اعتکاف کے فضائل و ماساںٔل۔۔ محمد شمس تبریز قادری علیمی۔۔mufti Sham Tabriz

اعتکاف کےفضائل و مسائل
                            🖊️محمدشمس تبریزقادری علیمی -
صدرمفتی :دارالعلوم کلیمیہ رضویہ حفظ القرآن  ،مالدہ (مغربی بنگال)
           اللہ رب العزت کا کروڑہا کروڑ احسان کہ اس نے مسلمانوں کو  رمضان المبارک جیسی عظیم الشان نعت سے سرفراز فرمایا - اس ماہ مبارک کی ہرگھڑی رحمت وبرکت سے پُر ہے - اس مہینے میں اجروثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے - نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا کردیا جاتا ہے بلکہ اس مہینے میں تو روزہ دار کا سونا بھی عبادت میں شمار کیا جاتا ہے - عرش اٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں اور ایک حدیث پاک میں آیا ہے کہ "رمضان کے روزہ دار کے لیے دریا کی مچھلیاں افطار تک دعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں" - رمضان المبارک میں شبِ قدر سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے اسی کی تلاش و جستجو میں آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مکمل مہینے کا اعتکاف فرمایا اور اخیرعشرے کا ہمیشہ اہتمام کرتے رہے -
          اعتکاف:مسجد میں اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے اعتکاف کی نیت سے ٹھہرنا - اعتکاف کا لغوی معنی ہے "دھرنامارنا، گوشہ نشینی" مطلب یہ ہے کہ معتکف اللہ رب العزت کی بارگاہ عظمت میں اس کی عبادت پر کمر بستہ ہوکر دھرنا مار کر پڑا رہتا ہے - اس کی یہی دھن ہوتی ہے کہ کسی طرح اس کا پروردگار اس سے راضی ہو جائے -
             اعتکاف کے فضائل:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظاہری وفات دی۔ پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن اعتکاف فرماتی رہیں۔
 جو بندہ مومن رمضان المبارک کے علاوہ بھی صرف ایک دن مسجد کے اندر اخلاص کے ساتھ اعتکاف کرلے اس کے لیے بھی زبردست اجروثواب کی بشارت ہے - حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے ایک دن کا اعتکاف کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنا دے گا جن کی مسافت مشرق و مغرب کے فاصلے سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔
فائدہ: سبحان اللہ!ایک دن کے اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی کیا فضیلت ہو گی؟ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان کی مبارک گھڑیوں میں اعتکاف کرتے ہیں اور مذکورہ فضیلت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
ھویعکف الذنوب یجزی لہ من الحسنات کعامل الحسنات کلھا-
اعتکاف کرنے والا گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کے لیے تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی ہیں جیسے وہ ان کے کرنے والے کے لیے ہوتی ہیں ۔
قارئین کرام : اعتکاف کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ جتنے دن مسلمان اعتکاف میں رہے گا گناہوں سے بچارہے گا اور اللہ رب العزت کا فضل دیکھیے کہ بندہ باہر رہ کر جو نیکیاں کرتا تھا اعتکاف کی حالت میں اگرچہ وہ ان کو انجام نہ دے سکا مگر پھر بھی وہ اس کے نامہ اعمال میں بدستور لکھی جاتی رہیں گی اور اسے ان کا ثواب بھی ملتا رہے گا For Example کوئی مسلمان مریضوں کی عیادت کرتا،والدین، اعزاء و اقرباء سے صلہ رحمی اور حسن سلوک کیا کرتا، یتیموں وبیواؤں اور غریبوں کی امداد کرتا تھا اور اب اعتکاف کی وجہ سے یہ کام نہیں کرسکا تو وہ اس کے ثواب سے محروم نہیں ہوگا بلکہ اس کو ایسا ہی ثواب ملتارہے گا جیسے وہ خود اس کو انجام دیتا رہا ہو-
بیہقی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے راوی کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف کر لیا تو ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کیے -
حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے "معتکف کو ہر روز ایک حج کا ثواب ملتا ہے" - (شعب الایمان، ج3، ص425)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کیا کرو۔
فائدہ: اعتکاف سے مقصود لیلۃ القدر کو پانا ہے جس کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے۔ نیز اس حدیث میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کیلیے آخری عشرہ کا اہتمام بتایا گیا ہے جو دیگر احادیث کی رو سے اس عشرہ کی طاق راتیں ہیں۔ لہٰذا بہتر تو یہی ہے کہ اس آخری عشرہ کی ساری راتوں میں بیداری کا اہتمام کرنا چاہیے ورنہ کم از کم طاق راتوں کو تو ضرور عبادت میں گزارنا چاہیے۔
اعتکاف کے ضروری مسائل:
مسئلہ:ماہِ رمضان کے آخری عشرہ میں کیا جانے والا اعتکاف ”سنت مؤکدہ علی الکفایہ“ہے،(درمختار مع ردالمحتار ج3ص430)
یعنی پورے شہر میں کسی ایک نے کرلیا تو سب بری الذمہ ہوگئے اور اگر کسی ایک نے بھی نہ کیا تو سب گنہگار ہوئے -
اس اعتکاف میں یہ ضروری ہے کہ رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ کو غروب آفتاب سے (احتیاطاً 20منٹ) قبل مسجد کے اندر اعتکاف کی نیت سے موجود ہو اور انتیس کو چاند کے بعد یا تیس تاریخ کو غروب آفتاب کے بعد مسجد سے باہر نکلے - (بہارشریعت)
مسئلہ: جس محلے یا بستی میں اعتکاف کیا گیا ہے،اس محلے اور بستی والوں کی طرف سے سنت ادا ہو جائے گی اگرچہ اعتکاف کرنے والا دوسرے محلے کا ہو۔
مسئلہ: آخری عشرے میں چند دن کا اعتکاف، اعتکافِ نفل ہے،سنت نہیں۔
مسئلہ: عورتوں کو مسجد میں اعتکاف مکروہ ہے بلکہ وہ اپنے گھر میں ہی اعتکاف کرے مگر اس جگہ کرے جو اس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے جسے مسجد بیت کہتے ہیں ۔
مسئلہ: اعتکاف کی نیت اس طرح کرے : میں اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے سنت اعتکاف کی نیت کرتاہوں ۔
مسئلہ: کسی شخص کو اجرت دے کر اعتکاف بٹھانا جائز نہیں۔
مسئلہ: مسجد میں ایک سے زائدلوگ اعتکاف کریں تو سب کو ثواب ملتا ہے۔
مسئلہ: مسنون اعتکاف کی نیت بیس تاریخ کے غروبِ شمس سے پہلے کر لینی چاہیے، اگر کوئی شخص وقت پر مسجد میں داخل ہو گیا لیکن اس نے اعتکاف کی نیت نہیں کی اور سورج غروب ہو گیا تو پھر نیت کرنے سے اعتکاف سنت نہیں ہو گا۔
اعتکافِ مسنون کے صحیح ہونے کیلیے مندرجہ ذیل چیزیں ضروری ہیں:
 مسلمان، عاقل ہونا،اعتکاف کی نیت کرنا
 مرد کا مسجد میں اعتکاف کرنا، مرد اور عورت کا جنابت یعنی غسل واجب ہونے والی حالت سے پاک ہونا (یہ شرط اعتکاف کے جائز ہونے کیلیے ہے لہٰذا اگر کوئی شخص حالت جنابت میں اعتکاف شروع کر دےتو اعتکاف تو صحیح ہو جائے گا لیکن یہ شخص گناہگار ہو گا) عورت کا حیض ونفاس سے خالی ہونا،روزے سے ہونا ( اگر اعتکاف کے دوران کوئی ایک روزہ نہ رکھ سکے یا کسی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے تو مسنون اعتکاف بھی ٹوٹ جائےگا۔)جس شخص کے بدن سے بدبو آتی ہو یا ایسا مرض ہو جس کی وجہ سے لوگ تنگ ہوتے ہوں تو ایسا شخص اعتکاف میں نہ بیٹھے البتہ اگر بدبو تھوڑی ہو جو خوشبو وغیرہ سے دور ہوجائے اور لوگوں کو تکلیف نہ ہو، تو جائز ہے۔
اعتکاف کی حالت میں یہ کام کرسکتے ہیں :
کھانا پینا (بشرطیکہ مسجد کو گندا نہ کیاجائے)، سونا، ضرورت کی بات کرنا،(سیدنا ملا علی قاری علیہ الرحمۃ نے مرقاۃ المفاتیح میں لکھا ہے "مسجد میں مباح یعنی جائز بات کرنا مکروہ (تحریمی) ہے اور نیکیوں کو کھاجاتا ہے-اس لیے حتی المقدور گفتگو سے اجتناب کریں) اپنا یا دوسرے کا نکاح یا کوئی اور عقد کرنا، کپڑے بدلنا، خوشبو لگانا، تیل لگانا، کنگھی کرنا(بشرطیکہ مسجد کی چٹائی اورقالین وغیرہ خراب نہ ہوں )، مسجد میں کسی مریض کا معائنہ کرنا نسخہ لکھنا یا دوا بتا دینا لیکن یہ کام بغیر اجرت کے کرے تو جائز ہیں ورنہ مکروہ ہیں، برتن وغیرہ دھونا-عورت کا اعتکاف کی حالت میں بچوں کو دودھ پلانا۔ معتکف کا اپنی نشست گاہ کے ارد گرد چادریں لگانا۔ معتکف کامسجد میں اپنی جگہ بدلنا۔ بقدر ضرورت بستر،صابن، کھانے پینے کے برتن، ہاتھ دھونے کے برتن اور مطالعہ کیلیے دینی کتب مسجد میں رکھنا۔
مسئلہ :مسجد میں ڈورنا یا زور سے قدم رکھنا جس سے دھمک پیدا ہو منع ہے -
مسئلہ : وضو کرنے کے بعد اعضاء وضو سے ایک بھی چھینٹ مسجد کی فرش پر نہ گرے کیوں کہ یہ ناجائز ہے -
مسئلہ : فنائے مسجد میں جانے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا ہے - فنائے مسجد سے مراد وہ جگہیں ہیں جو احاطہ مسجد (عرف عام میں جس کو مسجد کہاجاتاہے) میں واقع ہوں اور مسجد کی مصالح یعنی ضروریات مسجد کے لیے ہوں جیسے منارہ، وضو خانہ، استنجا خانہ، غسل خانہ، مسجد سے ملحق امام و مؤذن کے حجرے، جوتے اتارنے کی جگہ وغیرہ -
حاجاتِ طبعیہ:
پیشاب،پاخانہ اوراستنجے کی ضرورت کیلیے معتکف کو باہر نکلنا جائز ہے،جن کے مسائل مندرجہ ذیل ہیں:
پیشاب، پاخانہ کیلیے قریب ترین جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے۔
اگر مسجد سے متصل بیت الخلاء بنا ہوا ہے اور اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تووہیں ضرورت پوری کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہے تو دور جا سکتا ہے، چاہےکچھ دورجانا پڑے۔
اگر بیت الخلاء مشغول ہو تو انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ فارغ ہونے کے بعد ایک لمحہ بھی وہاں ٹھہرنا جائز نہیں۔
قضاء حاجت کیلیے جاتے وقت یا واپسی پر کسی سے مختصر بات چیت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس کیلیے ٹھہرنا نہ پڑے۔
ممنوعات و مکروہات:
بلاضرورت باتیں کرنا۔ اعتکاف کی حالت میں فحش یا بےکار اور جھوٹے قصے کہانیوں یا اسلام کے خلاف مضامین پر مشتمل لٹریچر ،تصویر دار اخبارات و رسائل یا اخبارات کی جھوٹی خبریں مسجد میں لانا،رکھنا،پڑھنا،سننا۔  ضرورت سے زیادہ سامان مسجد میں لا کر بکھیر دینا۔ مسجد کی بجلی،گیس اور پانی وغیرہ کا بےجا استعمال کرنا۔ مسجدمیں سگریٹ وحقہ پینا۔ معتکف کومسجد ہی میں کھانے پینے کی اجازت ہے ان امور کے لیے باہر نکلا اگرچہ چند منٹ کے لئے اس کا اعتکاف ٹوٹ گیا -
اللہ رب العزت کی بارگاہ بے نیاز میں دعا گو ہوں کہ مولیٰ تعالیٰ ہر مسلمان مرد و عورت کا اعتکاف قبول فرمائے اور اس ماہ مبارک، شبِ قدر اور اعتکاف کے طفیل پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کو امن و سکون کی زندگی عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم -
               ⭐⭐⭐⭐⭐
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں