مرزا غالب کی مکتوب نگاری کا تنقیدی جائزہ۔۔۔ محمد فیروز عالم علاںٔی۔۔Critical review of Mirza Ghalib's correspondence by Md Firoz Alam

**مرزا غالب کی مکتوب نگاری کا تنقیدی جائزہ**

 تحریر 🖊: محمد فیروز عالم علاںٔی۔۔۔

(کلکتہ یونیورسٹی)
mdfirozalam7869278692@gmail.com


مرزا اسد اﷲ خاں غالبؔ نا بغہ روز گار تھے۔  زبردست تخلیقی صلا حیت انہیں قدرت نے ودیعت کی تھی جس کا انہوں نے نظم ہو یا نثر ہر جگہ یکساں مظاہرہ کیا تھا۔  انکی طبیعت کی شگفتگی و شوخی، انکا جمالیاتی احساس، فکر و فن کی باریکیوں سے انکی آگہی اور سب سے بڑھ کر منفرد انداز بیاں ایسی خصوصیتیں ہیں جنکی وجہ سے جہاں انکی شاعری بام رفعت پر مستحکن نظر آتی ہے وہیں انکی نثر بالخصوص اردو مکتوب نگاری ادب کی تاریخ میں سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے۔  ان کے خطوط میں ان کی شخصیت اور روحِ عصر پورے طور پر جھلکتی ہے اور زندگی کا سونا پگھلتا نظر آتا ہے۔ 

لافانی اور لاثانی انگریزی نظم  ’’فردوس گمشدہ‘‘  کے خالق ’’جان ملٹن‘‘ کے بارے میں ایک نقاد نے کہا تھا کہ اس نے یہ شہر ہُ آفاق نظم نہ کہی ہوتی صرف اور صرف اپنا نثری شہ پارہ  ’’ائیریو پجی ئیکا‘‘  تصنیف کیا ہوتا تو بھی انگریزی ادب میں وہی رتبہ اور مقام ہوتا جو آج اُنکا رتبہ اور مقام ہے یہ قول نقل کرنے کے بعد پروفیسر خواجہ احمد فاروقی لکھتے ہیں کہ’’حاکم بدھن اگر دیوانِ غالب نہ ہوتا اور صرف خطوط غالب ہوتے تو بھی غالب غالب ہی رہتے‘‘۔

بغیر کسی شک و شبہ کے غالب جتنے بڑے اور عظیم شاعر ہیں اس سے کہیں زیادہ وہ بڑے اور عظیم نثر نگار بھی ہیں۔  اردو زبان و ادب جس روپ ورنگ کے ساتھ ہم تک پہنچی ہے اس میں تین بزرگوں کا خونِ جگر شامل ہے۔  (۱)  میر امن دہلوی  (۲)  مرزا اسد اﷲ خان غالبؔ  (۳)  سر سید احمد خان ۔   میر امن دہلوی نے عام بول چال کو پہلی مرتبہ ادبی زبان کا مرتبہ عطا کیا۔  مرزا غالب نے اپنے خطوط سے یہ ثابت کردیا کہ سلیس و سادہ نگاری کا ایک انداز ایسا بھی ہوسکتا ہے جس پر ہزاروں بنائو سنگھار نثار کئے جاسکتے ہیں۔ آگے چل کر سر سید احمد خان نے اسے ایک عالمانہ فکر بخشا اور یہ بے اہم زبان جسے حقارت بھری انداز سے  ’’ریخۃ‘‘  یعنی گری پڑی زبان کہا جاتا تھا دیکھتے ہی دیکھتے علم و حکمت کے خزانوں سے مالا مال ہوگئی۔
غالب کو اپنی شاعری پر جتنا ناز تھا اتنا ہی اپنے خطوط پر بھی تھا۔  وہ خوب جانتے تھے کہ مکتوب نگاری کے اس نئے انداز کے موجد وہ خود ہی ہیں اور ان سے پہلے کوئی ایسے دلکش خط نہیں لکھ سکا۔  میر مہدی مجروح سے ایک خط میں سوال کرتے ہیں۔
’’کیوں،  سچ کہیو،  اگلوں کے خطوط کی تحریر کی یہی طرز تھی یا اور؟‘‘
کہنا چاہتے ہیں کہ ہم سے پہلے کوئی اس انداز کے خط نہیں لکھ سکا اور ایک خط میں ارشاد فرماتے ہیں۔
’’میں نے وہ انداز تحریر ایجاد کیا ہے کہ مراسلہ کو مکالمہ بنادیا ہے۔  ہزار کوس سے بہ زبان قلم باتیں کیا کروں،  ہجر میں وصال کے مزے  لیا کرو‘‘

غالب نے تقریباً  سوا سو افراد کو ایک انداز ے کے مطابق نوے کے آس پاس خطوط لکھے۔  یہ تمام خطوط دلی کی ٹکسالی زبان میں ہیں جن کے دو مجموع  ’’عود ہندی‘‘  (۱۸۶۸ء؁)  غالب کے آخری ایام میں اور دوسرا  ’’اردوئے معلی‘‘  (۱۸۶۹ء؁) میں ان کی موت کے چند روز بعد شائع ہوکر مقبول عام ہوچکے ۔  خط لکھنے کا جو طریقہ غالب کے زمانے میں رائج تھا،  غالب نے اس سے ہٹ کر الگ راہ نکالی۔  القاب و آداب کی فرسودہ رسم کو ترک کردیا۔  اپنے خطوط کے اسلوب کے بارے میں ان کے یہ بیانات کافی اہم ہیں:
’’پیر و مرشد یہ خط لکھنا نہیں ہے باتیں کرنی ہیں اور یہی سبب کہ میں القاب و آداب نہیں لکھتا‘‘  (بنام شفق)
غالب اپنے خطوط میں چاروں طرف پھیلے ہوئے انتشار چھوٹے غموں اور خوشیوں ،  عزیزوں اور شاگردوں سے تعلق کی داستان بیان کی ہے۔  ان خطوط سے ایک پورا عہد،  ایک پورا معاشرہ اور ایک پوری روایت کا نقشہ ابھر کر ہمارے سامنے آتا ہے  ان خطوط میں ہمیں وہ فضا ملتی ہے جس میں غالب کا عہد اور ان کا معاشرہ پوری طرح سانس لے رہا ہے۔  بقول شمیم حنفی:
’’یہ ایک زندہ اور رنگا رنگ الڑٹ گیلری ہے جس میں ہر طرف غالب کی زندگی اور زمانے کی تصویریں سجی ہوئی ہیں‘‘۔

غالب کی شخصیت میں ایک خلوص تھا،  صداقت تھی،  ایک بے باکی تھی،  ایک برجستگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔  چنانچہ یہ خصوصیات ان کے خطوط میں بھی پائی جاتی ہے۔  اس کے علاوہ انکے خطوط کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں۔

(۱)  القاب و آداب  : اس زمانے میں دستور تھا کہ مکتوب الیہ کی خوشنودی کے لئے لمبے لمبے القاب لکھے جاتے تھے۔  مگر اس کے بر خلاف غالب نے جو طریقہ ایجاد کیا اس کا ذکرایک عبارت میں یوں کرتے ہیں۔  فرماتے ہیں  ’’تیسرا طرزِ نگارش یہ ہے کہ جب کاغذ و قلم میں لیتا ہوں تو مکتوب الیہ کو اس کی حیثیت کے مطابق کسی لفظ سے پکارتا ہوں‘‘۔

(۲)  تاریخ تحریر  : غالب اپنے خطوط میں تاریخ تحریر کا بہت اہم اہتمام کرتے تھے۔  کچھ خط ایسے بھی ہیں جن پر تاریخ درج نہیں۔  لیکن عام طور پر وہ تاریخ لکھتے تھے بلکہ اکثر تو ہجری کے ساتھ عیسوی سنہ بھی لکھ دیتے ۔ جیسے  ’’۱۴؍ رجب المرجب  بمطابق  ۱۴؍ دسمبر ۱۸۶۴ء؁
میر مہدی مجروح کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’آج یک شنبہ کا دن ،  ساتویں فروری ۱۸۵۸ء؁ کی اور شاید بائیسویں جمادی الثانی  ۱۲۷۵ھ؁ کی ہے‘‘۔
اکثر دن کے ساتھ وقت بھی لکھتے ہیں:  ’’۶؍ دسمبر ۱۸۶۵ء؁ کہ بدھ کا دن ہے آٹھ بجا چاہتے ہیں‘‘

(۳)  بات چیت کا انداز  : خط کو نصف ملاقات کہا جاتا ہے۔  اس میں شک نہیں کہ مکتوب دو اشخاص کے درمیان بات چیت ہے۔  فرق صرف اتنا ہے کہ یہ ضبطِ تحریر میں آجاتی ہے مگر غالب نے ایسا انداز اختیار کیا جیسے دو لوگ آمنے سامنے بیٹھے باتیں کررہے ہوں۔  گو یا انہوں نے خط کو نصف ملاقات نہیں مکمل ملاقات بنادیا اور اس پر انہیں بجا طور پر فخر تھا منشی نبی بخش کو بڑے فخر کے ساتھ لکھتے ہیں:
’’بھائی مجھ کو اس مصیبت میں کہانی آتی ہے کہ ہم تم اور مرزا تفتہ میں مراسلت،  مکالمت ہوگئی۔  روز باتیں کرتے ہیں۔  اﷲ اﷲ یہ دن بھی یاد رہیں گے۔  غنیمت ہے کہ محصول آدھ آٹھ آنہ ہے ورنہ باتیں کرنے کا مزہ معلوم ہوتا‘‘۔

(۴)  شوخی و شگفتگی  : غالب میں بلا کی شوخی و شگفتگی تھی۔  بات میں بات پیدا کرنا وہ خوب جانتے تھے۔  بغیر شوخی و شگفتگی کے وہ بات کر ہی نہیں سکتے تھے۔  مولانا حالی نے لکھا ہے کہ
’’مرزا کی طبیعت میں شوخی ایسی بھری تھی،  جیسے ستار کے تار میں سر بھرے ہوتے ہیں اور متخیلہ جو شاعری اور ظرافت کی خلاق ہے۔  اس کو مرزا دماغ کے ساتھ دہی نہیں تھی،  جو قوت پرواز کو طائر کے ساتھ‘‘۔
یہ شوخی اور شگفتگی کی خصوصیات ان کے خطوط میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں،  اور اس طرح ان کی یہ شوخی اور شگفتگی، ان کے خطوط میں لطیفہ سنجی کی خصوصیت پیدا کرتی ہے ان کے خطوط میںلطیفہ سنجی سے جو مزاج پیدا ہوتا ہے،  اس میں بڑی لطافت ہوتی ہے ایک دوست کو خط لکھتے ہوئے ان کی لڑکی کو جو بچپن میں مرزا کے سامنے آتی تھی اور اب جوان ہوگئی ہے اس طرح مخاطب کرتے ہیں۔
’’کیوں بھئی!  اگر ہم کول آئے بھی تو تم کو کیوں کر دیکھیں گے؟  کیا تمہارے ملک میں بھتیجیاں چچا سے پردہ کرتی ہیں‘‘۔
ایک اور دوست کو رمضان کے بارے میں لکھا ہے۔
’’دھوپ بہت تیز ہے۔  دو روزہ رکھتا ہوں۔  مگر روزے کو بہلاتا رہتا ہوں۔  کبھی پانی پی لیا۔  کبھی حقہ پی لیا۔  کبھی کوئی ٹکڑا روٹی کھا لیا۔  یہاں کے لوگ عجیب قسم کا فہم رکھتے ہیں۔  میں تو روزہ بہلاتا رہتا ہوں اور یہ صاحب فرماتے ہیں کہ تو روزہ نہیں رکھتا۔  یہ نہیں سمجھتے کہ روزہ نہ رکھنا اور چیز اور روزہ بہلانا اور بات ہے‘‘۔
ان خطوط میں جو شوخی اور شگفتگی ہے وہ مزاج کو پیدا کرتی ہے،  اور لطافت اس مزاج کی سب سے اہم خصوصیت ہے۔

(۵)  دلّی کے حالات  : غالب کے خطوط ان کی شخصیت  اور ان کے عہد کا آئینہ ہیں۔  غالب کے خطوط سے اس زمانے کی سیاسی، معاشرتی اور سماجی ماحول کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ انیسوی صدی کے دلّی میں لوگ کس طرح سے رہتے تھے؟  ان کے آداب و طریقے کیا تھے؟  ان کی الجھنیں و پریشانیاں کس طرح کی تھی؟  پرانی روایات کے ساتھ ساتھ نئی روایات کا اثر معاشرت پر کس طرح چھانے لگا تھا؟  مختلف طبقوں اور فرقوں کے تعلقات آپس میں کیسے تھے؟
ان کا نظریہ حیات کیا تھا؟  معاشی بدحالی اخلاق کو کس طرح بگاڑ رہی تھی؟  بے عملی کس طرح معاشرت میں گھر کر رہا تھا؟  امراء اور شرفاء کی زندگی کس طرح وبال جان بن گئی تھی؟  لوگ کس طرح ایک دوسرے سے ملتے تھے؟  درباروں کی حالت کیا تھی؟  درباروں نے زندگی کو کس طرح بگاڑاؤتھا؟  مظلوموں کی کمزوری اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اقتدار نے کیا صورت پیدا کی تھی؟  سیاسی تبدیلیوں نے معاشی،  معاشرتی زندگی کو کن راہوں پر لا کر کھڑا کردیا تھا؟  کون سے حالات اور افکار و خیالات زندگی کو نئے سانچوں میں ڈھال رہے تھے؟ علمی،  ادبی اور سیاسی تحریکیں تھی جس کا اثر زندگی اور معاشرت پر ہورہا تھا۔  اس طرح کے سینکڑوں معاملات و مسائل ہیں جس کی صحیح تصویر غالب کے یہ خط پیش کرتے ہیں۔
۵؍ دسمبر ۱۸۵۷ء؁ کے ایک خط ہیں کہ ملازمانِ قلعہ پر شدت ہے۔  باز پرس اور دار و گیر میں مبتلا ہیں۔  امیر غریب سب  (دہلی سے)  نکل گئے۔  جو رہ گئے تھے نکالے گئے۔  گھر گھر بے چراغ پڑے ہیں اس کے علاوہ غالب نے ۱۸۵۷ء؁ کے بارے میں بھی لکھا ہے۔  اس زمانے میں غالب کو سب سے بڑا غم تنہائی کا تھا ۔  بہت سے دوست اور عزیز مر گئے۔  جو زندہ تھے وہ ان سے دور تھے۔  میر سرفراز حسین کو لکھتے ہیں:
’’وہی بالا خانہ ہے اور وہی میں ہوں،  سیڑھیوں پر نظر ہے کہ وہ میر مہدی آئے ،  وہ یوسف مرزا آئے وہ میرن آئے،  وہ یوسف علی خان آئے۔  مرے ہوئوں کا نام نہیں لیتا۔  اﷲ اﷲ اﷲ،  ہزاروں کا میں ماتم دار ہوں،  میں مروں گا تو مجھ کو کون روئے گا۔

(۶)  اپنا نام  : زمانہ قدیم سے دستور چلا آتا ہے کہ خط کے خاتمے پر مکتوب نگار اپنا نام لکھتا ہے مثلاً آپ کا نیاز مند،  آپ کا فرمانبردار وغیرہ۔  مگر غالب کو یہ گھسی پٹی باتیں نا پسند تھیں۔  یہاں انہوں نے جدت سے کام لیا ہے خط کے آخر میں کہیںغالب لکھتے ہیں کہیں صرف اسد تو کہیں اسد اﷲ۔
ایک خط میں لکھتے ہیں  :  راقم اسد  ۔  ایک جگہ صوفیوں کا انداز اختیار کرتے ہیں۔  غالب علی شاہ،  مولانا علائی کے نام خط میں لکھتے ہیں۔  ’’کاتب کا نام غالب ہے کہ دستخط سے پہچان جائو‘‘۔
(۷)  مرقع کشی  : غالب نے اپنے خطوط میں جہاں شعری تدبیروں سے کام لیا ہے وہیں تصویر کشی کا کمال بھی دکھایا ہے اس کی اچھی مثال میر مہدی کے نام وہ خط ہیں جس میں انہوں نے ان کے ایک دوست کی لفظوں میں ایسی تصویر کشی کی ہے کہ وہ جیتے جاگتے ہمارے سامنے کھڑے نظر آتے ہیں:

(۸)  سلام و دعا   : خط میں دوستوں اور عزیزوں کو دعا اور سلام لکھنے کی رسم بہت پرانی ہے اس کے لئے نہ جانے کیوں ایک جگہ مقرر ہے مگر غالب نے اس معاملے میں بھی روشِ عام پر جینا اپنی شان کے خلاف جانا۔  سلام دعا کہیں خط کے شروع میں لکھتے ہیں،  کہیں درمیان تو کہیں آخر میں۔  میر مہدی کے نام خط کے درمیان کئی دوستوں کو اس طرح سلام ودعا لکھتے ہیں۔
’’میر سرفراز حسین کو میری طرف سے گلے لگانا اور پیار کرنا۔  میر نصیر الدین کو دعا اور شفیع احمد کو سلام کہنا میرن کو نہ سلام نہ دعا خط پڑھا دو‘‘۔
غالب کے خطوط میں عنصر بھی موجود ہے۔  وہ اپنی ناکامیوں سے کام لینے کا ہنر اور اپنے آنسوئوں کو ہنسی میں چھپانا جانتے تھے۔  اپنی مصیبتوں اور پریشانیوں کا بیان بھی وہ مزے لے لے کر کرتے ہیں اور اپنا مذاق خود اڑاتے ہیں۔  سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں  : 
’’خطوط غالب میں جو اردو کے چند فقرے ہنستے،  بولتے ،  چہکتے، چہچہاتے غالب کے قلم سے نکل گئے ان کا ہر لفظ قدر دان ادب کے لئے موتیوں سے زیادہ قیمتی اور ہمارے ادبی خزانے کا پیش قیمتی ترین ‘‘۔

اردو نثر کی روایت میں خطوط غالب قیمتی سرمایہ ہیں اور سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔  غالب نے سلیس اور نثر لکھنے کی بنیاد ڈالی اور تحریر کو زندگی سے قریب تر کیا۔  یہی غالب کی عظمت کا رازہے۔


محمد فیروز عالم علائی
( کلکتہ یونیورسٹی)
ای میل  :  mdfirozalam7869278692@gmail.com
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں