قرآن اور جدید سائنسی تحقیقات : مولانا فیروز عالم علاںٔی۔۔۔Maulan Md Firoz Alam




۔: قرآن اور جدیدسائنسی تحقیقات:۔

تحریر🖊:محمد فیروز عالم علاںٔی(کلکتہ یونیورسٹی)
mdfirozalam7869278692@gmail.com
     " قرآن اور جدید سائنسی تحقیقات" یہ وقت کا ایک سلگتاہوا موضوع ہے جس پر کافی کچھ لکھا جا چکا ہے ،لکھا جارہا ہے اوراس میں شک نہیں کہ مدتوں لکھا جاتا رہیگا ۔ضرورت بھی ہے اس بات کی ،ظاہر ہے کہ کل تک جو چیزیں ناممکن سمجھی جارہی تھیں آج جدید سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر نہ صرف یہ کہ وہ ممکن سمجھی جارہی ہیں بلکہ ہم انہیں امکانات کے کیونس میںاتر دیکھ رہے ہیں ۔ایسے میں کئی سوالات کاپیدا ہونا فطری بات ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ جدید سائنسی تحقیقات اور دریافتیں آیات قرانی مفاہیم کی تائید کر رہی ہیں یا مخالفت؟
قرآن رب کا کلام ہے اور رب ہی کا بیان ہم قرآن میں سنتے ہیں ،  ’’ خشکی اور تری میں پائی جانے والی تمام چیزوں کو قرآن مبین میں بیان کر دیا گیا ہے ‘‘  تو نئی صدی کی نئی تحقیقات اور دریافتوں کی جڑیں قرآن کی وسیع تردنیا میں کہاں کہاں موجود ہیں ؟ یہ اور اس طرح کے کئی سوالات ہیں جو زیر نظر بحث کے حوالے سے ہمارے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں ۔آئیئے ۔ ذیل کے سطور میں ہم انہیں سوالوں کے جوابات ڈھونڈتے ہیں ۔
سائنس اور قرآن :۔  قرآن مقدس نے بیشتر مقامات پر مادی کائنات اوراس میں پائے جانے والے آثار قدت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ہے ۔اور ان آثار کے ذریعہ سے اپنے پیغام کا اثبات میںبھی کیا ۔توحید ، رسالت، وحی، حشر و نشر، اور بنیادی عقائدو نظریات کو جہاں قرآن نے عقل و خرد کی روشنی میں پیش کیا وہیں کائنات میں پائی جانی والی چیزوں سے بھی اپنے نظریات کے برحق ہونے پر دلائل فراہم کئے ہیں ۔خواہ ارضیات سے اسکا تعلق ہویا فلکیات ،حاتیات،نباتات و جمادات سے غرض کہ سائنس کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس نے اپنی اساس قرآن کی آیات کو نہ بنایا ہو ۔
قرآن نے سات سو پچاس سے زائد مقامات پر عمل انسانی کو غور و فکر کی دعوت دی ہے۔آج سائنس جن موضوعات سے بحث کرتی ہے ،انہیں اہل علم بخوبی جانتے ہیں ۔اب ذرا غور سے قرآن کریم کی ان صورتوں کو دیکھئے اور غور کیجئے کہ سائنس آج جن موضوعات پر کام کر رہی ہے قرآن صدیوں پہلے ہی ان موضوعات پر اپنی تحقیق کے جلوے بکھیر چکا ہے ،
مثلاً وہ سورتیں یہ ہیں ـ:۔  (۱)  النور ( the lighat)  (۲)   الدخان ( smoke  )    (۳)  الحدید) lron)  (۴)  الشمس (the sun)  (۵)  القمر (the moon) (۶)  النجم  (the star)  (۷)  الزلزالthe earthquake)  (۸)  النخل the bee))
اسی طرح طبعی اور حیاتیاتی سائنس جن مسائل پر تحقیق سے عبارت ہے ،وہ اصطلاحات کی صورت میں درج ذیل ہے ۔
(۱)  تخلیق کائنات اور اسکا تشکیلی نظام  (۲)  زمانہ ہائے تخلیق اور ادوار ارتقاء  (۳)  وجود کائنات کی طبعی اور کیمیائی اساس  (۴)  نباتی و حیواناتی زندگی  (۵)  انسانی زندگی کا آغاز اور نظام ارتقاء  ان تما م سائنسی اقوال پر قرآن مجید سے بہت سے بنیادی مواد فراہم کئے ہیں ۔
جو سیکڑو ں مقامات پر مذکور ہیں ،ان میں سے صرف کچھ کوقلم بند کر تا ہوں   سورہ نوح میں  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’ الم ترواکیف خلق اللہ سبع سمٰوٰت طباقا وجعل القمرفیھن نورا وجعل الشمس سراجا ‘‘  ’’ کیا تم نہیں دیکھتے اللہ نے کیونکر سات آسمان بنائے ایک پر ایک اور ان میں چاند کو روشن کیا اور سورج کو چراغ ۔ حوالہ ( پارہ 29 ،آیت 15و 16)  اور سورۃ السجدہ میں فرماتا ہے’’اللہ الذی خلق السمٰوٰات والارض وما بینھمافی ستۃ ایام ثم استوٰی علی العرش مالکم من دونہ من ولی ولاشفیع افلا تتذکرون ‘‘  حوالہ  (پا رہ 21،آیت 4)
 ’’ اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوافرمایا اس سے چھوٹ کرتمہاراکوئی حمایتی اور نہ سفارشی تو کیا تم دھیان نہیں کر تے یعنی کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے‘‘
سورہ انبیاء میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’ اولم یرالذین کفروا ان السموٰت والارض کانتا رتقا ففتقنٰھماو جعلنا من المآء کل شیئٍ حیٍّ افلایؤمنون ‘‘ ترجمہ : کیا کافروں نے یہ خیال نہ کیا کہ آسمان اور زمین بند تھے تو ہم نے انھیں کھولا اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان لائیں گے ‘ ‘ حوالہ (پارہ 17 ،آیت  30 )  اس قرآنی آیت اور بگ بینگ(big bang)  کے درمیان حیرت انگیز مماثلت سے انکار ممکن ہی نہیں !
اسی طرح پھیلی ہوئی کائنات کے بابر جدید سائنسی تحقیقات جو سامنے آیا ہے جن کو 1925میں امریکی ماہر طبعیات ایڈون ہیل(hubble edwin) نے کیا ۔لیکن جب ہم 1400سال پہلے کی طرف رخ کرتے تو یہ تحقیق ہم کو مل جاتا ہے :۔ر ب تعالیٰ فرماتا ہے ’’والسمآء بنینٰھا باید وانا لموسعون‘‘
ترجمہ:اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ سے بنایااور یقیناًہم (اس کائنات کو )  وسعت اور پھیلاؤ دیتے جارہے ہیں‘‘  حوالہ
(القران  پارہ 26۔27،سورۃالذاریات ،آیت 47)
اسی طرح طب (medicine )  کے بابرمیں رب کا کلام :
یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ فیہ شفاء للناس ان فی ذٰلک لاٰیۃ لقوم یتفکرون  ‘‘  ترجمہ:ا س کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے جسمیں لوگوں کی تندوستی ہے بیشک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو ‘‘ حوالہ  ( القرآن  پارہ 14،سورۃ النحل ،آیت 69
نباتیات(  Botany)  پودوں میں نر اور مادہ  :  وانزل من السمآء مآء فاخرجنا بہٖازواجاً من نبات شتّیٰ
          ترجمہ :  اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور اس میں ہم نے مختلف اقسام کے پودوں کے جوڑے پیدا کئے جو ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں :  (سورہ طٰہ آیت 53
اسی طرح  سورۃ الرعد :آیت 3،  سورۃالذ۔۔:آیت  49 ،  سوہ یٰس:آیت 36،  سورہ انعام :آیت 38 ،  سورۃ النحل :آیت 79،   سورۃ  الملک : آیت 19،  سورۃالعنکبوت :آیت 49،  سورۃ النمل :آیت 17تا18وغیرہ :۔
اگر ہم ان مقامات کو چشم عقیدت سے پڑھیں اور غور و فکر کریں تو یہ بات اظہر من الشمس ہوجائے گی کہ طبعیات اورحیا تیات کے تمام مسائل پر اصول و بنیاد موجود ہیں ۔ جدید سائنس جس کو آج تحقیق کر نے کے بعد ہم کو بتاتی ہے قرآن نے چودہ  ۱۴۰۰؁  سوسال پہلے ہی اس کی خبر ہم تک پہنچادی ہے ۔
محمد فیروز عالم علائی
(کلکتہ یونیورسٹی)
ای میلcom mdfirozalam7869278692@gmail.

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں