Happy mother's day.... ماؤں کا عالمی دن by ...m.sajid Hussain.

🌹 *"ماؤں کا عالمی دن*🌹

*ربِّ جہاں  نے ماں کو یہ عظمت کمال دی*
*اُس کی دعا سے آئی مصیبت بھی ٹال دی*

آج یعنی مئی کے دوسرے اتوار کو اکثر ممالک میں ماؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں یہ روایت قائم ہو چلی ہے کہ کوئی سا ایک دن کسی بھی خاص ہستی کیلئے مخصوص کر دیا جائے تاکہ اس خاص دن پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرسکیں۔
ان میں وہ ہستیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنوں کیلئے وقف کر دی جیسے *"ماں"۔*

*ماں صبر کا پیکر ہے, جو کڑی دھوپ میں چھاؤں بنتی ہے, جس کے پاؤں تلے جنت ہے۔ "ماں صرف ایک رشتے کا نام نہیں, اگر ایسا ہوتا تو ان کے جانے سے یہ رشتہ ختم ہو جاتا۔ ماں نام ہے پیار, خیال, حفاظت اور بے لوث ہونے جیسے لافانی احساسات کا۔"*

ماؤں کے اس عالمی دن پر میں تمام ماؤں, بالخصوص اپنی پیاری ماں کو دل سے سلام پیش کرتا ہوں۔

 دنیا کے ہر مذہب اور ہر ملک میں بہت سے فرق پائے جاتے ہیں لیکن ماں کی محبت اور ماں کا احترام تقریباً ہر مذہب میں ہے۔

دنیا کے ہر معاشرے اور مذہب میں ماں کی حیثیت مسلمہ ہے, ماں کے مقام, حیثیت اور خدمات کے اعتراف میں آج کے دن اکثر ممالک میں *"ماؤں کا عالمی دن"* منایا جاتا ہے۔
جس کا مقصد محبت کے خالص ترین رنگ لئے ماں کے مقدس ترین رشتہ کی عظمت واہمیت کو اجاگر کرنا اور ماں کیلئے عقیدت اور محبت کے جذبات کو فروغ دینا ہوتا ہے۔

ماں ہی وہ ہستی ہے جو بچے کو اپنے قدموں پہ کھڑا ہونا اور زمانے کی بھیڑ کا سامنا کرنا سکھاتی ہے اس امید پر کہ یہ ننھے پودے جب تناور درخت بنیں گے تو ان کی ٹھنڈی چھاﺅں میں اپنی زندگی کے تمام غم بھلا دے گی۔

ماں وہ ہستی ہے جس کا نام لیتے ہی رگ رگ میں محبت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
کامیاب لوگ عزت اور شہرت کو ماں کی دعاؤں کا ہی ثمرہ قرار دیتے ہیں۔
*دنیا  میں  مجھے  جو  بھی  ملا  جتنا ملا ہے*
*سب کچھ یہ میری ماں کی دعاؤں کا صلہ ہے*

لیکن غور کا مقام ہیکہ:
جس ہستی نے تمام عمر اپنی اولاد کیلئے وقف کر دی, جس کے قدموں تلے جنت کی بشارت سنا دی گئی۔
کیا عجب بات ہے کہ اُسی ہستی کیلئے ہم سال بھر میں محض ایک دن مخصوص کرتے ہیں۔ افسوس صد افسوس۔

میرا تو یہ ماننا ہیکہ:
*’’بھلا ماں کا بھی کوئی ایک دن ہوتا ہے؟ نہیں! بلکہ سال کا 365 دن ہمارے لئے ماں کا دِن ہے, کیونکہ ماں کے بغیر تو کوئی بھی دن, دن نہیں ہوتا‘‘۔*

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ والدین ایک سائے کی طرح ہیں جن کی ٹھنڈک کا احساس ہمیں اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک یہ سایہ سر پر موجود رہتا ہے, جونہی یہ سایہ اُٹھ جاتا ہے تب پتہ چلتاہے کہ ہم کیا کھو بیٹھے ہیں۔
لہذا آج یہ عہد لیں کہ ہم شریعت مطہرہ کی روشنی میں اپنے والدین کریمین کا ادب واحترام کرتے ہوئے اپنے حقوق کو بجا لائینگے۔

دعا ہے کہ: *"اے رحیم وکریم پاک پروردگار! یہ مائیں بڑی پیاری ہوتی ہیں ان کے آنچل کی چھاؤں کو ہمارے لئے دراز فرما اور انہیں ہمیشہ خوش وخرم اور سلامت رکھنا۔"*

*جنت میں فاطمہ کی کنیزیں جہاں رہے*
*یا رب میری دُعا ہے میری ماں وہاں رہے*

اللہ رب العزت اپنے پیارے حبیب کریم ﷺ کے صدقے وطفیل ہمیں اپنے والدین کریمین کی خدمت کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے اور جن کے والدین اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں ان کی بے حساب و کتاب مغفرت فرمائے۔
آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ

✍🏻  اسیر اشرف الاولیا
محمد ساجد حسین اشرفی سہرساوی
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

1 تبصرے: