شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ! فارغین مدارس کے لیے ایک لمحہ فکریہ ! محمد فیروز عالم علاںٔیMaybe what I am saying will touch your heart ! A moment of reflection for the graduates of madrasah;Md Firoz Alam

**شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات! ***

 فارغین مدارس کے لیے ایک لمحہ فکر !!!!


 تحریر 🖊:محمد فیروز عالم علاںٔی

(شعبہ اردو، کلکتہ یونیورسٹی)
mdfirozalam7869278692@gmail.com


(نوٹ: یہ تحریر میں نے ٢٠١٩/  ٢٠٢٠ کے حالات کے تناظر میں   مولانا آزادحسین  نقشبندی کے حسب فرمائش لکھی ، اس میں میرا مقصد فارغین مدارس کو اعلیٰ تعلیم کی طرف مائل کرنا ہے ۔)

      پوری دنیا ان دنوں اقتصادی بحران سے دوچار ہے ۔سوداور جعل سازی کی بنیاد ہوا میں تعمیر ہے۔ عالمی معاشی نظام کی اس عمارت کو ایک دن زمیں بوس ہونا ہی تھا اور یہ اس کا آغاز ہے۔ اور اس بحران کا شکار سب سے زیادہ فارغین مدارس ہو رہے ہیں ۔
جس کی واحد وجہ....! قوم مسلم کا جلسہ اور جلوس کی فضول خرچیوں میں حد درجہ منہمک ہونا ہے، اور مدارس اسلامیہ کے حکمراں "ناظمین " حضرات  کا نام و نمود کے لیے تعمیری کام  سے دلچسپی لینا ہے ۔ان معاملات کا  کچھ رفع دفع ہو تو بات بنے اور حالات حاضرہ میں ایسا ناممکن سالگتا ہے ۔چونکہ یہ آگ پوری دنیا میں لگی ہوئی ہے اور ہندوستان اس سے زیادہ ہی متاثر ہے ۔ایسے پر آشوب دور میں فارغین مدارس کے لئے معاشی زندگی پر قائم رہنا ایک مشکل گھڑی ہے ۔اور حصول ملازمت واقعی ایک پرخطر منزل ہے ۔ایسے نازک موڑ پر ہم اپنی زندگی کی رمق باقی کیسے رکھیں اور مستقبل کو روشن کیسے کریں ؟
حالات کے پیش نظر اقبال کا یہ شعر ہمارے روبروہوجاتا ہے:
 مٹا دیں اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہیں
کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے
یہاں اپنی ہستی مٹا دو سے مراد "حصول تعلیم" ہے  اور لفظ "تعلیم " عموم خصوص مطلق ہے۔ جس کا اطلاق دینی اور عصری دونوں تعلیم پر ہوتا ہے۔ڈاکٹر اقبال فرماتے ہیں کہ تعلیم کے لیے اپنی خواہشات کی قربانی دیئے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔  اقبال نے عصری تعلیم پر زور دیتے ہوئے معاشی نظام کا تذکرہ یوں کیا۔
 عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے 
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش!
معاش کے بہتر انتظام کے لیے مذہبی وصنعتی تعلیم کو بھی نظام تعلیم کا ضروری حصہ ہونا چاہیے ۔ساتھ ہی علامہ اقبال یہ بھی فرماتے ہیں کہ تعلیم بذات خود منزل مقصود نہیں  بلکہ منزل کے حصول کا ذریعہ ہے
 ہر کہ محسوسات را تسخیر کرد
عالمے را ذرۂ تعمیر کر د
جستجو را محکم ازتدبیر کرد
انفس و آفاق را تسخیر کرد
علامہ فرماتے ہیں کہ منزل مقصود سیرت کی تعمیر ،کردار کی تشکیل، نفس کی تہذیب،نظریۂ حیات، تہذیب و تمدن اور مذہب کی بقا ہے جس کو نکھارنے،محفوظ رکھنے  اور آئندہ نسل کو منتقل کرنے کا کام بھی تعلیم کے ذمہ ہے۔ تاکہ فرد اور سماج دونوں کا رشتہ ماضی سے باقی رہے۔ ان کا خیال ہے کہ تعلیم کا مقصد وہی ہونا چاہیے جو کہ زندگی کا مقصد ہے ۔اس لئے تعلیم کا مقصد طے کرنے سے  قبل زندگی کے مقاصد طے ہونے چاہیے ۔اور زندگی کا مقصد قرآن کے الفاظ میں " واذ قال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفہ " ہے۔
یہ ہمارا ایمان ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا دنیا کا کوئی بھی انسان مکمل نہیں  ہے۔ ہم بھی انسان ہیں۔ ہمارے اندر کمیوں اور خامیوں کی موجودگی بھی لازمی ہے اور یہ کمیا‌ں اور خامیاں اپنی محنت سے دور کی جاسکتی ہیں ۔بقول اقبال :
خودی کی پرورش، تربیت پر ہے موقوف
کہ مشت خاک  میں پیدا ہوا آتش ہمہ سوز
............................
خودی کے زور سے دنیا پر چھا جا
مقام رنگ و بو کا راز پا جا

کچھ مدارس اسلامیہ میں یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ زمانہ قدیم کا جو دستورعمل مدارس اسلامیہ کے اندر مزین  تھا ،آج اس کا شیرازہ ٹوٹ کر بکھر گیا۔کہ آپ اپنی صلاحیت و لیاقت، محنت و کاوش سے ممتاز مقام پر فائز رہیں ! بلکہ یہاں تو "پدرم  سلطان بود "کی رسم و رواج اور خوشامد جیسے خرافات نے  جنم لیا ہے۔
مدارس اسلامیہ کے ان حالات کے پیش نظر علامہ اقبال یہ کہنے پر مجبور ہے کہ
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدا" لا الہ الا اللہ"
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک*
نہ زندگی ،نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ  !
ایسے ہوشربا وقت میں ہمیں اپنی زندگی سے ہمت نہیں ہارنا ہے بلکہ اپنی سوچ و فکر میں علامہ اقبال کے ان اشعار کو مدنظر رکھنا ہے ۔کہ علامہ اقبال قوم مسلم کے نوجوان سے یوں مخاطب ہوتے ہیں ۔
ع: عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہ ہو نومید ،نومیدی زوال علم و عرفاں ہے
امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا  کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

  فارغین مدارس کے لئے عصری تعلیم حالات کے تحت ضروری ہے،"لوکان بچین" کی حدیث اس پردلیل ہے  ۔
مدرسہ سے یونیورسٹی کیسے پہنچیں؟
اب ہم یہاں سے اپنا رخ عصری تعلیم کی طرف منتقل کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
تعلیم اور کیریئر کے معاملے میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے ۔اعلی تعلیم کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ وہ زمانہ گیا جب لوگ مولوی اور عالم( B.A) کر کے اعلی ملازمتیں حاصل کرلیتے تھے۔ اب تو اسپشلائزیشن کا زمانہ آگیا ہے۔ اسی لئےآپ
 کو کیا بننا ہے ؟ آپ کی منزل کہاں ہے؟ اس کا تعین مادھیہ مک یا میٹرک کے امتحان کے بعد ہی کر لیں ۔
اردو میڈیم اور خصوصاً مدارس کے طلبہ کے لیے  ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہماری انگریزی کمزور ہوتی ہے۔  اور اکثر ہم اس کو نظر انداز کرتے ہیں۔ جس کا خمیازہ ہمیں آگے چل کربھگتنا پڑتا ہے ۔ اسی لئے انگریزی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اور ایک اچھی ملازمت حاصل کرنے کے لئے انگریزی کا درست ہونا لازمی ہے ۔
طلبہ مدارس اسکول سے منسلک نہیں ہوتے ہیں اور نہ ہی انگریزی سیکھنے کے لیے کہیں پرائیویٹ کوچنک کرتے بلکہ وہ مدرسے میں پڑھتے ہوئے کسی بورڈ سے ملحقہ مدرسہ سے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں ۔
اور ہر صوبے ( state ) کی الگ الگ ڈگریاں  ہیں ۔
جیسے بنگال میں عالم اور فاضل دسویں اور بارہویں کے مساوی ہےلیکن بہار کا معاملہ کچھ الگ ہے عالم(B.A)گریجویشن اور
فاضل(M. A) ایم اے کے مساوی ہے ۔
اکثر طلبہ مدارس دوران طالب علمی میں مولوی یا پھر عالم  کی ڈگری حاصل کر لیتے ہیں ۔مدرسہ سے  فارغ ہونے کے بعد سیکڑوں امکانات آپ کے دروازے پر دستک دے رہے ہوتے ہیں ! (جی ہاں! عمر کاضرور خیال رکھیں)
کمپوٹر کا ڈیزائن ،ٹرایویل تا ٹورزم ٹیلی کمیونیکیشن سے ہائی ٹیکنالوجی،ماحولیاتی سائنس سے ہوٹل اینڈ ہاسپیٹلیٹی مینجمنٹ ،آرٹس(Art) ،کامرس (commerce) (low ) LLB ۔Art کے طلبہ UGC NET کے امتحان اسسٹنٹ کی پوزیشن حاصل کرسکتے ہیں ۔ اس طرح کے بے شمار مواقع مدارس کے فارغین کو دعوت دے رہے ہیں ۔
پہلے آپ یہ طے کریں کہ کس شعبے میں آپ کو اپنا کریئر بنانا ہے ۔اس کے بارے میں تفصیلی جانکاری حاصل کریں۔ یہ پتہ لگائیں کہ اس کے کورسز کہاں کہاں کرائے جاتے ہیں؟  اخراجات کتنے ہیں؟ آپ کے گھر کے قریب کون سا ادارہ ہے؟ آپ  کے لئے زیادہ سہولیات کہاں ہیں؟  جس ادارے سے آپ تعلیم و تربیت حاصل کریں گے مارکیٹ میں اس کی کتنی اہمیت ہے کچھ جعلی اور فرضی ادارے تعلیم وتربیت کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ تو کچھ ادارے ایسے ہیں جن سے آپ ڈگری یا ڈپلومہ حاصل کر بھی لیں تو بازار میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔اسی لئے اول اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں ۔  اس طرح کی جانکاری کے لیے فارغین مدارس کے لئے ایک بہترین ادارہ جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء  نئی دہلی ہے ۔جہاں  دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم  کابھی معقول انتظام ہےاور فارغین مدارس کے لئے لیے یونیورسٹی جانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد اپنا سفر چاہے  JNUسے شروع کریں  یا JMI سے یا علی گڑھ سے۔  پھر عالیہ یونیورسٹی سے یا پھر حیدرآباد MANUU جہاں سے چاہیں آپ اس سفر کو شروع کر سکتے ہیں..
لیکن یاد رہے تصوف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے یعنی آپ نے جو تعلیم و تربیت مدرسے سے حاصل کی ہے یونیورسٹی کے آزاد خیال ماحول میں ان پر ذرہ برابر فرق نہ آنے دیں ورنہ "نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم" کے مصداق ٹھہریں گے!!!
میرا مقصد آپ کو اعلی تعلیم کی طرف مائل کرنا  ہے نہ کہ دین سے دور کرنا لہذا  تعلیم کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن کا  خیال ضرور رکھیں ۔
یاد رہے !  ایک تعلیم یافتہ شخص بننے کے لئے تین چیزوں  کا ہونا ضروری ہے۔جو دوران طالب علمی  میں حاصل کرنا ہوتا ہے ،
وہ تین چیزیں یہ ہیں ۔ أول: کانفیڈنس( confidence ) بھروسہ اعتماد ،توکل علی اللہ ،
دوم: ( Creative ) خود سے سوچنا ، ذاتی فکر ،
سوم جو کہ بہت اہم ہے : (character ) کردار ، اخلاق، ۔
یہ تینوں چیزیں ہر دور میں تعلیم کے ساتھ جزو لاینفک بن کر رہی ہیں ۔اس کے بغیر تعلیم یافتہ شخص بھی جاہل ہے ۔۔(موڈین ریسرچ )
بارگاہ رب العزت میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی ہم سب کو دینی اور دنیا وی دونوں تعلیم سے آراستہ و پیراستہ فرمائے اور صوفیاء کے طریقے پر گامزن فرمائے آمین ثم آمین۔۔۔
گھٹے تو بس مشت خاک ہے انساں
بڑھے تو وسعت عالم میں سما نہ سکے ۔
(اقبال)
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں