صدقہ فطر کے اعلان میں فقط" گیہوں "کا تذکرہ - ایک لمحہ فکریہ.. محمد فیضان سرور مصباحی۔۔Faizan sarwar misbahi

⚖️ *صدقۂ فطر کے اعلان میں فقط "گیہوں" کا تذکرہ ــــ ایک لمحۂ فکریہ*⚖️
🌾➖➖➖➖ 🌴
مولانا فیضان سرور مصباحی۔ ⁦✍️



صدقۂ فطر "بدنی زکوٰۃ "کی ایک صورت ہے، جس میں صاحبانِ استطاعت رمضان المبارک کے روزوں کے بحسن وخوبی اختتام پر سَروں کی گنتی کے حساب سے اپنے اور اپنے زیرِ پرورش افراد کی جانب سے کچھ اناج یا ان کی قیمت راہ خدا میں خرچ کرتے ہی
➖➖➖➖
   *صدقۂ فطر کے منصوص اجناس*
          ـــــــــــــــــــــــ
 🌴صدقۂ فطر کی مقدار اور اس کے اجناس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
 ⚖️ صدَقةُ الفِطْرِ صاعٌ من تَمْرٍ، أو صاعٌ من شعِيرٍ أو مُدّانِ من حِنْطَةٍ،  عن كلِّ صغير و كبير، وحُرٍّ وعبدٍ.

أخرجه الدارقطني (٢/١٤٣)، وابن الجوزي في «التحقيق » (١٠١٢) عن عبدالله بن عمر

⚖️  صدَقةُ الفِطْرِ صاعٌ من تَمْرٍ، أو صاعٌ من شعِيرٍ أو مُدّانِ من حِنْطَةٍ، عن كلِّ صغيرٍ و كبيرٍ، وحُرٍّ وعبدٍ.
{أخرجه السيوطي (٩١١ هـ)، الجامع الصغير ٤٩٧٥  عن ابن عمر }
⚖️ عن عبدالله بن عمر: أمرنا رسولُ اللهِ ﷺ أن نُخرجَ صدقةَ الفطرِ عن كلِّ صغيرٍ و كبيرٍ حرٍّ أو عبدٍ صاعًا من تمرٍ أو صاعًا من زبيبٍ أو صاعًا من شعيرٍ... الحديث.
{أخرجه الحاكم في معرفة علوم الحديث ص: ١٩٩}
 ان احادیث کریمہ کا حاصل یہ نکلا کہ استطاعت رکھنے والے افراد کو حسبِ ذیل چار اجناس میں سے کسی ایک سے صدقۂ فطر کی ادائیگی انھیں مقدار میں کرنی چاہیے جن کی صراحت  خصوصی طور پر حدیث میں ملتی ہے، اور وہ ہے :
1_  کھجور = ایک صاع
2_   جَو     =  ایک صاع
3_ گیہوں = نصف صاع
4_ کشمش/ مُنَقّیٰ= ایک صاع
5_ بعض جگہ پنیر کے بارے میں بھی ایک صاع کی مقدار کے ساتھ نکالنے کا اختیار ملتا ہے.
➖➖➖➖
*صدقۂ فطر کے بنیادی مقاصد*
           ــــــــــــــــــــ
🌴 صدقۂ فطر کی ادائیگی کے پس پشت کارفرما مقاصد بہت ہیں، ان میں سے دو کا صریح تذکرہ احادیث میں ملتا ہے :
(1) روزہ کے درمیان جو کوتاہیاں ، لغزشیں، بدکلامیاں اور لایعنی کام ہوگئے ہیں، یہ صدقۂ فطر ان کا کفارہ بن جائے . چنانچہ حدیث میں ہے :
عن ابن عباس – رضي الله عنهما– قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم- قال: فرض زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين.(ابو داود ح ۱۶۰۶، ابن ماجہ ح ۱۸۷۲)
2_ مساکین وفقراء کے خوراک کا انتظام ہوجائے، اور وہ خاص عید کے دن گھر گھر مانگنے کی زحمت سے بچ کر دوسرے بھائیوں کے ساتھ خوشی خوشی عید منائیں.
ويقولُ ﷺ:  أَغنوهم عن طوافِ هذا اليومِ. _ (معرفۃ علوم الحديث وکمیۃ اجناسہ للحاکم. ١٩٩)
یعنی صدقہ فطر ادا کرکے آج کے دن انھیں در بدر پھرنے سے بے نیاز کر دو.
⚖️عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم-: "أغنوهم في هذا اليوم" وفي روايةالبيهقي : أغنوهم عن طواف هذا اليوم ،(دار قطني،2/152 ،بيهقي،4/175)
رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس دن غرباء کو سوال کی حاجت سے بے نیاز کردو. بیقہی کی روایت میں ہے کہ اس دن مانگتے پھرنے سے انھیں بے نیاز کردو.
⚖️ بدائع الصنائع میں إمام أبو حنيفة سے منقول ہے کہ صدقۂ فطر میں روپیہ پیسہ نقد دینا بھی جائز ہے، کیوں کہ قیمت دینا اس کی حاجت روائی میں زیادہ مُمِـد ومعاون ہے :
"لأن الواجب في الحقيقة إغناء الفقير، لقوله -صلّى الله عليه وسلم -: «أغنوهم عن المسألة في مثل هذا اليوم» والإغناء يحصل بالقيمة، بل أتم وأوفر وأيسر؛ لأنها أقرب إلى دفع الحاجة، فيتبين أن النص معلل بالإغناء. {بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع /129)
 در حقیقت عید کے دن فقیر کو مانگے کی حاجت سے بے نیاز کرنا مقصود ہے کیونکہ حدیث پاک میں ہے : «أغنوهم عن المسألة في مثل هذا اليوم»
اس دن سوال کی حاجت سے فقیر کو بے نیاز کردو، اور إغناء قیمت دینے سے حاصل ہوجاتی ہے بلکہ یہی زیادہ تام اور آسان ہے، کیونکہ ضرورت پوری کرنے کے لیے نقد روپیہ زیادہ  مددگار ہوتا ہے.
➖➖➖
       *آمدم برسر مطلب*
            ــــــــــــــــــــ
ان بنیادی باتوں کے بعد اب اصل مقصد کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ :
ہمارے ملک ہندوستان میں یہ عمومی رواج چل پڑا ہے کہ جب صدقۂ فطر کی ادائیگی کی بات آتی ہے تو فوراً گیہوں کا بازاری نرخ دماغ میں آجاتا ہے.  بلکہ اگر کوئی سائل جاننا بھی چاہتا ہے تو نصف صاع گیہوں کی بازاری قیمت لگانے کو کہ کر گلو خلاصی کی کوشش کرلی جاتی ہے .  یہ جانے بغیر کہ اس بندے کی مالی حیثیت کہاں تک مضبوط یا متوسط یا کمزور ہے.
اور صرف یہی نہیں بلکہ باضابطہ بڑے بڑے اسلامی اداروں کی جانب سے صدقۂ فطر کی مقدار کے بارے میں جو لیٹرپیڈ پر رہنمائی جاری ہوتی اس میں بھی فقط گیہوں کا ذکر اور مقامِ اجراء کے حساب سے اس کی قیمت کا تعین ہوتا ہے.
بقیہ کجھور، کشمش منقی اور جَـو ان اجناس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا جاتا، جن کی صراحت احادیث کریمہ میں وارد ہے .
➖➖➖➖
یہ اپنے آپ میں بڑا افسوس ناک پہلو ہے کہ جس صدقۂ فطر کی بنیادی ہی زیادہ سے زیادہ غرباء پروری پر رکھی گئی ہے، اسی میں ذرا سی غفلت سے کتنے ہی غرباء اور مساکین کا عظیم مالی خسارہ ہوتا چلاآرہا ہے.
➖➖➖➖
  *أنفع للفقراء کا ضابطہ*
         ــــــــــــــــــــــ
زکوٰۃ کی دوقسمیں کی جاتی ہیں :
() زکوٰۃ المال: سونے چاندی، رقوم وغیرہ مال نامی کی زکوٰۃ.

  (٢) زکوٰۃ البدن: صدقۂ فطر.
جس طرح مال کی زکوٰۃ دینا مال کی ستھرائی اور پاکیزگی کا سبب بنتا ہے. اور کسی طرح کی آفتوں سے محفوظ ہوجاتا ہے. یوں ہی *صدقۂ فطر* کی ادائیگی بدن کو بہت سے آفات وبلیات سے بچاتی ہے.
یہاں پر قابل توجہ بات یہ آتی ہے کہ جب "زکوٰۃ المال" میں ہم أنفع للفقراء کا قاعدہ پیش نظر رکھتے ہیں تو پھر "زکوٰۃ البدن" میں یہ قاعدہ کیوں بھول جاتے ہیں. یقیناً یہ اپنے آپ میں ایک عجیب بات لگتی ہے .
➖➖➖➖
*گیہوں کے سوا اجناس خواص کے اذہان سے بھی اوجھل*
        ــــــــــــــــــــ
اس روش کی وجہ سے ایک غلط تأثر یہ بھی جاتا ہے کہ عوام تو عوام بعض فارغین مدارس کے اذہان میں بھی وہی گیہوں چھایا ہوا رہتا ہے.  اور صدقۂ فطر نکالنے والے کے سامنے اسی کی قیمت لگانا شروع کردیتے ہیں. اور دوسرے اجناس مثلاً : کھجور، کشمش اور جَو تو حاشیۂ خیال بھی نہیں آپاتے.
یہ معاملہ ان علاقوں میں اور بھی سنگین ہوجاتا جہاں کہ أئمۂ مساجد کے پاس محض حفظ وقراءت کی تعلیم ہو. اور لائبریری و کتب کی صورت میں استفادہ کی کوئی سبیل نہ رکھی گئی ہو.
➖➖➖
  *تیری رہبری کا سوال ہے*
         ــــــــــــــــــــ
ہم دیکھتے ہیں کہ صدقات کی دیگر نوعوں میں علماء کرام اپنے عوام کی جس طرح رہنمائی کرتے ہیں، اسی اعتبار سے ان میں راہ خدا میں خرچ کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے.
قربانی ہی کے جانور کو سامنے رکھ لیجیے مالکان نصاب اپنی اپنی حیثیت کے اعتبار سے جانور کی قربانی کرتے ہیں. بلکہ بعض خوش حال گھرانوں میں تو کئی کئی جانور قربان کرکے اس کا گوشت غرباء، مساکین اور حاجت مندوں میں تقسیم کردیتے ہیں.
ایک طرف قربانی کے سلسلے میں ایسی فراخ دلی کا مظاہرہ اور دوسری طرف صدقۂ فطر کے معاملے میں ایک ادنی درجے کے مالکِ نصاب شخص کے برابر، ایک لکھ پتی مسلمان کا نصف صاع گیہوں یا اس کی قیمت نکال کر چھٹی حاصل کرنے کی وجہ، آخر کیا ہے؟ .
 اس دوہرے پیمانے کے اسباب پر غور کیجیے تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ قربانی والے معاملے میں شروع سے ہی لوگوں کا ذہن بنایا گیا ہے کہ ہر شخص کو اس کی حیثیت کے مطابق قربانی دینی ہے.
اس کے برعکس اپنی تقریروں میں، اپنے وعظ کی مجلسوں میں، جمعہ کے خطبات میں اور اتمام حجت کے طور پر اپنے اداروں کے لیٹر پیڈ پر لکھ کر خواص نے اپنے عوام کا یہی مزاج بنایا ہے کہ
 *صدقۂ فطر میں دوکلو سینتالیس گرام گیہوں یا اس کی قیمت اداکرنا ہے.*
بلکہ اب تو گیہوں کے بازاری ریٹ بھی لکھ کر دیدیئے جاتے ہیں.
 یہاں یہ کلیہ فٹ کرنے کی گنجائش باقی ہے کہ *عدمِ ذکر، ذکرِ عدم کو مستلزم نہیں ہوتا.* مگر اس کا کیا، کیا جائے کہ ایسی منطق بیانی کی وجہ سے عوام وخواص کا ایک بڑا طبقہ آج بھی نہ جان سکا ہے کہ گیہوں کے سوا اور بھی منصوص اجناس: کجھور، کشمش منقی اور جَـو  کی شکل میں ہیں، جن کا بیان احادیث کریمہ میں موجود ہے. اور استطاعت رکھنے والوں کو ان اجناس کے اعتبار سے بھی صدقۂ فطر نکالنا چاہیے. پھر دوسری طرف حاجت مندوں کا بڑا طبقہ ہمارے اس منطقی اسلوب کے نتیجے میں سالوں سال  سے عظیم مالی خسارہ برداشت کرتا چلا آرہا ہے .
➖➖➖➖
 *بخیلی نہیں، بلکہ لاعلمی*
           ــــــــــــــــــــ
اب حد یہ ہے کہ محتاج وفقراء تک پہنچنے والا صدقۂ فطر ایک کروڑپتی اور لکھ پتی کا بھی اتنا ہی ہوتا ہے، جتنا ان کے گھروں میں مزدوری کرنے والوں کا ہوتا ہے.
میں قطعی یہ نہیں سمجھتا کہ گیہوں سستا پڑتا ہے اسی لیے اس سے *صدقۂ فطر* نکالتے ہیں. ورنہ تو قربانی وغیرہ کار خیر کے دوسرے مدوں بھی خوش حال لوگوں کی جانب سے یہ تنگ دلی نظر آتی. بلکہ اصل معاملہ نہ لاعلمی کا ہے.
➖➖➖➖
     *پس چہ باید کرد*
         ــــــــــــــــــــ
یہ کام دارالافتاء اور مفتیانِ عظام، علمائے کرام، خطیبانِ جمعہ اور أئمۂ مساجد کا ہے کہ وہ ایک طرف دیگر منصوص علیہ اجناسِ فطر : کجھور، کشمش منقی اور جَـو کو دیکھیں اور دوسری طرف لوگوں کی مالی حیثیت کا تفاوت مدنظر رکھیں، پھر لوگوں کو ترغیب دیں کہ جس کے پاس جیسی وسعت ہو، اسی کے اعتبار سے سب اپنے اپنے صدقات فطر ادا کرنے کی کوشش کریں.
ذرا سوچیے توسہی!
ان میں سے کسی کی حیثیت اگر *کجھور* سے ادا کرنے کی ہو تو گیہوں کے بالمقابل اس کا ایک فطرہ کسی غریب کے حق میں کتنا نفع بخش ثابت ہوگا.
اسی طرح کوئی استطاعت رکھنے والا *کشمش* سے فطر ادا کرنے کی کوشش کرے گا تو حاجت مندوں کے دلوں سے کیسی کیسی دعائیں پائے گا .
اسی طرح آج کل گیہوں کے مقابلے میں جَو کی قیمت زیادہ ہے. کوئی متوسط قسم کا ہی بندہ اگر ان کے ذریعے فطر کی ادائیگی کرنے لگے تو کس قدر بڑھ کر حاجت روائی کی سبیل نکلے گی .
پھر ایک فرحت بخش صورت حال یہ بھی پیدا ہونی چاہیے کہ بازار میں جاکر تمام قسم کے لوگوں کی خاطر ایک قیمت متعین کرنے کی زحمت سے بچتے ہوئے ، ہرایک استطاعت مند، ہر ہر صنفِ میں سے *من أوسط ماتطمعون أھلیکم* {اپنے  اپنے استعمال کے موافق اشیاء } کا لحاظ کرے
اس روش کو سامنے رکھ کر نتیجہ سوچیں کہ اس تفاوت میں صدقات کے مستحقین کے لیے کیسے کیسے منفعت بخش راستے نکلتے نظر آئیں گے . مثلا:
ً تین اعلی قسم کے مالدار ہیں جو مختلف قسم کے کجھور استعمال کرتے ہیں. مان لیں کہ ان میں سے ایک عجوہ کجھور کے استعمال کا عادی ہو، تو اس کی جانب سے نکلنے والے صدقۂ فطر کی وقعت بقیہ دونوں سے اعلی ہوگی. اور اس سے یقیناً وہ چہرے کھل اٹھیں گے. جنھیں یہ دیا جائے گا. اور  اس طرح غرباء پروری کی مسرت انگیز رسم سامنے آئے گی .
آج آسمان چھوتی مہنگائی کے دور میں جس طرح ہم اپنی دیگر ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں ویسے ہی بیواؤں، یتیموں اور غرباء ومساکین کا خیال رکھنا چاہیے.
➖➖➖➖
       *دست بستہ گزارش*
             ــــــــــــــــــــ
 دارالافتاء اور معتبر اسلامی اداروں کی جانب سے لیٹرپیڈ جاری کرنے والے علماء کرام، خطیبانِ اسلام اور أئمۂ مساجد کی بارگاہ میں دست بستہ گزارش ہے کہ
 صدقۂ فطر کا اعلان کرتے وقت گیہوں کے علاوہ دیگر اجناس:  کجھور، کشمش منقی اور جَـو کو بھی صاف لفظوں میں بیان فرمادیا کریں. پھر ان کی موجودہ وزن اور قیمت بھی درج فرمائیں. بلکہ مجھے تو یہ بھی لگتا ہے کہ اس کی موجودہ قیمت کا حساب بھی عوام کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے . وہ جس قسم کا خود کھاتے اور استعمال کرتے ہیں خود ہی حساب لگا کر اپنے حساب سے ادا کردیں گے. اسی میں *أنفع للفقراء* کا زیادہ خیال نظر آتا ہے جو کہ مقصود بھی ہے ، اسی میں *إغناء الفقیر* کی صورت بھی بنتی ہے جس کا حدیث میں ذکر ملتا ہے. اور اسی میں نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے  طریقے کی کامل پیروی نظر آتی ہے.

ع> گر قبول افتد زہے عزوشرف
➖➖➖➖
حسبِ فرمائش:
استاذ شاھد رضا مصباحی
  { مرکزی دارالقراءت ، جمشیدپور }
➖➖➖➖
تحریر :
  فیضان سرور مصباحی
8/رمضان المبارک 1440ھ
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں