Ramadan Mubarak and the death of Umm Al-Mu'minin Syeda Khadija Al-Kubra, peace be upon . - رمضان المبارک وصال ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیھا

*طالب دعاءمحمدمعراج عالم شمسی*

*دارالعلوم علی حسن اہلسنت ساکی ناکہ ممبئی*  *١۰رمضان المبارک ١۴۴١. رابطہ نمبر 8976664716*



رمضان المبارک وصال ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیھا
*نام ونسب*
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی زوجہ مطہرہ کانام 
        سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنتِ خویلدتھا، ان کا تعلق قریش کے ایک معززخاندان بنو اسدبن عبد العزی بن قصی  سے تھا، اس طرح ام المومنین حضرت خدیجۃالکبریٰ نسب اورشرف کے لحاظ سے نہایت ہی بلند پایہ خاتون تھیں نہ صرف دوراسلام میں بلکہ  جاہلیت میں بھی ان کالقب "طاہرہ" تھا 
سیدہ خدیجہ بنت خویلد سلام اللہ علیھاوہ عظیم خاتون ہیں جن کے بارے میں مؤرخین نے لکھاہے کہ وہ ہر لحاظ سے کامل واکمل خاتون تھیں یعنی نسب کے اعتبارسے شرافت کے اعتبارسے اخلاق کے لحاظ سے کردار کے اعتبارسے مال ودولت نجابت وسیادت اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور خیرخواہی میں وہ اپنے دور کی یکتاشخصیت تھیں بلاشبہ جس نے بھی ان کو پہلی مرتبہ طاہرہ کےلقب سے ملقب کیااس نے سوفی صد درست لقب سے پکارااور یادکیا
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھاکو اہل مکہ نے انکے شرف اوراعلی مقام کی بدولت "سیدۃ نساءقریش" کالقب دیاہواتھاپھر جب انکی شادی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو قرآن مجید میں ان کو "ام المؤمنین" کا خطاب دیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ارشادمیں انہیں "افضل نساء اھل الجنۃ "کا لقب دیاہے 
*حضرت سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیھاکی ولادت اور والدین کریمین*
سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیھاکی ولادت عام الفیل سے پندرہ سال پہلے مکہ مکرمہ میں ہوئی عام گھرانوں کے مقابلہ میں یہ گھرانہ ہر اعتبار سے معززاورپاکیزہ تھا،سیدہ کے والد گرامی خویلد مکہ مکرمہ میں معروف اور امیر تاجروں میں سے تھے ان کا کاروبار بڑاوسیع تھااور اچھی شہرت کے مالک تھے سیدہ خدیجہ کی والدہ کانام فاطمہ بنت زائدہ تھایہ قریشی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں 
*سیدہ خدیجۃ الکبری  رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح*
          سیدہ خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیھا مالدار ہونے کے علاوہ فراخ دل اور قریش کی عورتوں میں اشرف وانسب تھیں ۔ بکثرت قریشی سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسےنکاح کے خواہشمند تھے لیکن سیدہ خدیجہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کسی کے پیغام کو قبول نہ فرمایا بلکہ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے سرکار ابدقرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی بارگاہ میں نکاح کا پیغام بھیجا اور اپنے چچا عمرو بن اسد کو بلایا۔ سردار دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  بھی اپنے چچا ابوطالب، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر رؤساء کے ساتھ سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان پر تشریف لائے۔ ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھا۔ ایک روایت کے مطابق سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ سونا تھا۔
   بوقتِ نکاح سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر چالیس برس اور آقائے دو جہاں  صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی عمر شریف پچیس برس کی تھی
                جب تک حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاحیات رہیں آپ کی موجودگی میں پیارےآقا  صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی عورت سے نکاح نہ فرمایا۔
*ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کاایثار* 
حضور تاجدار مدینہ ﷺ سے رشتۂ زوجیت میں منسلک ہونے کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہانے جن کا شمار اس وقت مکہ کے متمول افراد میں ہوتا تھا، اپنی ساری دولت رفاہی کاموں کے لئے حضور ﷺکے قدموں میں نثار کردی۔ اعلان نبوت کے بعد جب آپ نے دین اسلام کے فروغ کے سلسلے میں اپنے آپ کو دعوت وتبلیغ کے لیے وقف کردیا تو تاریخ اسلام کی اس ابتدائی دور میں ام المومنین حضرت خدیجہ کی دولت ہی آپ کے کام آئی۔ اس طرح ان کا مثالی جذبہ ایثار وقربانی اپنے شوہر کے مشن سے والہانہ وابستگی ،بے لوثی، مال ودولت سے بے نیازی اور شان استغفار کی مظہر تھی۔ یہی سبب تھا کہ حضورﷺ کو اس رفیقۂ حیات سے کمال درجہ محبت تھی اور ان کے اس دنیائے فانی سے رحلت فرما جانے کے بعد بھی ان کی یاد کبھی آپ کے دل سے مٹ نہ سکی، 
چنانچہ آپ اکثر ان کا ذکر اپنی دیگر ازواج سے فرمایا کرتے تھے۔حضرت خدیجہ کاکردار ناقابل فراموش ہے کہ انہوں نے خود کو اپنے مال واسباب کو اسلام اور پیغمبر اسلام کی ضروریات کے لیے اس طرح پیش کردیا جیسے اس مال سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔’’ووجدک عائلا فاغنی‘‘ اس کی تفسیر میں مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سیدہ خدیجہ کے مال کے ذریعہ غنی کردیا۔
ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی فضیلت 
          صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بارگاہِ رسالت میں جبرائیل علیہ السلام نے حاضرہوکرعرض کیا: اے اللہ عزوجل کے رسول!  صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم آپ کے پاس حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دستر خوان لارہی ہیں جس میں کھانا پانی ہے جب وہ لائیں ان سے ان کے رب کا سلام فرمانا۔
افضل ترین جنتی عورتیں
          مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسےمروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  نے فرمایا: جنتی عورتوں میں سب سے افضل سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ تعالیٰ عنہا،سیدہ فاطمہ بنت محمدرضی اللہ تعالیٰ عنہاو صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  ،حضرت مریم بنت عمران  رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرعون کی بیوی ہیں ۔
*سابق الایمان*
          مذہب جمہور پر سب سے پہلے علی الاعلان ایمان لانے والی حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں ۔ کیونکہ جب سرور دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  غارحرا سےتشریف لائے اور ان کو نزول وحی کی خبر دی تو وہ ایمان لائیں ۔ بعض کہتے ہیں ان کے بعد سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لائے بعض کہتے ہیں سب سے پہلے سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لائے اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف دس سال کی تھی۔  شیخ ابن الصلاح فرماتے ہیں ۔ کہ سب سے زیادہ محتاط اور موزوں تر یہ ہے کہ آزاد مردوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچوں اور نو عمروں میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عورتوں میں سیدتنا خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور موالی میں زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور غلاموں میں سے حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لائے۔ 
  *اولاد*
حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بطن سے رسول اکرمﷺ کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں پہلے فرزند کاا سم گرامی قاسم رکھا گیا اور دوسرے فرزند کا عبداللہ۔ ان کا لقب طیب وطاہر تھا اور دونوں فرزند بچپن ہی میں وصال فرماگئے۔ دوسرے فرزند کی وفات پر جب کفار نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اب محمد کا نام لیوا کوئی نہیں رہا تو اللہ عزوجل نے سورہ کوثر نازل کردی جب کہ تیسرے فرزند حضرت ابرہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے اور آپ بھی مدت رضاعت میں ہی فوت ہوگئے ۔ چار صاحبزادیوں کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔(۱) حضرت سیدہ زینب(۲) حضرت سیدہ رقیہ(۳) حضرت سیدہ ام کلثوم(۴) حضرت سیدہ فاطمۃ زہرا۔
*وفات* :
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھانکاح کے بعد کم وبیش پچیس سال حضور کی زوجیت میں رہیں۔ ہجرت سے تین سال قبل ماہ رمضان المبارک میں وفات پائیں چونکہ اس وقت تک نماز جنازہ نہیں پڑھی جاتی تھی اس لیے صرف کفن دے کر آپ کی تدفین کی گئی ۔ حضورﷺخود آپ کی قبر مبارک میں اترے اور اپنی شریک حیات کو سپرد لحد کیا۔ حضرت خدیجہ کا مزار حجون کے مقام میں ہے جس کو اب جنت المعلیٰ کہا جاتا ہے وفات کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر ۶۵ سال تھی۔ 
آپ کی وفات حضورﷺ پر بہت گراں گزری چنانچہ آپ نے اس سال کو’ عام الحزن ‘ کا نام دیا یعنی غم کا سال چونکہ اسی سال آپ کے چچا ابو طالب کی بھی وفات ہوئی تھی۔ حضور ﷺ عمر بھر آپ کی وفات کو نہ بھول سکے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہا ورضی اللہ تعالیٰ عنہا۔  
(ماخذ:مدارج النبوۃ سیرت مصطفی،ضیاء النبی،سیرت رسول اکرمﷺو دیگر کتب سیرت).    *گذارش* ۔ام المؤمنین سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیھا کی بارگاہ میں خوب خوب ایصال ثواب پیش کریں ۔اللہ رب العزت ہم سب کو حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنھا کاصدقہ عطافرمائے اور بالخصوص انکے طفیل موجودہ وباء وجملہ امراض سے تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے  آمین یارب العالمین 
*طالب دعاءمحمدمعراج عالم شمسی*

Share on Google Plus

About qalamkijasarat

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں