳۰/ مصادر و مراجع کا سہارا لیا ہے۔قلم کی روانی ہر جگہ قائم ہے، موضوعاتی حدود سے کہیں بھی تجاوز نہیں کیا گیاہے، انصاف کا پیمانہ ہر جگہ قائم ہے، کشف و کرامات سے پرے اٹھ کر بس مخدوم پاک کی علمی تحقیقات، تصنیفات اور تعبیرات پر مکمل روشنی ڈالی گئی ہیں، تحریر و بیان کی سحر انگیزی قاری کو مکمل طور پر اپنے حصار میں لے لینے والا ہے، کتاب پڑھنے کے بعد یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ مخدوم پاک کی ذات بابرکات شریعت و طریقت کی حسین سنگم تھی۔ آپ کشف وکرامات کے میدان میں جہاں یکتائے روزگار تھے وہیں علمی دنیا میں بھی کمال کے شہسوار۔منطقی گتھیوں کو سلجھانے کا ہنر خوب جانتے تھے، علم دوستی کے باب میں ادنی سی فروگزاشت بھی ہرگز ہرگز برداشت نہیں کرتے اور جس طرح بھی ممکن ہو اسے بجا لانے کی کوشش کرتے۔ اس ضمن میں کتاب ھذا ص: ٤٦،٤٥ پر رقم کردہ ایک انوکھا واقعہ سے نگاہیں ٹھنڈی کریں اور اس بات کا اندازہ لگائیں کہ مخدوم پاک نے علمی شغف اور اس لازوال دولت کی حصول سے حضرت سید عبدالرزاق نورالعین کو شاد کام کرنے کے لیے مولانا جمال الدین بدخشانی کو اپنے ہمراہ ایک سال تک کس طرح سفر میں رکھا اور کیسے خطیر انعامات و اکرامات سے انھیں نوازا؟۔
       مخدوم پاک کی ذات یقیناً اس نیر تاباں کی مانند ہے، جس سے نہ جانے کتنے ہی گم گشتگان راہ نے ہدایت و ارشاد کی دولت پائی اور پھر اپنے خالی کشکول میں علم و بصیرت کے جواہرات اس تہداری سے سجائیں کہ ہر کوئی علم و ادب کے حسین سنگم نظر آنے لگے۔ ڈاکٹر صباح الدین عبدالرحمن نے اپنی تالیف بزم صوفیہ میں مخدوم پاک کی تبحر علمی کے حوالے سے کچھ یوں خامہ فرسائی کی ہیں:
      "حضرت مخدوم پاک منقولات و معقولات کے جید عالم تھے، لطائف اشرفی میں بعض علمی مسائل پر بحث بھی ہے،ان مباحث سے ان کے علمی تبحر کا اندازہ ہوتا ہے"۔
        یہ کتنی کمال اور قابل رشک بات ہے نا کہ مخدوم پاک اپنے سفر کے دوران جہاں اور جس دور دراز مسلم علاقے میں بھی تشریف لے جاتے، آپ وہیں کی زبان میں خطاب فرماتے اور واپسی پر انھیں کی زبان میں کوئی گرانقدر تصنیف لطیف ان باشندوں کے لیے چھوڑ آتے تاکہ وہ برابر اس سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔ جی! مخدوم پاک کا یہ عمل اگر ایک طرف ان کے کثیر زبانوں میں لکھنے، پڑھنے اور بولنے کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے تو وہیں دوسری جانب تبلیغِ دین حنیف کے خاطر ایسے بلند و بالا فلک پیما حوصلوں کو بھی درشاتا ہے، جسے نہ تو کبھی آبلہ پائی کی آہ لگی اور نہ ہی شکوہ و شکایت کی گھن۔ بلکہ ہر محاذ پر شریعت اسلامیہ کی ترویج و اشاعت میں جٹے رہے۔ فخر صحافت علامہ مبارک حسین مصباحی ص:/٢٨ پہ ، شیخ المشائخ حضرت سید شاہ محمد علی حسین اشرفی جیلانی اللہ الرحمن کا" لطائف اشرفی" کے حوالے سے یہ اقتباس نقل کرتے ہیں کہ:
       " حضرت مولانا ابوالفضائل نظام الدین یمنی خلیفہ اعلی حضرت کے جامع ملفوظات حضرت محبوب یزدانی فرماتے ہیں کہ حضرت محبوب یزدانی کا علم عجیب خداداد علم تھا کہ روئے زمین میں جہاں تشریف لے گئے وہیں کی زبان میں وعظ فرماتے اور اسی زبان میں کتاب تصنیف کر کے وہاں کے لوگوں کے لیے چھوڑ آتے۔ بہت سی کتابیں آپ کی عربی، فارسی، اور سوری اور عربی اور زنگی اور ترکی مختلف ملک کی زبانوں میں جو تصنیف فرمائیں جن کی فہرست لکھی جائے تو ایک طومار ہوجائے گی"۔
     مخدوم پاک بڑے ذہین طبیعت کے مالک تھے۔ ایک سال کی ہی قلیل مدت میں حضرت علی بن حمزہ الکسائی قدس سرہٗ سے قرأت سبعہ کے ساتھ قرآن پاک حفظ فرما لیا۔ آپ بارہ برس کی عمر میں ہی علوم معانی و بلاغت و معقول ومنقول، تفسیر وفقہ وحدیث و اصول جملہ علوم سے فارغ ہو گیے تھے۔مکۃ المکرمہ میں حضرت امام عبداللہ یافعی سے سند حدیث حاصل کی۔ مصنف موصوف ص:٣٥ پر آپ کی علمی شان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
      " آپ کو مختلف علوم و فنون پر دسترس حاصل تھی۔مطالعہ بڑا وسیع تھا، طرزاستدلال بڑا عالمانہ تھا، مشکل سوالات و اشکالات کی عقدہ کشائی آپ بڑے عالمانہ و احسن انداز میں کرتے تھے، آپ کے عصر میں بڑے سے بڑا مفکر، منطقی، مناظر، فلسفی آپ کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ طے کیا کرتا تھا، اپنے دور کے علما و مشائخ سے آپ کا علمی و روحانی رشتہ بڑا مضبوط و مستحکم تھا، علما سے آپ کے علمی مباحثے بھی ہوئے، ان کے اعتراضات کا آپ نے اطمینان بخش جواب بھی دیا اور وہ آپ کے علم و فضل کے نہ صرف معترف و قائل ہوئے، بلکہ آپ سے علمی استفادہ بھی کیے اور آپ کے حلقہ ارادت میں بھی داخل ہوئے، اپنی گراں قدر تصنیفات کی آپ سے اصلاح کرکے ان پر سند توثیق بھی حاصل کیں، اپنی تصنیفات و تالیفات کے حوالے سے مشائخ کرام سے آپ کی علمی بحثیں بھی ہوئیں اور اپنے منفرد اندازِ بیان اور دلائل و براہین سے آپ نے ان کو قائل بھی کیا"۔
          یقیناً موصوف کے یہ مختصر مختصر سے جملے اس قدر سلیس اور سادہ ہیں کہ جیسے الفاظ وتعبیرات اس کے سامنے صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور معانی و افکار بارش کی بوندوں کی طرح متواتر اس کے قلم سے صفحہ قرطاس پر ٹپک پڑے ہیں۔ان چھوٹے چھوٹے جملوں میں مخدوم پاک کی تمام تر علمی جاہ و جلال کو اس طرح بیان کر دیا گیا ہے کہ جیسے معانی کی کائنات سمیٹ دی گئی ہو، اور یہی وہ فنِ نثر کا جادو ہے جو قاری کو مسحور کرنے کے ساتھ ساتھ دل ودماغ کی دنیا بھی بدل دیتا ہے۔
        کتاب ہذا کے ص:٥٥/پر "تصنیفات و تالیفات" کے نام سے ایک سرخی قائم کی گئی ہے ساتھ ہی فارسی ترجمہ قرآن، لطائف اشرفی، مکتوبات اشرفی اور اخلاق و تصوف جیسی اہم و معرکۃ الآراء کتاب پر قدرے تبصراتی نوٹ بھی شامل ہے۔ اول الذکر کتاب "فارسی ترجمہ قرآن" تئیں بعض حضرات کا یہ خیال ہے کہ فارسی زبان میں قرآن کا ترجمہ کرنے والوں میں مخدوم پاک کو تقدم و اولیت حاصل ہے۔ لگے ہاتھوں ص: ٦١ پرمخدوم پاک کی تصنیف کردہ دوسری ۳۰/ چھوٹی بڑی کتابوں کے اسما بھی مذکور ہیں۔جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نہیں! مخدوم پاک نے مخلوق خدا کی صلاح و فلاح کے لیے زبردست علمی خدمات انجام دی ہیں۔
         یہ بات مسلم ہے کہ کسی بھی عالم دین کی حذاقت ولیاقت اس وقت مزید صیقل اور اہم ہوجاتی ہے جب وہ بغیرکسی تکلف کے ہم عصروں کی طرف سے اٹھنے والے تمام تر سوالات کا تشفی بخش جوابات عنایت کر دے۔مخدوم پاک کی حیات طیبہ اس ضمن میں بالکل یکتا اور منفرد ہے۔ معاصرین کی طرف سے ذاتی چشمک یا پھر اور کسی دوسری وجوہات کی بنا پر اٹھائے گئے تمام تر اعتراضات و مباحثے کا حل آپ نے بڑی خندہ پیشانی سے پیش فرمایا اور لوگوں اپنی علمی بالادستی پہ قائل کرلیا تھا۔ جی! یہ سچ ہے کہ بلند و بالا شخصیتوں کو منزل مقصود تک پہنچنے میں بے شمار سخت مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے، کئی ایک رکاوٹیں ان کی راہ میں روڑے ڈالنے کا کام کرتی ہیں اور بسا اوقات یہی رکاوٹیں اور تکالیف آہنی دیوار بن کر امید و بیم کی آخری پگڈنڈی بھی مسدود کر دیتے ہیں۔مگر وہ حوصلے جو، جوان ہوتے ہیں اور منزل کی جستجو میں برابر دھڑکنے کا کام کرتے ہیں،کبھی بھی شکست و ریخت تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے، بلکہ منزل مقصود کا سراغ پانے میں وہ کسی نا کسی طرح کامیاب ہو ہی جاتے ہیں۔مخدوم پاک  کی ذات بھی اسی بلند و بالا باہمت لوگوں میں سے ایک ہے۔آپ نے معاصرین علما کی تنقیدات کا اپنے خدا داد علمی وعملی فولاد سے جم کر مقابلہ کیا۔عناد و تنقید کی گرم بازاری کو کمال تدبر سے سرد فرمانے کے ساتھ غلط افکار و نظریات کو بھی صراط مستقیم کا سراغ دے دیا۔مصنف موصوف نے مخدوم پاک کے معاصرین علما کی فہرست میں ص:٨٢، پہ جہاں تقریبا ٣٠/ سے زائد صاحبانِ فکر و فن کے نام شمار کرائے ہیں وہیں برابر ان کے طرف سے اٹھنے والے اعتراضات، تنقیدات، فقرا کے غلط افکار و نظریات اور تمام تر علمی موشگافیوں کا مخدوم پاک کی جانب سے بروقت عطا کردہ شافی حل بھی رقم کر دیا ہے تا کہ قاری تشنہ لب نہ رہنے پائے۔ص:٨٦ سے مخدوم پاک کی علمی تحقیقات کو جس طرح صاف ستھری اردو زبان میں تحریر کیا گیا ہے، وہ فائدے سے خالی نہیں ہے۔ مسئلہ "وحدت الوجود" کی تشریح میں جس طرح( توحید کی تعریف، توحید کے معانی، نص قرآنی کی تشریح، اسلوب زبان، قاعدہ اصول فقہ اور قانون علم کلام وغیرہ، سرخیوں کے تحت) تحقیق انیق پیش کی گئی ہے، اس سے مخدوم پاک کی علمی مہارتوں کی تیز تر روشنی چھن چھن کر باہر آتی ہیں اور قارئین کے دل و دماغ کو بالکل مسحور کر دیتی ہے۔اسی باب میں آگے چل کر مسئلہ "رویت باری تعالی" کی بھی زبردست تحقیق پیش کی گئی ہے۔ توحید کی تعریف کے ساتھ اس کے چند مراتب(توحید ایمانی، توحید رسمی، توحید حالی اور توحید الہی) پر بھی بہترین تجزیہ نگاری کی گئی ہے۔رویت کے اقسام وانواع پر بھی منفرد خامہ فرسائی پیش نظر ہے۔ص: ٨٦ تا ١١٠ پر منتشر مذکورہ بالا دونوں مسئلوں(مسئلہ وحدت الوجود،مسئلہ رویت باری تعالیٰ) کی تحقیق اور اس سے متعلق نادر و نایاب علمی گوشے انتہائی مفید ہیں۔ پڑھنے پر یہ احساس مزید وا ہو جاتے ہیں کہ نہیں! مخدوم پاک نے اپنے قارئین کے لئے علم کا دریا نچوڑ کر سامنے رکھ دیا ہیں۔ کچھ دور آگے چل کر مصنف موصوف نے جہاں شعراے متقدمین کے مشکل اشعار کی مخدومی توضیح و تشریح کو بہترین اردو قالب میں ڈھالنے کا‌ کام کیا ہے وہیں مشائخ کرام کے کلمات شطحیات کے معانی اور ان کی تشریح کو بھی پرکشش نثری اسلوب کا خوبصورت جامہ پہنایا ہے۔مختلف افراد کے ایسے کئی ایک شطحی اقوال مندرج ہیں،جسے مخدوم پاک نے قاعدہ سکر و صحو کی روشنی میں حل فرمایا ہے۔ کمال کی دانشمندی کا‌ مظاہرہ کرتے ہوئے ص:١٣٠ پر وہ متعدد گراں قدر مکتوبات بھی رقم کر دئیے گئے ہیں،جسے مخدوم پاک نے وقتاً فوقتاً اپنے مریدین و متوسلین، بادشاہان وقت اور علما و صوفیا کے نام لکھے ہیں۔ ان مکتوبات کے حوالے سے ص:١٣٠/پہ آپ لکھتے ہیں:
       " حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کے مکتوبات کا مجموعہ بھی آپ کے علمی جواہر کا انمول خزانہ ہے، ان مکتوبات میں علوم شریعت اور رموز طریقت و معرفت کی قیمتی اور اہم باتیں پیش کی گئی ہیں جو انسانی زندگی کے لئے نہ صرف مشعل راہ ہیں بلکہ ان کی کامیابی و سرخروئی کی اس میں ضمانت ہے"۔
     
       ص:١٣٨ تا آخر کتاب ‌دو نہایت ہی مفید باب(حقائق و معارف تصوف کا بیان، تعلیمات و ارشادات)باندھا گیا ہے۔اول الذکر باب"حقائق و معارف تصوف کا بیان" میں شیخ و مرید کے شرائط و آداب شمار کرانے کے ساتھ ساتھ ذکر، حیرت، ولایت، اختیار،عشق و محبت کے جامع شرائط و آداب اور ان کے انواع و اقسام پر بالتفصیل روشنی ڈالی گئی ہیں۔ آگے چل کر محبت کے مکمل پانچ اسباب ذکر کرنے کے بعد ہی طبقات عشاق کی جو فہرست پیش کی گئی ہے، وہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ آخرالذکر باب "تعلیمات و ارشادات" کے تحت آپ نے بڑی سلیس اردو زبان میں ایسے گراں قدر نادر و نایاب اقوال کا تذکرہ کیا ہے، جنھیں پڑھنے کے بعد واقعی روحانی حلاوت محسوس ہوتی ہے، ذہن و دماغ میں اک عجیب ایمانی چاشنی اپنے وجود کا احساس دلانے لگتی ہے اور قاری کے اپنے حرکات و سکنات خدا داد غیبی قوت میں شرابور ہونے کی گواہی بھی دیتے ہیں۔ یہ اقوال مختصر ضرور ہے مگر اپنے اندر وسیع و عریض  قیمتی مفاہم و مطالب سموئے ہوئے ہیں۔ بطور مثال مندرجہ ذیل کچھ اقوال دیکھیں:
      (١) آپ نے فرمایا :" خدا کسی انسان کو بخیل نہ بنائے، کیوں کہ بخل کافروں کی خاصیت ہے، ان کے بخل کا انتہائی ثبوت یہ ہے کہ ان کے لئے ناخون سے پہاڑ کھودنا آسان ہے لیکن کلمہ زبان پر لانا دشوار ہے"۔(ملخصا،ص:١٧٧)
        (٢)آپ نے فرمایا:"  اپنے اعضا کا عمدہ عبادتوں سے آراستہ کرنا اور باطن کا پسندیدہ خوبیوں سے سنوارنا فیض الہی کا موجب اور لامتناہی الطاف کے ورود کا باعث ہے"۔
       (٣) آپ نے فرمایا:" روزہ تمام عبادتوں سے افضل ہے، کیوں کہ اس میں ریاضت، مجاہدہ، مشاہدہ، سخاوت، کرامت اور روشنائی، روحانی و جسمانی شامل ہے، بے خوابی پیدا ہوتی ہے اور دل بیدار ہوتا ہے"۔
     اسی طرح اور بھی تقریبا ٤٠/ متعدد گراں قدر ارشادات و اقوال کو بھی مصنف نے بڑی خوبصورتی سے پیش کرنے میں کامیاب کوششیں کی ہیں‌، قارئین کی سہولتوں کا ہر گام خیال رکھا گیا ہے، پوری کتاب رطب ویابس سے مکمل طور پر پاک و صاف ہے اور سب سے بڑھ کر جو چیز کتاب کو اشاعت کے باب میں سند جواز فراہم کرتی ہے وہ ہے موضوع کے ساتھ بھرپور دیانت و انصاف کا مظاہرہ۔ صاف ستھری اردو زبان و بیان میں مخدوم پاک کی علمی لیاقت و حذاقت کو اجاگر کرنے کے لئے یہ ایک کامیاب کوشش ہے، پڑھتے وقت کہیں بھی اکتاہٹ سی محسوس نہیں ہوتی ہے۔ یقینا یہ وہ علمی گلدستہ ہے جسے اردو نثری ادب کے فروغ کا زبردست حصہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ جگہ جگہ محاورات، برمحل اشارات، کنایات اور تشبیہات کا استعمال کتاب کو تفوق و تعلی کے منصب پر فائز کرتی ہے۔ ادائیگی معانی کے باب میں مصنف نے الفاظ کا چناؤ بڑی بیدارمغزی سے کیا ہے، ایک ہی لفظ، خیال و فکر کی دسیوں معنی خیز عقدہ کشائی اس چابک دستی سے کرتا ہے کہ قاری پر خوشگوار حیرت طاری ہو جاتی ہے۔مصنف کی مادری زبان اگرچہ "بنگلہ" ہے، پر اردو زبان و ادب میں اس کے قلم کی سبک خرامی لاجواب ہے۔
       اہل علم و دانش کی جناب سے ہمیں یہ قوی امید ہے کہ آپ بھی مصنف موصوف کی اس عمدہ  کاوش کو اپنے مطالعاتی میز کی زینت بنائیں گے اور مخدوم پاک کی وسیع علمی کائنات سے صدقہ حاصل کرکے  اپنے ذہن و دماغ اور خالی کشکول کو بھی شاد کام کریں گے۔(انشاءاللہ) اللہ کریم مصنف موصوف کو جزائے خیر کے ساتھ مزید اسی طرح کی علمی کام کرنے کی توفیق رفیق سے نوازے۔(آمین یا رب العالمین)

             ایں دعا از من و جملہ جہاں آمین باد

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں