تبصرہ وتعارف : نام کتاب : فقہ اور افتاکی تدوین و تاریخ۔ تبصرہ نگار : محمد طفیل احمد مصباحی

نام کتاب  :  فقہ اور افتا کی تدوین و تاریخ
مصنف   :  مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
صفحات  :   112
ناشر       :   اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن ، حیدر آباد ، دکن

تبصرہ نگار  :  محمد طفیل احمد مصباحی 
_____________________________________


فقہِ اسلامی در اصل کتاب اللہ ، سنت ( قرآن و حدیث ) ، اجماعِ امت اور قیاس پر مشتمل وہ پاکیزہ علم ہے جو دارین کی سعادتوں کے حصول کے ساتھ بیشمار دینی و دنیوی مصالح و منافع کو اپنے دامنِ کرم میں سمیٹے ہوئے ہے ۔ اسلامی بلکہ انسانی معاشرے میں قندیلِ ہدایت روشن کرنے کے ساتھ  جلبِ منافع اور دفعِ مفاسد اس کا طرۂ امتیاز ہے اور اس کی چاروں شاخیں ( فقہِ حنفی ، فقہِ مالکی ، فقہِ شافعی ، فقہِ حنبلی ) پوری امتِ مسلمہ لیے سراپا خیر و برکت ہیں ۔ آج کے اس دورِ قحط الرجال میں جہاں ہر طرف علم و عمل کا چکمتا سورج گہناتا ہوا دکھائی دیتا ہے ، یہ فقہِ اسلامی ہی ہے جو امتِ مسلمہ کو ہدایت و سعادت اور منزلِ مقصود کی طرف رہنمائی کرتا نظر آتا ہے ۔ فقہِ اسلامی ایک ایسی فکر سلیم اور منہجِ مستقیم کا نام ہے جو قرآن و سنت کے چشمۂ صافی سے سینچا گیا ہے اور اہلِ ایمان کے لیے دنیوی و اخروی فوز و فلاح کا سامان مہیا گیا ہے ۔ یہ وہ عطیۂ الہیٰ ہے جس سے امتِ محمدی کو سرفراز کیا گیا ہے اور اس کی روشنی میں اسے شاہراہِ حیات طے کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے ۔  فقہ اسلامی قرآن وسنت کے عملی احکام کا نام ہے ۔ اس کے بعض و احکام و ارشادات قرآن و سنت کے متعین کردہ ہیں اور بعض احکام کلامِ الہیٰ و حدیثِ نبوی کےاصولوں سے ماخوذ و مستنبط ہیں ۔ ان دونوں کے باہمی امتزاج و ترکیب سے وجود پذیر فقہ اسلامی ایک مستحکم عملی قانون کی شکل میں آج ہمارے سامنے موجود ہے ۔

فقہِ اسلامی کی اہمیت و معنویت کا اندازہ مندرجہ ذیل اقتباس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ : " فقہِ اسلامی ، امتِ مسلمہ کو باہم مضبوط و مربوط کرنے والا وہ نظامِ حیات ہے جس پر اس کی زندگی کی بقا موقوف ہے اور یہ وہ سرمایۂ اعزاز و افتخار ہے جو اس سے پہلے دیگر امتوں کو حاصل نہیں ہوا ۔ نظامِ عالم کا حسن و جمال اور خوبی و کمال اسی پر منحصر ہے ۔ نیز سماجی اور اخلاقی مصالح کا دار و مدار اسی " فقہِ اسلامی " پر ہے " ۔

الفقه الاسلامی جامعة و رابطة للامة الاسلامية و ھو حیاتھا تدوم ما دام و تنعدم ما انعدم و ھو جزء لا یتجزی من تاریخ الامة الاسلامية فی اقطار المعمورة ، و ھو مفخرة من مفاخرھا العظیمة و من خصائصھا التی لم تکن لای امة قبلھا ، اذ ھو فقه عام مبین لحقوق المجتمع الاسلامی بل البشری ، و به کمال نظام العالم فھو جامع للمصالح الاجتماعیة بل و الاخلاقیة ........ فالفقه الاسلامي نظام عام للمجتمع البشری عامة تام الاحکام مکتمل الآراء ، لم یدع شاذة و لا قاذة و ھو القانون الاساسی للدولة الاسلامیة .

( مقدمة التحقیق ، رد المحتار علی الدر المختار ، جلد اول ، ص : ٢٢ ، دار عالم اللکتب ، الریاض )

زیر تبصرہ کتاب " فقہ اور فتاویٰ کی تدوین و تاریخ " حضرت علامہ مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی دام ظلہ العالی کی ایک بلند پایہ علمی و تحقیقی تصنیف ہے ، جس میں فقہِ اسلامی کی عظمت ، فقہ و فتاویٰ کی اہمیت و وسعت ، ان دونوں کے مابین لطیف فرق ،  چاروں فقہ ( فقہِ حنفی ، فقہِ مالکی ، فقہِ شافعی ، فقہِ حنبلی ) کے اوصاف و خصوصیات ، فتویٰ کی شرعی حیثیت ، فقہ و فتاویٰ کی لغوی و اصطلاحی تعریف ، مفتی و فتویٰ کے انواع و اقسام ، فتویٰ نویسی کے اصول و مبادی جیسے اہم موضوعات پر دلائل و شواہد کے ساتھ تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اسی طرح یہ سوالات کہ :  کیا مفتی کے لیے مجتہد ہونا ضروری ہے ؟ ، فتویٰ دینا کسے جائز ہے ؟ ، فتویٰ کس کے قول پر دیا جائے ؟ ، فقہائے احناف کے اقوال مختلف ہونے کی صورت میں فتویٰ کی ترتیب کیا ہوگی ؟ ، مختلف فیہ اقوال میں ترجیح کے وجوہات کیا ہیں ؟ ، قولِ امام سے عدول کب جائز ہے ؟ کے تشفی بخش علمی جوابات مصنف نے دیے ہیں اور ہر موضوع کے تمام ممکنہ گوشوں پر دلائل کے ساتھ گفتگو فرمائی ہے ، جس سے قارئین کو کسی قسم کی تشنگی کا احساس نہیں ہوتا ۔ یہ اقتباس ملاحظہ کریں  :


تحقیق و جستجو اور باہمی مفاہمت ، انسانی زندگی کا ایک اہم عنصر اور بنیادی حصہ ہے ۔ روز ازل سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور صبح قیامت تک جاری رہے گا ۔ اسی فہم و مفاہمت ، طلب و دریافت اور تحقیق و جستجو کو علم و فن کی اصطلاح میں " فقہ و افتا " سے تعبیر کرتے ہیں اور مسائل شرعیہ میں ان کے ماہرین کو " فقیہ و مفتی " کہتے ہیں ۔ فقیہ و مفتی کا اطلاق دورِ قدیم میں مجتہدِ مطلق پر ہوتا تھا ۔ ابتدائی زمانے میں ایسے نو پید مسائل کو فتویٰ کہا جاتا تھا ، جن کے احکام مجتہدین فقہا اپنے اجتہاد سے بیان فرماتے اور اصحابِ مذہب سے ان سے متعلق کوئی روایت منقول نہیں ہوتی ۔ جب مجتہدین فقہا کا زمانہ ختم ہوا اور دورِ تقلید شروع ہوا تو ان مجتہدین کے مستنبط اور اجتہادی مسائل کو عوام الناس سے بیان کرنے اور نقل کرنے کو " فتویٰ " سے تعبیر کیا جانے لگا اور جو فقہائے کرام کے مختلف طبقات پر گہری نظر رکھتا ہے اور راجح و مرجوح اور مفتیٰ بہ اقوال میں امتیاز کی صلاحیت و قابلیت رکھتا ہے ، ایسے ناقلِ فتویٰ کو " فقیہ اور مفتی " کہا جانے لگا ۔ اس تنوع کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو فقہ و افتا اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے قریب قریب مساوی ہیں ، ان دونوں کے درمیان زیادہ کوئی خاص فرق نہیں ہے ۔ صرف امتیازی فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ فقہ خاص ہے اور فتاویٰ عام ہے ۔


( فقہ اور فتاویٰ کی تدوین و تاریخ ؛ ص : ٤٣ / ٤٤ )

فقہ و فتاویٰ اور فقیہ و مفتی کا مفہوم بیان کرنے کے بعد فاضل مصنف نے فقہ و فتاویٰ کی وسعت و ہمہ گیری اور ان دونوں کے مابین لطیف فرق و امتیاز پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے ، جو ان کی دقتِ فکر اور وسعتِ نظر پر دال ہے  :

فقہ ، علومِ اسلامیہ میں سب سے زیادہ وسیع اور دقیق علم ہے ۔ یہ جہاں ایک طرف قرآن ، حدیث ، اقوالِ صحابہ ، اجتہاداتِ فقہا ، جزئیات و فروع ، راجح و مرجوح اور امت کی واقعی ضروریات کے ادارک کے ساتھ زمانے کے بدلتے حالات کے تناظر میں دین کی روح کو ملحوظ رکھ کر تطبیق دینے کا نام ہے ، وہیں دوسری طرف طہارت و نجاست کے مسائل سے لے کر عبادات ، معاملات ، معاشرت ، آداب و اخلاق اور ان تمام چیزوں کو اپنے اندر سیمٹے ہوئے ہے جن کا تعلق حلت و حرمت اور اباحت یا عدمِ اباحت سے ہے ۔
فتاویٰ کا میدان فقہ سے وسیع تر ہے ۔ اس لیے کہ فتاویٰ میں ایمانیات ، فِرق و ملل ، تاریخ و سیرت ، تصوف و سلوک ، اخلاق و آداب ، عبادات و معاملات ، معاشرت و سیاسیات کے ساتھ قدیم و جدید مسائل کا حل ، اصولی و فروعی مسائل کی تشریح و تطبیق جیسے امور بھی شامل ہوتے ہیں ۔


( فقہ اور فتاویٰ کی تدوین و تاریخ ، ص : ٤٤ )


مشاہیر مفتیانِ کرام ، فتویٰ کی مختصر تاریخ ، فقہِ کی تعریف ، موضوع ، غرض و غایت ، علمِ فقہ کی فضیلت و شرعی حیثیت ، فقہ کی مختصر تاریخ ، مجتہدینِ صحابہ ، مجتہدینِ صحابہ کے اقسام ، مجتہدینِ مکثّرین ، مجتہدینِ متوسطین ، مجتہدین مقلین ، مختلف بلادِ اسلامیہ میں علمِ فقہ کا فروغ و ارتقا جیسے مباحث کتاب کی اہمیت و معنویت میں اضافہ کرتے ہیں ۔ چاروں فقہی مذاہب و مسالک بیان کرنے کے بعد مصنف نے تدوینِ فقہ ، ضرورتِ تدوین اور طریقۂ تدوینِ فقہ سے قارئین کو آگاہ کیا ہے ۔ اسی طرح خاص فقہِ حنفی سے متعلق موضوعات مثلاً  : فقہِ حنفی کے اصول ، طبقاتِ فقہائے احناف ، کتبِ احناف کے طبقات ، کتبِ اصول و نوادر ، کتبِ واقعات ، موجودہ دور میں فقہِ حنفی کی ماخذ و مستند کتابوں کی نشان دہی ، مستند متون و شروح و فتاویٰ کافی اہمیت کے حامل ہیں ، جو تحقیق فی الفقہ کے طلبہ کے لیے خضرِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

فتویٰ نویسی نہایت اہم ، باوقار اور ایک ذمہ دارانہ عمل ہے ۔ اس مہتم بالشان مقام و منصب پر ہر کس و ناکس کو نہیں بٹھایا جاتا اور نہ ہر ایک کو فتویٰ دینے کی اجازت حاصل ہے ۔  بڑے سے بڑا عالم اور درس نظامی کا دقاق فاضل بھی فتویٰ دینے کا مجاز نہیں ہے ۔ فقہائے کرام نے اس کے لیے کڑی شرطیں رکھی ہیں اور اس کے اصول و آداب مقرر کیے ہیں جو حد درجہ دشوار ہیں اور یہ اصول و شرائط بہت کم لوگوں میں پائے جاتے ہیں ۔ مفتی کی حیثیت شارع کے نائب کی ہوا کرتی ہے ، جو پوری تحقیق و تفحّص اور کامل غور و خوض کے بعد دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں سائل کے سوالات کا شرعی جواب دیتا ہے اور دینی معاملات میں لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا ہے ۔ اسی اہمیت کے پیش نظر فتویٰ نویسی کے اصول و قواعد کو باقاعدہ فن کی شکل دی گئی اور اس فن کو " رسم المفتی " کا نام دیا گیا ہے ۔ " عقود رسم المفتی اور اس کی " شرح " میں فتویٰ نویسی کے بنیادی مباحث پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے ۔ آیت کریمہ : فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ . سے فقہ و افتا کا ثبوت فراہم ہوتا ہے ۔

مصنفِ کتاب حضرت مفتی کمال الدین اشرفی دام ظلہ نے فتویٰ نویسی کی دشواریوں اور اس کے منصبی تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے مندرجہ ذیل شرائط و آداب بیان کیے ہیں ۔  ان اصول و شرائط کی روشنی میں ہم آج کے ان مفتیان کرام کا حال بخوبی معلوم کر سکتے ہیں جو زبردستی منصبِ افتا پر بیٹھ گئے ہیں اور غلط سلط فتویٰ دے کر لوگوں میں افتراق و انتشار کا ماحول پیدا کر رہے ہیں ۔


( ١ )   مفتی کے سامنے جو سوال پیش کیا جائے اسے بغور سنے ، پڑھے ۔ سوال کا منشا کیا ہے ؟ اسے سمجھنے کی کوشش کرے ۔ ضرورت ہو تو سائل سے مخفی گوشوں کے تعلق سے وضاحت بھی طلب کرے ۔


( ٢ )   سوال تفصیل طلب ہو اور الگ شقوں کو جواب دینے میں یہ احتمال ہو کہ سائل اپنے لیے اس شق کو اختیار کر لے گا جس میں اس کا نفع ، یا سرخروئی یا عافیت ہو ، گو کہ اس کا معاملہ اس شق سے وابستہ نہ ہو تو اپنی طرف سے شق قائم کر کے جواب نہ دے ، بلکہ تنقیح کے ذریعے صورتِ واقعہ کی تعیین کرے اور پھر جواب دے ۔

( ٣ )   جواب میں سوال کی مناسبت سے جتنے جزئیات مل سکیں سب پر اچھی طرح غور کر لے ، جو جزئیہ سوال کے مطابق ہو اسی کو نقل کرے ۔

( ٤ )   جواب مذہب کی کتبِ معتمدہ مستندہ سے دے ۔ کتبِ ضعیفہ سے استناد نہ کرے ۔

( ٥ )   پیش آمدہ سوال کے تعلق سے جزئیات دو طرح کے ہوں ، یا ایک ہی جزئیہ میں دو طرح کے احتمالات ہوں تو اصحابِ ترجیح میں سے کسی فقیہ نے جس قول ، یا جس احتمال کو ترجیح دیا ہو ، اسے اختیار کرے ۔

( ٦ )   اور اگر ترجیح بھی مختلف ہو تو اصحابِ تمیز نے فتاویٰ کے لیے جسے اختیار فرمایا ہو ، اس پر فتویٰ دے ۔ اگر وہ مفتیٰ بہ قول کی دریافت سے عاجز ہو تو اپنے سے افقہ کی طرف ( سائل کو ) رجوع کرنے کا حکم دے ، یا خود رجوع کرے ۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو توقف کرے کہ اب جواب دینا فتویٰ نہیں " طغویٰ " ہوگا ۔

( ٧ )   جواب تمام ضروری گوشوں کو محیط ہو ۔ اس کے لیے وسعتِ مطالعہ ، استحضار اور تیقّن نا گزیر ہے ۔

( ٨ )   جواب کا تعلق کسی دشواری کے حل سے ہو اور حل مختلف ہو تو جواب میں اس حل کو اختیار کرے جو قابلِ عمل ہو اور جو حل کسی وجہ سے قابلِ عمل نہ ہو تو اس کا ذکر عبث ہوتا ہے ۔

( ٩ )    مفتی کو بیدار مغز ، ہو شیار ہونا چاہیے ۔ غفلت برتنا اس کے لیے درست نہیں ۔ کیوں کہ اس زمانے میں اکثر حیلہ سازی اور ترکیبوں سے واقعات کی صورت بدل کر لوگ فتویٰ حاصل کر لیتے ہیں اور دوسروں کے سامنے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فلاں مفتی نے مجھے فتویٰ دیا ۔ محض فتویٰ ہاتھ میں ہونا ہی اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں ، بلکہ مخالف پر اس کی وجہ سے غالب آ جاتے ہیں ۔ اس کو کون دیکھتا ہے کہ واقعہ کیا تھا اور سوال میں کیا ظاہر کیا گیا تھا ۔


( ١٠ )   مفتی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ بردبار ، خوش خلق ، ہنس مکھ ہو ۔ نرمی سے بات کرے ۔ غلطی ہو جائے تو ( اپنا قول و فتویٰ ) واپس لے ۔ اپنی غلطی سے رجوع کرنے میں کبھی دریغ نہ کرے ۔ یہ نہ سمجھے کہ مجھے لوگ کیا کہیں گے کہ غلط فتویٰ دے کر رجوع نہ کرنا ، حیا سے ہو یا تکبر سے ، بہر حال حرام ہے ۔

( ١١ )   ان تمام امور کے ساتھ ایک امرِ لازم یہ بھی ہے کہ جامعِ شرائطِ فتویٰ ، ماہر مفتی کی خدمت میں شب و روز حاضر رہ کر افتا کی تربیت حاصل کرے ، جد و جہد کا خوگر بنے اور کثرتِ مشق و مزاولت سے خود مندرجہ بالا امور کا ماہر بنے ................  جو عالمِ دین ان اوصاف و شرائط کا جامع ہو ، وہی نقلِ فتویٰ ( فتوی دینے ) کا اہل ہے اور وہی قابلِ اعتماد و لائقِ استناد مفتیِ ناقل ہے اور اس کے فتاویٰ اس سے نیچے درجے کے علما کے لیے حجت اور واجب العمل ہیں ۔



( زیرِ تبصرہ کتاب ، ص : ٥٢ / ٥٣ / ٥٤ )


فتاویٰ کی ادبی ، فنی ، لسانی اور تاریخی حیثیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ اردو کی لسانیاتی تاریخ و ارتقا پر نظر رکھنے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ فقہ و فتاویٰ نے عربی و فارسی کے علاوہ اردو زبان و ادب کے ذخیروں میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔ صوفیائے کرام اور مفتیانِ عظام نے اردو زبان کو ہر دور میں رنگ و روغن فراہم کیا اور اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اربابِ شریعت و طریقت کے لسانی خدمات کو آج قصداً نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔
 " فقہ و فتاویٰ کی ادبی و فنی اور لسانی حیثیت " ایک ایسا عنوان ہے جس پر شرط و بسط کے ساتھ ایم فل یا پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے جا سکتے ہیں ۔

فاضل مصنف کے زہرہ نگار قلم نے اس حقیقت کو بھی بڑے اچھوتے انداز میں واشگاف کیا ہے اور فقہ و فتاویٰ کی ادبی و فنی حیثیت پر ادیبانہ نقطۂ نظر سے کھل کر گفتگو فرمائی ہے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں  :

اگر فتاویٰ کے تمام سرمایوں کا بنظرِ عمیق مطالعہ کیا جائے تو مختلف حیثیتوں سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ادبی و لسانی اور تاریخی حیثیت سے فتاوے خاص اہمیت رکھتے ہیں ۔ آسان و سلیس اردو زبان میں اہم قانونی مسائل و دفعات کی تشریحات ایک طرف خود زبانِ اردو کی وسعت اور دوسری طرف زبان پر مجیب و مفتی کی کمالِ قدرت کا آئینہ دار ہے ۔ فتاوے کو فنی لحاظ سے بھی اردو میں اہم مقام حاصل ہے ۔ مقالہ نگاری خصوصاً تحقیقی مقالات دورِ جدید کی ایجادات میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ اگر اس نقطۂ نظر سے فتوؤں کا جائزہ لیا جائے تو بعض فتوے بلند پایہ علمی و تحقیقی مقالات معلوم ہوتے ہیں ، فرق صرف تہذیب و تزئین کا ہے اور وہ کوئی بڑا فرق نہیں ہے ۔ اردو ادب میں مقالہ نگاری کو علی گڑھ تحریک کا مرہون منت خیال کیا جاتا ہے ، حالاں کہ اس تحریک سے بہت پہلے اور بعد میں کتبِ فتاویٰ میں اکثر ایسے فتوے نظر آتے ہیں جن کو اردو کے بہترین مقالات میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔ لسانی حیثیت سے بھی فتوؤں کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ ان کے ذریعے عہد بعہد کے لسانی تغیرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور چوں کہ فتوؤں کا تعلق اسلامی فقہ سے ہے ، اس لیے ان کے ذریعے سے عربی زبان کے جو قانونی الفاظ ( مخصوص اصطلاحات ) اردو زبان میں داخل ہوئے ہیں ، ان کا سراغ بھی لگایا جا سکتا ہے ۔ ایک خاص ملک یا ایک خاص علاقہ کے فتوے سے مسلمانوں کے ایک طبقے کا مزاج ، عقلی اور نفسیاتی خصائص کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ تاریخی حیثیت سے بھی فتاوے خاص اہمیت رکھتے ہیں ۔ چوں کہ تاریخ ، اقوام و افراد کے احوال کا مجموعہ ہے ۔ اس لیے فتاوے جو کسی قوم کے انفرادی و اجتماعی احوال کے جزئیات پیش کرتے ہیں ، تاریخ سازی میں معین ثابت ہو سکتے ہیں ۔


             ( مصدرِ سابق ، ص : ١٠٥ )


غرض کہ مصنفِ باکمال مفتی کمال الدین اشرفی مصباحی نے اپنی ذہانت و لیاقت اور کمالِ ہنر مندی کا ثبوت دیتے ہوئے فقہ و افتا کے تقریبا تمام اہم اور ضروری گوشوں کو نہایت اختصار و جامعیت کے ساتھ اس کتاب میں سمیٹ دیا ہے ۔ اندازِ بیان خالص علمی اور تحقیقی ہے ۔ حوالوں کا بھرپور التزام ہے اور پیشکش میں عصری حسیت غالب ہے ۔ فقہ و افتا کے اصول و مبادی پر موصوف کی نظر گہری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ موضوع سے متعلق وہ ہر بات دلائل و شواہد کی روشنی میں سلیقے سے پیش کرتے ہیں اور اس کے مالہ و ما علیہ پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں ۔ روایت پرستی کے اس افسوس ناک دور میں تعلیم و تدریس ، وعظ و خطابت اور تحقیق و تصنیف کے شعبوں میں علم و درایت فقدان جا بجا نظر آتا ہے ، ایسے میں مفتی کمال الدین اشرفی جیسے با صلاحیت عالم و محقق کا وجود قدرِ غنیمت ہے ۔ کمیت و کیفیت اور صوری و معنوی اعتبار سے کتاب خوب سے خوب تر ہے اور علما و اساتذہ و طلبہ کے لیے یکساں مفید ہے ۔ اربابِ مدارس کو چاہیے وہ اپنے یہاں نصاب تعلیمِ میں اس کو " اجباری مطالعہ " کے طور پر داخل و شامل کریں ۔

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں