سنبھل جا اے ابن آدم!!: محمد فیروز عالم علاںٔی

 سنبھل جا اے ابن آدم!!!


تحریر🖊:محمد فیروز عالم علائی ۔۔(  شبعہ اردو،کلکتہ یونیورسٹی)
Email id : mdfirozalam7869278692@gmail.com

ماحصل :"تقوی اور پرہیزگاری محض رمضان المبارک تک ہی  مخصوص اور محدود نہیں ہونی چاہیے ،بلکہ روزہ دار کی ساری زندگی تقویٰ و طہارت کی آئینہ دار ہو ۔ماہ رمضان میں کی جانے والی عبادتیں اور ریاضتیں ماضی کی یادگار بن کر نہ رہ جائیں،بلکہ آئندہ زندگی میں انہیں مجاہدات کو اپنایا جائے،  تقویٰ کا مفہوم یہی ہے کہ ہمیشہ رضائے الہی کے حصول کی فکر ہو، بندے سے کوئی ایسا کام سرزد نہ ہو جو اللہ تعالی کی ناراضگی کا باعث ہو "؛
_________________________
کرونا وائرس جو کہ اب تک دنیا بھر کے تقریباً 200 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ ساٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہوچکے ہیں اور تقریباً لاکھوں لوگ اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ،ملک چین سے شروع ہونے والے اس وبائی مرض کو کون جانتا تھا کہ ایک دن ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ۔ آج دنیا بھر میں ڈر اور خوف کا یہ عالم ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے ۔اپنے گھروں میں قید انسان اس وقت صرف اپنی زندگی بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔
آخر ایسا کیوں ہے؟؟
ہم اپنی زندگی اور معاشرے کے حالات کا جائزہ تو لیں ۔۔۔۔
آج ہم جس سوسائٹی میں جی رہے ہیں اس میں ادنیٰ  غوروفکر سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہےکہ آج  کا یہ پُرفتن دور جس میں فتنہ و شرانگیزی صبح کو جنم لیتی ہے ،دوپہر کو انگڑائیاں لیتی ہیں ،اور شام تک اس فرش گیتی پر پھیل جاتی ہے۔ طرح طرح کے گمراہ کن افکار و خیالات، گناہ ومعصیت کے لمحہ لمحہ سامنے آنے والے واقعات  بہت تیزی وکثرت کے ساتھ چھا جاتےہیں جن میں مبتلا ہوکر لوگ اللہ تعالی سے دور اور توبہ سے غافل ہوتےجا رہے ہیں  اگر حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ کے مطیع وفرمانبردار بندے قلیل ہیں جو نفس و شیطان کے مکر و فریب اور دجالی تہذیب و تمدن کے پھندوں سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں مسلسل مصروف عمل نظر آتے ہیں، اس بھیانک اور خطرناک صورت حال کو دیکھ کر ایک مخلص مسلمان کا دل غم سے پارہ پارہ ہو جاتا ہے اور  آنکھیں خون کے آنسوؤں سے نم ہو جاتی ہیں اور دل و دماغ  اور بدن سے ایک اضطرابی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے کہ آج مسلمان اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں پر کس قدر جری ہو گیا ہے اور کس  جرآت و بے باکی کے ساتھ اللہ تعالی کی نافرمانی کرکے اللہ تعالی کے غیض و غضب کو دعوت دے رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ اللہ کی رحمت اور اس کی جنت کے طلبگار نظر آتے ہیں۔۔
اب ذرا ٹھہر جائیں ۔۔۔اور کچھ لمحے کے لیے سوچیں کہ ہم کس کٹہرےمیں ہیں ۔۔۔۔
اے ابن  آدم اب بھی وقت ہے واپس آجا  ۔۔۔
اللہ تعالیٰ بڑا رحیم و کریم ہے ۔۔چلو اس کی بارگاہ میں اپنے کئے ہوئے پر  نادم و شرمندہ ہوتے ہیں !!اور اپنے گناہوں کی مغفرت کی بھیک  مانگتے ہیں اور قلب صادق سے استغفار کر تے ہیں۔۔۔۔۔
مسلمانو ! اللہ سے ڈرو ! اس لئے کہ تقوی الٰہی کامیابی و کامرانی کا ضامن ہے اور سعادت وفلاح بھی ۔۔۔۔
انسان اگر اللہ تبارک وتعالی کی صفات مقدسہ، اس کی نعمتوں اور مخلوقات میں غور و فکر کرے تو اسے معرفت الٰہی سے آشنائی حاصل ہوسکتی ہے ،خاص طور سے ایک عاصی، گناہوں کے دلدل میں پھسنا ہواانسان جب بغرض توبہ و انابت اللہ عزوجل کی طرف متوجہ ہوتا ہے اللہ تعالی اپنے فضل وکرم اورعفوودرگزر اور شان کریمی کے ساتھ اپنے بندے کی طرف متوجہ ہو تا ہے نہ صرف اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے بلکہ بسا اوقات گناہوں اور سیٔات کو نیکیوں اور حسنات میں تبدیل فرمادیتا ہے ۔
اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : "اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو ہم تم پر زمین و آسمان کیr نعمتوں کے دروازے کھول دیں گے "
اس آیت کریمہ میں غور کیا جائے تو نظام کائنات اور نظام زندگی آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔جس کا لب لباب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالی کے احکامات اورسید عالم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو اپنایا جائے تو اس سے آخرت توبن جائے گی اور دنیا کی زندگی بھی آسان ہو جائے گی ، مگر آج ہمارا معاشرہ اس طرح غفلت کی نیند سو رہا ہے کہ احکامات باری تعالیٰ سے کوسوں دور ہے  ،طریقہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے راستہ بدل کر فحاشی ، عریانی ،سود خوری ،رشوت ،قتل و غارت ، غیبت، چغل خوری، ذات پات ،  گندی سیاست ،حقوق العباد کی پامالی ،مگر اس کے باوجود خدا کتنا مہربان ہے کہ اس نے اپنے پیغمبر کے رونے پروعدہ  فرما لیا کہ اگرآپ کی امت کے لوگ گناہ کرنے کے بعد حقیقی توبہ کرتے ہیں تو وہ اپنے رب کی رحمت کو پا جائیں گے ۔۔۔۔۔
اے ابن آدم لوٹ جا اپنے رب کی طرف ۔۔۔
اب بھی وقت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں تو موجودہ حالات کسی سے مخفی نہیں ہیں!!!
بقول اقبال:
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانوں
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

سنبھل جااے بنی آدم!! آجا اپنے رب کے حضور سربسجود ہوجا کہ رب بڑاکریم ہے ۔۔۔

اللھم اھدنا الصراط المستقیم ۔۔۔۔

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں