مجدد الف ثانی کے تجدیدی کارنامے: عبد الخبیر مصباحی۔۔۔

مجدد الف ثانی کے تجدیدی کارنامے

عبد الخبیر اشرفی مصباحی،صدر المدرسین دار العلوم عربیہ اہل سنت منظراسلام، التفات گنج،امبیڈکرنگر.9932807264


مجدد الف ثانی شیخ احمدفاروقی سرہندی ، 14شوال 971ھ کو سر ہند (بھارت) میںپیداہوئے ۔والدکانام شیخ عبد الاحد تھا،وقت کے عالم نبیل اور فضل جلیل تھے، روحانیت میں سلسلۂ چشتیہ کی نسبت رکھتے تھے ۔سلسلۂ نسب اٹھائیس واسطوںسےخلیفۂ دوم سیدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سےملتاہے ۔ فاروقی شجرۃ کی شاخیں بیرون مدینہ منورہ -زاد اللہ شرفہا- تک دراز ہوئیں، کوئی شاخ کابل (افغانستان )تک پھیلی ،پھر وہاں سے اس کا سایہ پھیلا،بھارت کو گھیرلیا،اسی شاخ کے گل بوٹوں نےمقام سرہندکو معطرکیا، اورایک گل سرسبد شیخ احمد سرہندی کی شکل میں ظاہرہوا۔
شیخ احمد سرہندی کی تعلیم شروع ہوئی، استاذگرامی ، والدگرامی بنے۔ناظرہ خوانی،حفظ روانی کی تکمیل ہوئی۔اکثر درسی کتابوں کے اسباق پورے ہوئے۔صوفی مزج والدگرامی نے تصوف کی بعض اہم کتابیں مثلا’’عوارف المعارف ‘‘اور فصوص الحکم ‘‘ وغیرہ کادرس بھی دے ڈالا ۔شیخ ملا کمال الدین بن موسیٰ حنفی کشمیری بڑے معقولی عالم تھے،انہوںنے فاضل معقولات بنایا۔شیخ محدث یعقوب کشمیری اور قاضی محدث بہلول بد خشی نے علوم حدیث پڑھائے، اورسندعلم حدیث سے سرفرازکئے ۔سترہ برس کی عمر پوری ہوئی، تحصیل علوم کازمانہ پوراہوا، آپ فاضل جلیل ہوگئے۔
والدگرامی شیخ عبد الاحد صاحب نےآپ کوتصوف کادرس دےدیاتھا،اب ارشاد و طریقت کاپروانہ بھی دے دیا، سلسلۂ چشتیہ میں بیعت کی ،خلافت بھی عطاکی ،اپنی وفات سے چندسال پہلےرموزواسرارِسلسلۂ قادریہ کادرس دیا، اسی سلسلہ کا خرقۂ خلافت شاہ سکندر کیتھلی نےپہنایا ۔
شیخ احمد سرہندی نے سلاسل کا گہرامطالعہ کیاتھا، ان کو سلسلۂ نقش بندیہ زیادہ پسندآیا،تربیت مریدین،وظائف واوراد کے طریقے،ان کوخوب بھلے معلوم ہوئے،انہوں نے اس سلسلے کے مشایخ کی عقیدت اپنے دل میں بسالی تھی۔کہتے ہیں کہ جب خواجہ باقی با للہ علیہ الرحمہ کا ذکر سنتے تو بے تاب ہوجاتے،اسی بیتابی کی تسکین لیے وہ خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔خواجہ صاحب کی نظرانتخاب بھی ان کے منتظر تھی ۔ وہ آئے، مہمان ہوئے، تربیت شروع ہوئی، منازل سلوک طے ہوئے، پھر اجازت وخلافت سے سرفراز کئے گئے، ڈھائی ماہ کی تربیت کے بعد سر ہندواپسی ہوئی۔
حضرت شیخ احمد سرہندی مرشدسے ملنے گاہ گاہ دہلی آیاجاتاکرتے۔ایک بارحسب معمول حاضری ہوئی ،خلاف معمول حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ استقبال کو آئے۔ انہیں غیبی اشارہ ملاتھا، مرید کامل کو سر حلقہ بناناتھا،سوبنادیا ۔رخصت کرتے وقت فرمایا:زندگی کاوقفہ بہت کم ہے ۔ میرے دونوں لڑکوں (خواجہ عبید اللہ اور خواجہ عبد اللہ ) کی تربیت آپ کے سپردہے ۔
دین الہٰی اکبر شاہی
بھارت کی سرزمین گل وغنچہ سے بھری ہوئی ہے۔یہاں کانٹوں نے بھی بڑامقام حاصل کیاہے۔دسویں صدی کے اختتام پرمغل خاندان کابادشاہ، جلال الدین اکبربنا،وہ مغل گھرانے کاچشم وچراغ تھا، اپنے آپ کومغل اعظم کہلاتاتھا۔نامورحکمراں تھا، اس کی سلطنت بڑی تھی ۔جب وہ فرماںرواہوا، اس کے حرم میںغیر مسلم راجکماریاں داخل ہوئیں،غیر مسلم کارکنوں نےتقرب کامقام حاصل کیا۔ علماءو فضلا ئے سوءنے بادشاہ کامزاج بگاڑا،دنیادارنام نہاد صوفیانے اس کے نفس کو ابھارا۔
جلال الدین اکبربا جبروت بادشاہ ماناجاتاتھا،وہ دنیاکے ساتھ دین پربھی حکومت کرناچاہتاتھا،اس نے دین میں کچھ اضافے اورکچھ تبدیلیاں کیں۔ اس کا کہناتھاکہ دین کا ایک ہزار سال پورا ہوگیا ہے، اب نئے ہزار سال کے لیے دین کی نئی تعبیر و تشریح کی ضرورت ہے۔وہ اگلے ہزار سال کے لیے دین کا مجتہد بن گیا۔ اس کے دین کو ’’دین الٰہی‘‘ کا نام دیا گیا۔ دین الٰہی والوں کا دعویٰ ہزار سال کا تھا،اکبر’’ہزارسالہ مجتہد ‘‘بن گیاتھا۔
جلال الدین اکبر نے علمائے سوءاور صوفیائے خام کی مدد سے 987ھ؍1579ء میں ایک محضرنامہ تیارکرایاجس کامضمون تھا۔
’’امام عادل مطلقاً مجتہد پر فضیلت رکھتاہے،اور اس بات کا مجاز ہے کہ مسئلہ مختلف فیہ میں روایت مرجوح کو ترجیح دے دے، معاملات شرعیہ میں کسی کواس کی رائے سے انکارکرنے کی گنجائش نہیں، کیوںکہ امام عادل معاملات کو مجتہدین سے زیادہ سمجھتاہے،پس جو اس بات کی مخالفت کرے وہ دنیاوعقبیٰ میں موجب عذاب ہے، بلکہ امام عادل کو اس کا بھی اختیارہے کہ کوئی حکم ایسابھی اپنی طرف سے جاری کرے جو نص کے مخالف ہو، مگر اس میں خلائق کی رفاہیت مدنظرہو، اور امام عادل کے ایسے مسائل کی تعمیل سب پرواجب ہے‘‘۔
شاہی محضر نامہ سے عوامی بے چینی بڑھی ،ان کو وثوق دلانے لیے دستخطی مہم شروع ہوئی ، علماوفضلاسے تصدیقیں لی جانے لگیں،علمائے سونے دستخط ومہرثبت کردئے، دین الٰہی اکبر شاہی کو مسائل وضع کرنے کاجوازمل گیا۔اس شاہی دین ومذہب میں دربار کا ادب سجدہ قرارپایا، بادشاہی کا مہر سجع’’ جل جلالہ مااکبر شانہ‘‘ ٹھہرا،کلمہ طیبہ میں محمدرسول اللہﷺ کی جگہ اکبر خلیفۃ اللہ پڑھاجانے لگا،خنزیر اور کتوں کومحترم بنایاگیا،شراب اور جواحلال ٹھہرایاگیا،گائے کے ذبیحہ پرپابندی لگادی گئی،پردہ پرپابندی لگی ، بے پردگی عام ہوئی،مساجد اورمدارس کی تعمیرپر سخت قوانین نافذکئے گئے،علما کوجبراً شراب پلائی گئی،ڈاڑھی منڈوانا عام کیاگیا،سیاسی مقاصد کے تحت مذاہب باطلہ سے اتحادکے نام پر من مانیاں کی گئیں۔ غیر مسلموں کا ٹیکس (جزیہ ) موقوف کر دیا گیا ۔نماز ،روزہ اور حج کی اجتماعی شان ختم کر دی گئی ۔اسلامی ہجری کیلنڈر کی بجائے نیا سن الہٰی رائج کیا گیا ۔ دیوان حکومت میں نماز با جماعت ختم کر دی گئی ۔حیات اخروی اور تصور آخرت کی جگہ عقیدہ تناسخ نے لے لی ۔ مذہب اسلام میں اتنی بڑی تبدیلی اکبرنے اپنے بل بوتے پر نہیں کی، ان کے ساتھ علمائےسو کی ایک جماعت تھی،گمراہ اور منحرف شریعت صوفیاکی ٹولی تھی اوردنیا کےلالچی ملحد حکومتی کارکنان تھے۔
شیخ احمد سرہندی اکبرکے’’ دین الٰہی ‘‘کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے،اس کی جگہ رسول کریم ﷺ کے دین الٰہی پر کام کیا۔ علماومشایخ نے ان کو’’مجددالف ثانی‘‘ کا خطاب دیا ۔یعنی ہزار سالہ مجتہدکے مقابلہ میں ’’ہزار سالہ مجدد‘‘کاخطاب دیاگیا۔کچھ لوگوں نے الف ثانی کامعنی یہ بھی لیاکہ شیخ احمد سرہندی دوسری صدی ہجری کے بعدمجدد ہوئے۔
مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے ان تمام نظریات کی تردید کی، اسلام کی حقانیت کو ازسرنو ثابت کیا۔ نبی اکرم ﷺ کی رسالت دائمہ کا اثبات کیا،ایک ہزار سال پر دین کی نئی تعبیروتشریح کاانکارکیا۔علمائے سوءکو راہ حقانیت دکھائی اور صوفیائے خام کوحقیقی تصوف کاآئینہ دکھایا۔انہوںنے بیک وقت سہ فریقی لڑائی لڑی۔اس جد وجہد کی ابتدا سے پہلے انہوں نے حالات کاجائزہ لیا،بھارت کے مختلف دیاروامصارکے سفر کئے۔حالات کاتجزیاتی نقشہ تیارکیاپھر میدان عمل میں اتر آئے۔
ڈاکٹر محمد عظیم فاروقی صاحب لکھتے ہیں۔
’’ شیخ سرہندی نے احیائے دین لیے مؤثر اقدامات اٹھانے سے پہلے شہنشاہ اکبرکے پایہ تخت آگرہ کا سفرکیا،جہاں انہوں نے فیضی[945ھ؍1539ء-1004ھ؍1595ء]، ابوالفضل[958ھ؍1551ء-1011ھ؍1602ء]اوربعض دوسرے درباری علماکے ساتھ نشست وبرخاست کی اور اعتقادی خرابیوں کا صحیح کھوج لگایا۔آپ نے اس حقیقت کو بھانپ لیاکہ معاشرہ میں حکمراں طبقہ،علمائے کرام اور صوفیائے عظام کی اصلاح کے بغیر کسی قسم کی تبلیغی مساعی مؤثر نہیں ہوسکتی۔لہذاآپ نے بے راہروی کے شکارحکمراں طبقہ ،علمائے سوءاورصوفیائے خام کو ٹارگیٹ کیااور ہمہ جہت انقلابی اصلاحی تحریک کا آغازکردیا۔خانقاہوں سے نکل کر رسم شبری کی سنت کو از سرنواجاگر کیا۔آپ کی ہمہ جہت کوششوں میں آپ کے مخلص خلفااور مریدین نےبھر پورساتھ دیاجو پورے ہندوستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے تھے۔اپنے قلمی، فکری،، روحانی اورعملی جہادکو کامیابی سے ہمکنارکرنے لیے آپ نے قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔اپنوں اور بیگانوں کی مخالفتوں کا بھی خندہ پیشانی سے مقابلہ کیااور اپنے پاکیزہ مقصد میں بڑی حدتک کامیابی ہوئے‘‘۔[حضرت مجدد الف ثانی کی دینی وملی خدمات کا تحقیقی جائزہ، محمد عظیم فاروقی،گورنمنٹ کالج آف کامرس،سیٹلائیٹ ٹاؤن،راولپنڈی ،پاکستان، ص:200]
مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کی عمرمبارک چالیس کو پہنچ چکی تھی، شاہی مذہب دین الٰہی کے خلاف آرپارکی لڑائی کے لیے آپ نے کمرکس لی تھی کہ سلطان جلال الدین اکبر دنیاکو الوداع کَہ گیا۔ 16؍اکتوبر 1605ءمیں نور الدین محمدجہاںگیرتخت نشیں ہوا۔حکومت بدلی مگرمذہب وہی رہا۔حضرت مجدد الف ثانی نے جہاںگیری عہدکے امرا،وزرا اور اعیان سلطنت کودین حق کی طرف مائل کرنے اور اکبری عہدکے بدعات وخرافات کو دور کرنے لیے مکتوبات جاری کئے۔صدرجہاں،خان جہاں اور شیخ فرید بخاری جیسے لوگ جو بادشاہ کے قریبی مانے جاتے تھے،انہیں آپ نے خصوصاً ٹارگیٹ کیااوران کے ذریعہ سے اپنی بات اعیان سلطنت تک پہنچائی۔
مجدد الف ثانی نے دین الٰہی کی بیخ کنی لیےاپنااثر و رسو خ استعمال کیا، علم وعمل اور تصنیفی و تالیفی صلاحیتیں بروئے کارلائیں، طلبہ و فقراء کی جماعتیں تیارکیں،انہیں اس کام میں شریک کیا،مختصرلفظوں میں یوں کہیے کہ ہرممکن ذریعہ استعمال فرمایا ۔ان سارے ذرائع میں مؤثرترین ذریعہ آپ کی مکتوب نگاری کاتھا ۔آپ نے ایک ایک آدمی کوکئی کئی مکتوب روانہ کئے۔مکتوبات کی نقلیں تیارکراکرملک بھرمیں تقسیم کرائے۔آپ کی مکتوب نگاری نےصور اسرافیل کا کام کیا،دین الٰہی اکبرشاہی، بدعات ،منکرات اورمنحرف نظریات ،موت کی نیندسونے لگیں ۔جہانگیرنے آپ کو پابہ زنجیرکیاتھا، قید میں ڈالاتھا ،آخر میں وہ بھی حلقہ بگوش عقیدت ہوا، اور اپنے بیٹے شہزادہ خرم (شاہ جہاں) کو آپ کے حلقہ بیعت میں شامل کیا ۔اسلامی احکام از سر نو جاری کر دئیے گئے اور بدعت کی جملہ ترمیمات موقوف ہوئیں ۔دین الہٰی اکبر شاہی اپنی تمام تر خرافات و بدعات سمیت رخصت ہوا۔ حکومت کی روش ، اسلام کے حق میں ادب و احترام سے معمور ہو گئی ۔یہ انقلاب صرف ایک مرد فقیر کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ تھا۔فللٰہ الحمد-
صوفیائے خام کی اصلاح
مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے زمانے میںجاہل صوفیاکاگروہ اپنے کل پرزوں کے ساتھ باہر نکل آیاتھا،اپنے خیالات فاسدہ اور نظریات باطلہ سے بنیادِ تصوف کوتہ وبالاکردیاتھا،ان کاکہناتھا:شریعت ، طریقت اورمعرفت الگ الگ چیزیںہیں۔وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ایک صوفی کے لیے ظاہر شریعت پر عمل ضروری نہیںہے۔صوفی کودل کی نمازپڑھنی چاہیے اوردل کا روزہ رکھناچاہیے۔ان گمراہ کن اقوال کارجحان صوفیاکے اندر عہداکبری میں پروان چڑھا،دھیرے دھیرے ان کاعقیدہ بن گیا۔ حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے مکتوب نمبر276میں صوفیائے خام کایہ قول باطل نقل کیاہے :’’پیر اس مقصد سے عبادت نہیں کرتاکہ وہ عبادت کا محتاج ہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہوتاہے کہ اس کے متبعین اس کو دیکھ کرعبادت کریں‘‘۔
مجدد الف ثانی شیخ احمدسرہندی علیہ الرحمہ نے اپنے مکتوبات کوصوفیاکی اصلاح کا ذریعہ بنایا،صوفیاکوتنبیہ فرمائی اور تجدیدواصلاح کافریضہ انجام دیا۔چنانچہ شیخ محمدیوسف کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں ۔
’’ اپنے ظاہر کوظاہر شریعت سے اور باطن کو باطل شریعت سے یعنی حقیقت سے آراستہ رکھیں،کیوں کہ حقیقت اور طریقت دونوں شریعت ہی کی حقیقت اورطریقت سے مراد ہیں،نہ یہ کہ شریعت اور ہے اور طریقت وحقیقت کچھ اور‘کہ یہ الحاد اور زندقہ ہے‘‘۔[مکتوبات امام ربانی،مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی، مترجم ،مولانا قاضی عالم الدین نقش بندی، مطبوعہ لاہور، سال اشاعت 2000ء،ج:1،مکتوب نمبر:57]
سید احمد قادری کو تلقین کرتے ہوئے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’شریعت اور طریقت ایک دوسرے کا عین ہیں اور حقیقت میں ایک دوسرے سے جدانہیں‘‘۔[مرجع سابق،مکتوب نمبر:84]
حضرت مجدد الف ثانی کا نظریۂ طریقت بالکل عیاں ہے۔انہوں نےعلم ،عمل اور اخلاص کو شریعت کے تین جزقراردیاہے، طریقت کو شریعت کے تیسرے جزیعنی اخلاص کاراستہ بتایاہے۔انہوں فرمایاہے کہ:’’طریقت،حقیقت ومعرفت خادمان شریعت اند‘‘یعنی طریقت،حقیقت اورمعرفت نبی پاک ﷺ کی شریعت کے تابع ہیں اور جوشریعت محمدیﷺ کی تابعداری نہیں کرتاوہ نہ صوفی بن سکتاہے اور نہ ہی ولی بن سکتاہے اور نہ حقیقت ومعرفت کے مقام کوحاصل کرسکتاہے۔جہان امام ربانی میں لکھاہے۔
’’حضرت امام ربانی کی اپنے مکتوبات شریف کے ذریعے عہد اکبری اور پھرعہد جہاںگیری کے صوفیہ کی اصلاح کے لیے کی گئی سعئ بلیغ بخوبی عیاں ہے۔ آپ نے شریعت اور طریقت کے رشتہ کو محکم کیاکہ خام خیال صوفیہ کے سبب یہ رشتہ ٹوٹ رہاتھا۔آپ نے اپنے مکتوبات اور مکالمات میں باطل نظریات تصوف [جن کا اسلامی تصوف سے دورکا بھی تعلق نہ تھا] کی مخالفت اور اصلاح کا اہم کارنامہ انجام دیااور اس طرح عہد اکبری کے ایک بڑے فتنے کی سرکوبی فرمائی‘‘۔[جہان امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی، امام ربانی فاؤنڈیشن، کراچی ،سال اشاعت ،1425ھ؍2005ء،ص:517]
حاصل کلام یہ ہے کہ شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ نے اصلاح تصوف پر خصوصی توجہ دی ، شریعت اور تصوف کے درمیان کیامشترک کیااضافی ہیں؟ان کو واضح کیا،ان کے حدودودائرے متعین کیے، وحدۃ الوجود کے فلسفہ کے مقابلے میںوحدۃ الشہود کا فلسفہ پیش کیا، طریقت پر شریعت کی برتری ثابت کی اوراور دلائل وبراہین سے ثابت کیاکہ صوفی کے تجربات ومشاہدات کی بنیاد پر شریعت کاکوئی بھی حکم تبدیل نہیںکیا جائے گا اور احکام خداوندی میںکسی بھی قسم کی تبدیلی قبول نہیںکی جائے گی۔
باطل فرقوں کااستیصال
مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کا دورِ ارشاد وتبلیغ سلطان نور الدین محمدجہاںگیرکے پورے عہد سلطنت کو محیط ہے۔جہاںگیر راجابہاری مَل کی لڑکی کے بطن سے پیداہواتھا،راجابھگوان داس کی لڑکی سے شادی کی تھی۔غیرمسلم بھارتیوں کاان کے محل میں دبدبہ تھا۔سلطان ہمایوں کے زمانےسے ایرانی شیعوں کو شاہی محل کے گلیاروں میںآمد ورفت کی آزادی تھی ،بعد کے ادوارمیں بھی جاری رہی۔اہل تشیع نےارکان سلطنت کے تقرب کافائدہ اٹھایا۔ اپنے عقائد ونظریات کا زہرپھیلایا۔
مسلم وغیرمسلم بے روک ٹوک اختلاط کی وجہ سے مسلمانوں کی زندگی میںکافی حدتک مشرکانہ رسومات درآئی تھیں۔ڈاکٹر محمد عظیم صاحب لکھتے ہیں۔
’’مسلمان غیر مسلموں کے مذہبی رسومات میں شرکت کرتے تھے،اپنی اغراض کے لیے ان کے دیوی دیوتاؤں سے منت مانگتے تھے۔عورتیں چیچک سے بچنے کے لیے ان کی پراتھناکیاکرتی تھیں ،راکھی اور دیوالی جیسے ہندوتیوہاروں میں بھی مسلمان شریک ہونے لگے تھے، دیوالی کے موقعے پر وہ بھی بالکل ہندؤں کی طرح دئے جلاتے تھے اور کھاناپکاکررنگ برنگ برتنوں میں دوستوں کو تحفے بھیجاکرتے تھے، ہندوتہذیب کااثر اوپرکے طبقوں تک بھی پہنچ چکاتھا‘‘۔
شیخ مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ نےمذکورہ خرافات ورسومات کے خلاف علم ارشاد بلندکیا۔بڑی تندہی اور جانفشانی سے عوام وخواص کو اسلامی تعلیمات ورسومات سے واقف کرایا۔ اس کی وجہ سے آپ کوبہت سی مخالفتوں کا بھی سامناکرناپڑامگر آپ کے پائے ثبات کو ئی لغزش نہ آئی۔اللہ کریم نے آپ کےحوصلوں کو جوانمردی عطاکی اور معاشرہ میں مسلم تہذیب وثقافت کابول بالادکھائی دینے لگا۔
شیعی سوچ اورفکرِرفض کاپانی جب سرسے اونچاہوگیا، حضرت الف ثانی علیہ الرحمہ نےعنان توجہ ادھر بھی موڑا،ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا،عوام وخواص کوعقائد اہل سنت پر گامزن کیا۔رسول کریم ﷺ کےصحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کی حیثیت،ان کی تعلیمات، خلفائے راشدین کی عظمت اوران کےفرامین کو عام کیا۔آپ کی کتاب ’’رد روافض‘‘ اور آپ کے کثیر مکتوبات میں روافض واہل تشیع کے عقائد فاسدہ کا بطلان کیاگیاہے۔ان کی سعی پیہم اورجہد مسلسل ہی کا نتیجہ تھاکہ سلطان جہاںگیر کادرباری عالم ملا نور اللہ شوستری پرخلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اہانت کا مقدمہ چلا،جرم ثابت ہوا، موت کی سزاملی، جبکہ سلطان کی بیوی ملکہ نورجہاں خود شیعہ تھی۔ملانور اللہ شوستری کو اہل تشیع کے ہاں شہید ثالث کہا جاتا ہے۔
مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ نےاپنے تجدیدی کارناموں کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار نہیں کیا، میدان جنگ میں نہیں نکلے۔بلکہ انہوں نےعلمی و فکری طریقہ اختیارکیا۔سلطانی دربارمیں،جہانگیر ی فوجیوں میں،اور اعیان سلطنت کےساتھ رہ کر ان کی ذہن سازی کی۔ان کاموں کی پوری تفصیل ان کے مکتوبات میںموجودہے۔ مکتوبات کے مطابعہ سے باور کیاجاسکتاہےکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام اور شعائر اسلام کے احیا کے لیے وقف کردی تھی۔ اس راستے میں جو بھی رکاوٹیں اور مصیبتیں در پیش آئیں ‘ انہوں نے خندہ پیشانی سےقبول کیا،سلطنت کے خوف سے کبھی حق گوئی سے دریغ نہیں کیا۔ اپنے مکتوبات کے ذریعے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ غیر اسلامی رسومات کا خاتمہ کیا جائے، مکمل طور پر نظام مصطفی نافذ کیا جائے، بدعات و خرافات کا خاتمہ ہو، سنت رسول اکرم ﷺکا احیا ہو۔ان کی انقلاب آفریں کوششیں کامیاب ہوئیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ علمائے حق اور مشائخ عظام و صوفیائے کرام میدان عمل میں نکلیں اور حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی پیروی کرتے ہوئے حق و صداقت کا علم بلند کریں۔
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں