مثالی استاد اور رہبر : محمد نور الہدی نور ۔۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

مثالی استاد اور رہبر



نور الہدی نور۔۔
محسن کالج ہگلی
مولانا آزاد کالج میں میرا پہلا دن تھا۔پہلا کلاس صبح سوادس بجے تھا۔میں ١٠ بج کر ٢٥ منٹ پر کالج پہنچا تو دیکھا کہ کلاس روم دوستوں سے بھرا پڑا ہے اور استاذی محترم ڈاکٹر ایس۔ایم۔ہاشمی کلاس لے رہے ہیں۔میں نے کہا ! سر اندر آسکتا ہوں؟سرنےبڑی محبت وشفقت اور شایستگی سے مسکراتے ہوئے داخلے کی اجازت دےدی۔میں بنچ پر بیٹھ گیا۔سر نے نام اور پتہ دریافت کیا۔میں نے تفصیل بتائی اور پڑھائی میں منہمک ہوگیا۔آپ زیادہ تر شاعری کا حصہ پڑھاتے تھے۔نظم میں قصیدہ اور بالخصوص غزل آپ کے حصے میں شامل تھی۔ دوران کلاس میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ سر جب بولتے ہیں تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں۔باتیں اچھی ہوں؛ دلچسپ ہوں اور موذوں ہوں تو دل بھی بہلتا ہے اور خوشی بھی ہوتی ہے۔ایک اک لفظ کی ادائیگی کے ساتھ علم و ادب کے ایوان میں نور کی بارش ہورہی تھی۔ جی چاہتا تھا سر بولتے رہیں اور ہم لوگ فیضیاب ہوتے رہیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں خواب دیکھ رہا ہوں۔اک پل کیلیۓ بھی کوئی کلاس میں ادھر ادھر نہیں دیکھتا۔سر کے قیمتی اقوال، الفاظ کی صاف وشفاف اداءیگی اور طلبہ کو کلاس کے دوران سمجھانے کا انداز دیکھ کر سب کے سب سر کے ایسے گرویدہ ہو گۓ جیسے کوئی مقناطیسی قوت ہمیں اپنی گرفت میں لے لے۔ شاہین کی طرح بلندآہنگ انداز سے سب کے سب مدہوش ہوجاتے۔ زندگی میں پہلی بار کلاس کے دوران میں نے اتنے بہتر ڈھنگ سے شعر کی تشریح سنی تھی اور ایک ایک شعر کو سمجھانے کےلئے مختلف شعراء کے الگ الگ شعر پیش کرتے۔ مجھ سے رہا نہ گیا میں نے کلاس کے بعد ہی کہہ دیا کہ سر آج تک ایسا بہترین کلاس میں نے کھبی نہیں کیا۔سر میرے شانے کو تھپتھپاتے ہوئے مسکرا کر دوسرے کلاس میں چلے گئے۔سر کے جانے کے بعد ہملوگ آپس میں محو گفتگو ہوۓ۔ کوئی کہتا اللہ سر کے پاس خداداد صلاحیت ہےتو کوئی کہتا کہ نہیں یار میری ایک پل کیلیۓ آنکھ سر کی طرف سے نہیں ہٹی۔میرے دوستوں میں تبسم، شمیمہ، شاہینہ، نسرین، ناہید، شاہین، وغیرہ سب کے سب سر کے قصیدہ خواں تھے۔آخر کیوں نہ پڑھتے؟ سر اسی قابل تھے۔ تین سال کے دوران میری آنکھوں نے کھبی یہ نہ دیکھا کہ سر کلاس میں نہیں آۓ۔ ہر روز وقت سے پہلے ہی سر کلاس روم میں موجود ہوتے۔ کوئی آۓ یا نہ آئے اس سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔نہ میں نے آج تک انکی زبان سے کسی کے بارے میں کوئی غلط بات سنی۔ ہمیشہ کالج اور طلبہ پر جان چھڑکتے۔ایک دن تیز موسلادھار بارش ہورہی تھی۔ہم تبسم، شمیمہ اور شاہینہ کلاس میں موجود تھے۔میں نے کہا آج سر کا کلاس شاید نہیں ہوگا۔ویسےہی سر آپہنچے۔سر آج آپ کے آنے کی امید نہیں تھی۔سرنے کہا دیکھو جب تک میں ہوں انشاء اللہ آؤں گا آگے اللہ کی مرضی اور ہمیشہ ویسا ہی پایا۔سر کو معلوم ہے کہ ایک معلم کو وقت اور اصول کا پابند ہونا چاہئے۔اور انصاف کا دامن تھامے رہنا چاہئے۔ایک بار سر کو بتایے بیغر گھر آگیا تھا، دوستوں نے بتایا سر تمہارے بارے میں دریافت کررہے تھے۔سر اپنے طلبہ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔جب میں لوٹا تو بتایا سر گھر گیا تھا۔سر نے ایک بار پھر مسکراتے ہوئے میرا استقبال کیا اور داخلے کی اجازت دی۔

سر کے پاس الگ طلسماتی قوت ہے۔آپ کے کلاس کے دوران پورا کلاس بھرا رہتا۔پتہ نہیں ان کے پاس کون سی جادوئی چھڑی تھی۔سر ہمیشہ کہتے کوئی بات نہ  سمجھ سکو تو ایک بار نہیں بار بار پوچھو میں بتانے کے لئے تیار ہوں۔اسی طرح ہمیشہ ہمارے جزبوں اور حوصلوں کو مہمیز کرتے رہتے۔میں سر سے سوال پوچھتا رہتا۔سر نے غالب کے دیوان کا پہلا شعر پڑھا نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا۔ کاغزی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا،اور میں سمجھ نہ سکا۔میں نے کہا کہ سر اس شعر کا مفہوم بتا دیجۓ۔سر نے اس شعر کو اتنے بہترین انداز میں مختلف مثالوں کے ساتھ سمجھایا کہ آج بھی میرے ذہن میں نقش بن کر تازہ ہے۔ درحقیقت ایک اچھے استاد کی یہی خاصیت ہوتی ہے کہ جو پڑھا دے زندگی بھر کیلئے دل پر نقش ہوجائے۔یہ خوبی اللہ تعالیٰ نے آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔اگر کوئی طالب علم کلاس میں کسی وجہ سے حاضر نہ ہوسکا تو سر اس کو الگ سے وقت نکال کر پڑھاتے تب گھر جاتے۔سر میرے کئی دوستوں کے بھی استاد ہیں۔ایسے ہی ایک دوست نے مجھے فون کیا کہ بھائی میرا نیٹ کا امتحان ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے کیا کروں۔ کوئی استاد رہنمائی کر دیتے تو میں بھی نیٹ کوالیفائی کرلیتا۔میں نے کہا کہ ٹھیک ہے سر سے بات کر کے آپ کو بتاتا ہوں۔سر نے مصروفیت کے باوجود اسے وقت دیا۔آج وہ نیٹ پاس کرچکا ہے۔ایک اور دوست نے فون کیا کہ میرا عالیہ میں پی۔ ایچ۔ ڈی کا Viva ہے کیا کروں۔میں نے کہا سر کا نمبر دے رہا ہوں بات کر لو۔سر نے اسکی بھی مدد کی۔ایک دوست کو اردو اکیڈمی میں مقالہ جمع دینا تھا۔سر نے وقت دے کر کالج library میں اسکا مقالہ بھی دیکھ لیا۔میں بھی گاہے گاہے اپنے مضامین سر سے چک کروالیتا ہوں۔سر میرے اور ہوسٹل کے تمام طلبہ کے فارم پر بلا جھجھک دستخط کر دیتے۔ سبھوں کی یہی رائے ہے کہ ایسا بااخلاق، شفیق و ہمدرد اور بے پناہ محبت سے پیش آنے والا استاد زندگی میں نہیں ملا۔ طلبہ وطالبات کی پر خلوص رہنمائی کی داستان طویل ہے۔اسکا سلسلہ ہگلی محسن کالج سے لے کر مولانا آزاد کالج تک پھیلا ہوا ہے۔ نجانے اب تک کتنے طلبہ وطالبات کی علمی و ادبی رہبری کی ہے۔میرے علاقے اتردیناج پور میں سوسائٹی کے زیراہتمام NCPUL کے اشتراک وتعاون سے ہر سال دوتین نیشنل سیمنار منعقد ہوتے ہیں۔میں نے استاد محترم سے رابطہ کیا کہ سر میں آپ کو ایک سال سے بول رہا ہوں آپ اتنے مصروف ہیں کہ ہملوگوں کے سیمینار میں نہیں آپاتے۔اس بار آپ کو آنا ہی ہوگا۔سر نے کہا میں سوچ کر بتاتا ہوں۔میں نے تین دن بعد فون کیا تو انھوں نے بتایا کہ تمہارے استاد محترم ڈاکٹر ہمایوں جمیل سر کی طبیعت ناساز ہے،وہ نہیں آپائگے۔ میں صدر شعبہ فارسی ڈاکٹر افتخار احمد صاحب سے بات کر کے بتاتا ہوں۔ پیکر اخلاص ڈاکٹر افتخار احمد صاحب میرے استاد بھی ہیں۔ انھوں نے مجھے بہت ہی محبت و شفقت کے ساتھ کالج میں فارسی پڑھائی ہے۔جب انھوں نے اپنی رضا مندی دےدی تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی اور پورے جوش و خروش کے ساتھ سیمینار کی تیاری میں لگ گیا۔میرے علاقے کے وزیر غلام ربانی صاحب اور سابق پردھان شفیع الرحمن صاحب جیسے علم دوست، ادب نواز صاحبان یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور پورے پروگرام میں بہ نفس نفیس موجود رہے۔پورے علاقے سے اردو دوستوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔اس مبارک موقع پر میں نے بھی اپنا مقالہ پیش کیا۔ دونوں اساتذہ کرام کا مقالہ اور اعلیٰ علمی وادبی گفتگو سن کر لوگ اتنے خوش ہوئے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں صاحبان نے گویا فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیئے۔

محفل میں موجود سارے لوگوں نے اپنی پسندیدگی کا والہانہ اظہار کیا اور دربارہ آنے کی دعوت دی۔میری خوشی اور حیرت کا وہ عالم تھا جو کالج میں پہلے کلاس میں ہوا تھا۔ پروگرام کے بعد سب لوگ فوٹو سیشن میں مشغول ہو گئےاور مجھے مزید گفتگو کا موقع نہ مل سکا۔میرے اصرار پر دونوں صاحبان مقام پروگرام سے ١٥ کیلو میٹر دور ہندوستان بنگلہ دیش سرحد کے قریب میرے گھر تشریف لے گئے۔ گھروالوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔رات میزبان کئے یہاں گزری صبح نیوجلپائ گوڑی روانہ ہوئے۔دن بھر سیر و تفریح کی اور وہیں سے کلکتہ واپسی ہوئی۔

اس lockdown سے قبل SSC کا نوٹیفکیشن آنے والا تھا۔میں نے سر سے رابطہ کیا کہ سر کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے کیسے تیاری کروں۔سر نے مجھے گھر پر بلایا۔ ایسی کھجور کھلای کہ میرے چودہ طبق روشن ہوگئے۔پھر سموسے اور وقفہ وقفہ چاۓ پلاتے رہے۔چاردنوں کے بعد lockdown شروع ہو گیا۔سر کے کمرے میں مجھے محسوس ہوا جیسے منتخب ادبی کتابوں کی ایک چھوٹی library موجود ہے۔ کتابیں اتنے قرینہ سے سجا کر رکھی گئی ہیں کہ مجھے ان میں علی پور سنٹرل لائبریری کا عکس نظر آنے لگا۔ایسے ہی ایک طرف کمپوٹر رکھا ہوا ہے۔میں نے سر سے کہا اس کا کیا مصرف ہے؟ انھوں نے بتایا میں اپنے تمام کام خط وکتابت مضامین اور طالبہ کے مواد اسی کی مدد سے تیار کرتا ہوں۔ یہاں تک کہ فوٹو کاپی بھی اسی سے کرتا ہوں۔سر کے ایک صندوق میں کچھ نادر و نایاب کتابیں محفوظ تھیں۔ جسمیں انکی لکھی ہوئی تینوں کتابیں ١ ۔ "جدید اردو شاعری پر فیض کے اثرات" ، ٢ ۔ "اظہار ثمر" اور ٣ ۔" پرویز شاہدی حیات اور ادبی جہات" بھی شامل تھیں۔سر نے اپنی کتابیں مجھے بڑی محبت سے نزر کیں۔میں بہت خوش ہوا۔ بیان نہیں کر سکتا کہ ان کتابوں کے مطالعہ سے میرے اندر کیسی انقلابی تبدیلی آئی۔ان کتابوں پر میں انشاءاللہ آگے لکھوں گا تو یقیناً اہل ادب کو مسرت اور بصیرت دونوں حاصل ہو گی۔ علم و ادب کے خاموش خادم بن کر نئی نسل کی ذہن سازی کا ادبی فریضہ بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔ان کی تدریسی خدمات کو جس قدر تحسین سے نوازا جائے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ علم و ادب کا یہ چمن شاداب رہے اور استاد محترم کا سایہ ہمیشہ میرے سر پر قائم رہے۔آمین ! یارب العالمین

محمد نور الہدی نور
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں