اس بار عید میں شاپنگ نہیں!... اظہار افسوس! اپنے عمل پر نادم و شرمندہ؛.. محمد فیروز عالم علاںٔی۔Md Firoz Alam...

**اس بار عید میں شاپنگ نہیں!***
اظہار افسوس! اپنے عمل پر نادم و شرمندہ ؛
 _________________________
🖊:محمد فیروز عالم علاںٔی
(کلکتہ یونیورسٹی)
mdfirozalam7869278692@gmail.com


"عید "ایک مذہبی تہوار و رسم ،اتحاد و اتفاق،اخوت ومحبت،مسرت و شادمانی،تزکیۂ نفس،روح کی لطافت،بدن و لباس کی طہارت اور مجموعی شخصیت کی نفاست کے ساتھ انتہائی عجز و انکساری اور خشوع وخضوع کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں سربسجود ہو کر نذرانۂ شکر بجالانے کانام ہے۔
اس کو عید اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ہر سال آتی ہے اور بار بار آتی ہے اور تاقیامت آتی رہے گی۔
خوش قسمت ہیں وہ افرادجنہوں نے  ماہ صیام کو پایا اور اپنے اوقات کو عبادات وریاضت میں صرف کردیا تزکیۂ نفس کے زیورسےخودکومزین رکھا ، اور پورے ماہ تقویٰ کی روش اختیار کیا ، اور بارگاہ رب العزت میں مغفرت کے لیے دامن پھیلادیا، عید ایسی ہی خوشبخت افراد کے لئے ہے۔ تاہم صحابہ کرام اور صوفیائے عظام اپنی عبادت پر اترانے کے بجائے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قبولیت کی دعاکرتے تھے ۔
غوث اعظم  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : " کہ عید ان کی نہیں ،جنہوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپ کو آراستہ کیا ، بلکہ عید تو ان کی ہے جو اللہ تعالی کی پکڑ سے بچ گئے اور اس کے عذاب و عتاب سے ڈر گئے "
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ  کا فرمان ہے :  "عید تو ان کی ہے جو عذاب آخرت اور مرنے کے بعد کی سزا سے نجات پاچکے"
اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول اس پر دعوت فکر دے رہا ہے کہ عید اچھے  اور عمدہ لباس و زینت کا نام نہیں ہے ،
بلکہ عید تو نام ہے  سادگی اور  عجز و انکساری کا ۔
لہذا موجودہ حالات سے آج پوری دنیا واقف ہے ،یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ ایک مہلک اورخطرناک بیماری نے آج پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے جن کو اپنے super power  ہونے  پر فخر تھا وہ بھی اس بیماری کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں ۔
اس ہوشربا وقت  میں جبکہ ایک طرف ہماری مسجدیں ویران ہیں ،سنت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ کا دامن ہم سے چھوٹ رہا ہے ، اسلامی رسم و رواج سے گریز  کیا جارہا ہے ،جمعہ جو ایک عالمی اجتماع ہے وہ بھی ہم سے چھین لیا گیا ،ایسے وقت میں ہم کیسے مسرت و شادمانی کا  اظہار کریں ،یہ تمام احکامات ہم سے جب دور ہیں،تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم کس کیٹیگری میں ہیں ۔صوفیاء فرماتے ہیں ؛ کہ" جب خدا ناراض ہوتا ہے تو بندے سے سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے" ،اب ہم خود سے سوچیں کہ ہمارا رب ہم سے کتنا ناراض ہے، ایسے وقت میں ہمیں  اپنے رب کو منانا ہے ، رب کی خوشنودی حاصل کرنا ہے،
رب کی بارگاہ میں سربسجود ہوکر کثرت سے استغفار و توبہ کرنا ہے اپنے کئے ہوئے پر نادم ہونا ہے،
نہ کہ  شوپنگ  کے لیے بازاروں کا چکر لگانا ہے ،نہ غرور یت کا اظہار کرنا ہے ، اگر اس کے باوجود بھی کوئی ایساہے جوشاپنگ کر رہا ہے ،  اچھی اچھی چیزوں کا اہتمام کر رہا  جبکہ پڑوسی بھوکا ہے ،جبکہ سڑکوں پر لوگ  بھوکے سورہے ہیں ،کوئی بھوک کی وجہ سے زندگی سے جدا ہو رہا ہے ان حالات میں ہمیں اپنے غریب بھائیوں کی مدد کرنا ہے ،اپنے  فضول شاپنگ کی رقم سے دوسروں کی مدد کرنا ہے یہی تو انسانیت ہے یہی تو طریقہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم،یہی تو حسینی کردار ہے ،یہی تو صوفیاء کا درس ہے۔۔۔
لہذا تمام مسلمان بھائیوں اور  بہنوں سے گزارش ہے کہ اس بار شاپنگ سے گریز کریں اپنے پڑوسی بھائی کا زیادہ سے زیادہ خیال کریں، غریبوں کی امداد کریں رب کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں ،اللہ رب العزت رحمان ورحیم ہے وہ اپنے بندوں کو ضرور معاف کرے  گا اور اللہ عزوجل اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔۔
اللھم اھدنا الصراط المستقیم۔
اللہم ارحم علینا ۔۔۔
 🖊🖊محمد فیروز عالم علاںٔی۔۔۔
 کلکتہ یونیورسٹی۔۔
mdfirozalam7869278692@gmail.com
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں