موجودہ حالات اور اسلام کی تاریخی روایات: مبارک حسین مصباحی

موجودہ حالات اور اسلام کی تاریخی روایات

از: مبارک حسین مصباحی

استاذ جامعہ اشرفیہ مبارکپور


عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔۱۹) سے دنیا بھر میں اب تک ۹۶ ء ۶۵، لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور  ۸۸ء ۳؍ لاکھ افراد سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک ۶۵؍ لاکھ،  ۹۶؍ ہزار، ۷۴۳؍ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ۳؍ لاکھ ۸۸؍ ہزا ۹۷۴؍ افراد کی اموات ہو چکی ہیں۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے معاملہ میں امریکہ دنیا بھر میں پہلے، برازیل دوسرے اور روس تیسرے نمبر پر ہے۔ دوسری طرف اس وبا سے ہونے والی موت کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ پہلے برطانیہ دوسرے اور اٹلی تیسرے نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے نئے کیسز میں پہلے کے مقابلے تھوڑی کمی آئی ہے۔ اس دوران ملک میں کووڈ-۱۹ کے ۱۱۴۱؍ نئے کیسز درج کئے گئے ہیں اور اب کورونا وائرس متاثرین کی مجموعی تعداد  ۲

 لاکھ ۱۷؍ ہزار ۷۰۶؍ ہو گئی ہے۔ وہیں اس دوران ۳؍ افراد ہلاک ہونے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر ۶۰۹۱؍ ہو گئی ہے۔ ملک میں اس وقت کورونا وائرس کے ۹۷؍ ہزار ۵۸۱؍  عالمی سپر پاور مانے جانے والے امریکہ میں کورونا وائرس سے اب تک؍۱۹ لاکھ ۲؍ ہزار  ۷۶۸؍ لوگ متاثر ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ ۹ ہزار ۱۵۹؍ اموات ہو چکی ہیں۔ برازیل میں اب تک ۵؍ لاکھ ۸۴؍ ہزار ۵۶۲؍ افراد اس کی زد میں آ چکے ہیں اور۳۲؍ ہزار ۵۶۸؍ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ روس میں بھی کووڈ۔۱۹؍ کے کیسز بڑھتے ہی جا رہے ہیں اور یہاں اس کے انفیکشن سے اب تک ۴؍ لاکھ ۱۴؍ ہزار  ۱۰۸، لوگ متاثر ہوئے ہیں اور ۵۳۸۴؍ افراد نے جان گنوائی ہے۔

امریکہ میں ایک سیاہ فام   جارج فلایڈ کی موت کے بعد احتجاج اور تشدد کی ءءے اب وہائٹ ہاؤس تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے کنبہ کے اراکین کو وائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہروں کے درمیان ایک گھنٹے کے لیے زیر زمین بنکر میں لے جایا گیا تھا۔ یہ اطلاع وائٹ ہاؤس کے افسران نے میڈیا کو دی ہے۔ مظاہرے کے دوران بھیڑکے تشدد میں خفیہ سروس کے ۶۰؍ سے زائد افسران اور ایجنٹ زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وہائٹ ہاؤس کے ملازمین کو سیکورٹی وجوبات کے بناء پر اتوار سے کام پر آنے سے باز رہنے کو کہا گیا تھا۔ سیکرٹ سروس ایجنٹس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مظاہرین کو روکنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ان کے نعرے گذشتہ کئی دنوں سے وائٹ ہاؤس میں سنے جا رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ تڑمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں بائیں بازو کی سخت گیر تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ مظاہرین دوسری ریاستوں سے آکر فسادات میں ملوث ہو رہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ ۶؍ روز سے احتجاج کرنے والے شہریوں کو مقامی دہشت گرد سے تعبیر کرتے ہوئے ان پر لوٹ مار کرنے کا الزام عائد کیا۔ وائٹ ہاؤس کے قریب ایک چھوٹے پارک میں پر تشدد جھڑپیں ہوئیں جس کو روکنے کے لیے حکام نے آنسو گیس، اسپرے اور دیگر اقدامات کیے جس کے نتیجے میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ امریکہ کے مقامی رہنماؤں نے .... پولیس کے ہاتھوں شہری کی ہلاکت کے احتجاج کے مظاہرین کو پر تشدد کاروائی سے اجتناب کرتے ہوئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ انتظامیہ نے واشنگٹن، لاس اینجلس اور بوسٹن سمیت دیگر شہروں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

 *نو ماہ کا شدید قحط اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کردار:* 

بلا شبہہ خلفاے راشدین کے ادوار بڑے زریں تھے، ان بزرگوں نے مشکل احوال میں بھی مثالی زندگیاں گزاریں۔ آقا ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: تم سب نگراں ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت کے بارے میں پوچھا جائے گا، بادشاہ نگراں ہے، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا، آدمی اپنے اہل و عیال کا نگراں ہے، اس سے اس کے اہل و عیال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولاد کی نگراں ہے اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

 (بخاری، کتاب الجمعہ، باب الجمعہ فی القری والمدن، ج:۱، ص:۳۰۹، حدیث: ۸۹۳ ملتقطاً)

یہ ایک سچائی ہے کہ ہمارے اسلاف نے جو اسلامی سلطنت قائم فرمائی اس میں حق و انصاف کے ناقابلِ شکست قلعے تعمیر فرمائے، امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دورِ خلافت بھی تاریخ اسلام کا  زریں دور گزرا ہے۔

امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد سن ۱۸؍ ہجری میں مدینہ منورہ اور اس کے اطراف میں تقریباً ۹؍ ماہ تک شید قحط پڑا، یہاں تک کہ لوگ کھانے پینے کی اشیا کے محتاج ہو گئے، بھوک کی شدت اور خوراک نہ ہونے کا یہ عالم تھا کہ جنگلوں کے درندے بھی انسانی آبادی میں آکر پناہ لینے لگے، خوراک نہ ملنے کی وجہ سے جانور بھی بیکار ہو گئے، یہاں تک کہ اگر کوئی بکری ذبح کرتا تو اس کا گوشت کھانے کو دل نہ کرتا۔ بھوک کی وجہ سے ہزاروں مویشی ہلاک ہو گئے، لوگوں نے دیگر مختلف شہروں کا رخ کرنا شروع کر دیا، مسلسل بارش کم ہونے کی وجہ سے زمین کا رنگ راکھ کی طرح کالا ہو گیا تھا، اس لیے جس سال یہ قحط پڑا اسے ”عام الرمادۃ“ یعنی راکھ والاسال کہتے ہیں۔(البدایہ والنہایہ، ج:۵۔ ص:۱۶۵، طبقات کبریٰ، ذکر استخلاف عمر، ج:۳، ص:۲۳۵/ مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب، الباب الثالث والثلاثون، ص:۷۱)

عرب قحط سالی کی وجہ سے مدینہ منورہ کے اطراف میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ آپ نے ذاتی دل چسپی سے ان کے کھانے کا اہتمام فرمایا، ہر روز سیکڑوں دیگیں بنوا کر کھانا مستحقین میں تقسیم کیا جاتا، روایت میں ہے کہ دس ہزار لوگ ہر دن کھانا تناول کرتے، ان تمام امور کی خود امیر المومنین نگرانی فرماتے یہاں تک کہ بارش ہو گئی، تو آپ نے پناہ گزینوں کو سواریاں اور اناج دے کر اپنے علاقوں کی جانب روانہ فرمایا۔ 

(طبقات ابن سعد)

عام الرمادہ میں حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سخت الجھن میں تھے، آپ کا مزاجِ اقدس تھا کہ مشکل حالات میں دوسروں سے زیادہ خود پریشان ہو جاتے تھے۔ تقریباً ۹؍ ماہ کی قحط سالی کے دور میں آپ نے گھی، دودھ اور گوشت کو اپنے لیے حرام فرما لیا تھا۔ حضرت سیدنا عیاض بن خلیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المومنین ابو حفص عمر بن خطاب کو عام الرمادہ میں دیکھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک صاع کھجوریں رکھی جاتیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں چھلکے اور دیگر چیزوں سمیت ہی کھاتے، یہاں تک کہ وہ کھجوریں بھی کھاتے جو پکنے سے پہلے ہی درخت پر سوکھ جاتیں جن میں نہ تو گٹھلی ہوتی اور نہ ہی گودا اور مٹھاس۔ 

(طبقات کبریٰ، ذکر استخلافِ عمر، ج:۳، ص:۲۴۲)

ان ایام میں آپ نے اپنی ازواج کے پاس جانا بند کر دیا تھا، حضرت سیدنا امام جلال الدین سیوطی شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک بار عام الرمادہ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے کو تربوز کھاتے دیکھا تو افسوس کرتے ہوئے فرمایا:

بخ بخ با ابن امیر المومنین تاکل الفاکھۃ وامۃ محمدھزلیٰ۔

یعنی صد کروڑ افسوس اے امیر المومنین کے بیٹے تو پھل کھا رہا ہے جب کہ امت محمدیہ بھوک سے نڈھال ہے۔ 

(طبقات کبریٰ، ذکر استخلاف عمر، ج:۲، ص:۲۴۰)

حضرت سیدنا لیث بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہدِ خلافت میں عام الرمادہ میں قحط سالی ہوئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مصر کے گورنر حضرت سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ کو ایک مکتوب روانہ فرمایا جس کا مضمون کچھ یوں تھا:

یہ مکتوب اللہ عزوجل کے بندے امیر المومنین عمر کی طرف سے عمرو بن عاص کی طرف ہے! تم پر سلامتی ہو، حمد و صلاۃ کے بعد میں یہ کہتا ہوں کہ اے عمرو! میری جان کی قسم! جب تم اور تمہارے ملک والے سیر ہوں تو تمہیں کچھ پرواہ نہیں کہ میں اور میرے ملک والے ہلاک ہو جائیں، ارے فریاد کو پہنچ! ارے فریاد کو پہنچ! اس کلمے کو بار بار تحریر فرمایا۔

حضرت سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جوابی مکتوب روانہ فرمایا جس کا مضمون کچھ یوں تھا:

یہ جوابی مکتوب عمرو بن عاص کی طرف سے اللہ عزوجل کے بندے امیر المومنین حضرت سیدنا فارق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے ہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد میں یہ کہتا ہوں کہ حضور! میں بار بار خدمت کے لیے حاضر ہوں، پھر بار بار خدمت کے لیے حاضر ہوں، اس طرح کہ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں سامان سے لدے اونٹ اتنی تعداد میں بھیج رہا ہوں کہ ان اونٹوں میں سب سے پہلا اونٹ آپ کے پاس ہوگا اور اس کا آخری میرے پاس۔ اللہ عزوجل کی آپ پر سلامتی، اس کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔

پھر جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے مال آیا تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سامان کے ذریعہ مسلمانوں پر خوب وسعت فرمائی، مدینہ منورہ اور اطراف کے لوگوں کو ایک گھر کے لیے ایک اونٹ مع سامان عطا فرمایا، حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سیدنا زبیر بن عوّام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ کو بھیجا کہ وہ یہ مال لوگوں میں تقسیم کریں۔ انہوں نے ہر گھر میں ایک ایک اونٹ اور کھانے وغیرہ کا سامان دیا تاکہ لوگ کھانا کھائیں، اونٹ ذبح کریں، اس کا گوشت کھائیں، چربی پگھلا کر سالن بنائیں، اس کی کھال کو کام میں لائیں جوتیاں وغیرہ بنائیں، جس تھیلی کے اندر کھانا تھا اس کا لحاف بنا لیں۔ اس سامان کے ذریعہ اللہ عزوجل نے لوگوں پر وسعت فرما دی۔ 

(صحیح ابن خزیمہ، باب ذکر الیل الخ، ج:۴، ص:۶۸، حدیث: ۲۳۶۷)

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل ابن حنتمہ (امیر المومنین حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) پر رحم فرمائے، میں نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عام الرمادہ میں اپنی پیٹھ پر دو بوریاں لادے اور ہاتھ میں تیل سے بھرا ہوا ایک ڈبہ اٹھائے جا رہے ہیں، آپ کے ساتھ آپ کے غلام حضرت سیدنا اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں، دونوں باری باری سامان اٹھاتے ہیں۔ اتنے میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نظر مجھ پر پڑ گئی تو فرمایا: ”من اینَ یا ابا ھریرہ؟“ یعنی اے ابو ہریرہ! کہا جا رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: حضرت میں قریب ہی جا رہا ہوں، پھر میں نے بھی ان کا ہاتھ بٹایا۔

اس سامان کو لے کر ہم مقامِ ”صرار“ تک پہنچے جہاں قریب بیس گھروں کے لوگ مقیم تھے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا: تم لوگ یہاں پر کیوں آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: حضور! کھانے وغیرہ کی تلاش میں آئے ہیں۔ پھر انہوں نے دو چمڑے جنھیں بطور کھانا کھاتے تھے اور بوسید ہ ہڈیوں کا وہ سفوف بھی دکھایا جسے وہ پھانکتے تھے۔

یہ دیکھتے ہی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی چادر اتاری اور خود ہی اپنے ہاتھوں سے کھانا پکانے لگے، کھانا پکا پکا کر سب کو کھلانا شروع کیا، یہاں تک کہ سب سیر ہو گئے۔ پھر آپ نے اپنے غلام حضرت سیدنا اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ ”ان لوگوں کے لیے اونٹ لے کر آؤ“ وہ اونٹ لائے تو آپ نے ان کو سوار کرایا اور جبانہ کے مقام پر ٹھہرایا پھر انہیں پہننے کے لیے کپڑے وغیرہ دیے جو انہوں نے زیب تن کیے۔

یہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول رہا کہ مختلف لوگوں کے پاس جا کر ان کی مدد فرماتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے اس قحط سالی جیسی مصیبت کو دور فرما دیا۔ (طبقات کبریٰ، ذکر استخلاف عمر، ج:۳، ص:۲۳۸)

امیر المومنین حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بار اپنی اسی مجلس کو کھانا کھانے والے لوگوں کو شمار کرنے کا حکم دیا تو ان کی تعداد سات ہزار سامنے آئی، پھر عورتوں، بچوں اور مریضوں کے ساتھ شمار کیا تو کل تعداد چالیس ہزار ہو گئی۔ چند دن بعد دوبارہ شمار کیا تو فقط کھانا کھانے والوں کی تعداد دس ہزار ہو گئی اور دیگر لوگوں کو بھی شمار کیا تو ان کی تعداد پچاس ہزار ہو گئی، پھر ان میں بھی اضافہ ہوتا رہا اور یہ تمام لوگ اس وقت تک مدینہ منورہ میں ہی رہے جب تک کہ اللہ عزوجل نے قحط سالی کو دور نہ فرما دیا۔ قحط سالی دور ہونے کے بعد سب لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپسی شروع کر دی، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب کو غلہ راشن وغیرہ دے کر خود روانہ کرتے، لوگوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کے وقت مجموعی تعداد ایک تہائی رہ گئی تھی جب کہ بقیہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ 

(طبقات کبریٰ، ذکر استخلافِ عمر، ج:۳، ص:۲۴۱)

 *اب چند باتیں موجودہ موجودہ حالات پر* 

قابل صد مبارک باد ہیں وہ حکومتی اور فلاحی تنظیمیں اور اہلِ خیر حضرات  جومسلسل غریب مزدوروں اور پریشاں حال افراد کی مدد کر رہے ہیں۔ سرِ دست ہم بات کریں گے ہندوستان کی یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ ذمہ داران متحد ہو کر مہاجر مزدوروں کی مدد کریں، ایسےمواقع پر محض دکھاوے کی سیاست سے پرہیز کرنا چاہئے زندگی اور موت میں مذہب، قوم اور رنگ و نسل کو نہیں دیکھا جاتا، اگر زندگی ہے تو دولت و اقتدار حاصل ہو جائے گا، کون نہیں جانتا کہ اس وقت  جو ممالک دنیا میں سب سے بڑی طاقت ہیں وہی اس وائرس کے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ میڈیکل سائنس کی ہزار صلاحیت کے باوجود وہ اس مہلک  وائرس پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ ہم کہنا چاہتے ہیں جو ممالک کل اسلام، قرآن، اذان اور نمازوں کے شدید مخالف تھے اب خود مساجد کے کھلوانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ ہم نے خود مساجد میں ان دشمنوں کو نمازیں پڑھتے دیکھا ،وہ باضابطہ اعلان کر رہے ہیں کہ اے مسلمانو! اذانیں دو، قرآن عظیم کی تلاوت کرو اور اس وبا سے محفوظ رہنے کے لیے خوب دعائیں کرو۔

 ہماری اس پوری تحریر کا حاصل یہ ہے کہ اسلام اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دین برحق ہے۔ نبی آخر الزماں ﷺ تمام جہانوں کی رحمت بنا کر مبعوث فرمائے گئے ہیں۔  خلیفہ راشد دوم امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں نو ماہ کی قحط سالی کا ایک حیرت انگیز واقعہ نقل کیا ہے۔ یہی احوال تمام خلفائے راشدین کے ادوار میں تھے۔ حاکم کا حقیقی مفہوم عدل و انصاف ہے، غریبوں  کی غم خواری اور پریشاں حال افراد کی مدد کرنا ہے، نہ کہ ظلم و ستم کرنا اور رنگ و نسل کی بنیاد پر انہیں جانی اور مالی نقصان پہنچا نا جیسا کہ آج ایک کالے فرد کو جان سے مارنے کے نتیجے میں امریکہ  کی سر زمین پر احتجاجات ہو رہے ہیں اور ٹرمپ کی لاکھ کوشش کے باوجود وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ اب تحقیقی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان کی اہلیہ محترمہ اور دیگر افراد کی قبروں کی بھی بعض درندوں نے بے حرمتی کی ہے، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ عدل و انصاف کے پیکر تھے ان پر زیادتی بھی رنگ  لائے گی اور اللہ تعالیٰ الموں کو کیفر کردار تک پہنچائےI گا۔

ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے حبیب مصطفےٰ جان رحمت ﷺ کے طفیل کورونا وائرس کی وبا سے دنیا کو محفوظ فرمائے آمین۔

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں