استاد معمار قوم ہیں: مفتی شمس تبریز قادری علیمی۔۔Teachers are the architects of the nation

باسمہ تعالیٰ

***استاد معمار قوم ہیں !***


ازقلم:محمدشمس تبریزقادری علیمی *


  اسلام مکمل نظامِ حیات ہے،اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق کو احسن تقویم ارشاد فرمایا ۔مصوری کا یہ عظیم شاہکار، اشرف المخلوقات، مسجود ملائکہ اور خلیفۃ اللہ فی الارض، حضرت انسان نے یہ ساری عظمتیں اور رفعتیں صرف علم کی وجہ سے حاصل کی ورنہ عبادت و ریاضت اطاعت و فرماں برداری میں فرشتے کمال رکھتے تھے ۔
دین اسلام نے ایک گائیڈ لائن اور ہادی دیا جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک چلے آرہے ہیں ۔کبھی انبیاء کی شکل میں ،تو کبھی صحابہ کی شکل میں ، کبھی تابعین و تبع تابعین کی شکل میں ،تو کبھی مجتہدین کی شکل میں، کبھی اولیاءاللہ کی شکل میں میں ، تو کبھی صوفیاء کی شکل میں ،کبھی علماء ربانی کی شکل میں۔اسلام ایک ایسا مذہب مہذب ہے جو  بچے کی پیدائش سے لے کرکبرسنی تک ہرموڑپرانسان کی رہنمائی کرتاہے ۔اسلام اور پیغمبر اسلام لوگوں کو جہالت کی تاریکی سے نکل کرعلم وادب کی تابندہ روشنی سےہمیشہ منوررہنے کے لئے علم حاصل کرنے اورعلم کوعام کرنے کی تاکیدکرتاہے ۔اولادکی صحیح تعلیم وتربیت کے لئے والدین کوہدایت کرتاہے۔ والدین اپنے بچوں کی اچھی تعلیم وتربیت کے لئے جس ذات کی طرف مائل ہوتے ہیں
 اسے معلم اور استاد کے نام سے مشرف کیا جاتا ہے۔انسان کو اشرف المخلوقات کی عظیم شرافت وبزرگی ملی، یہ بزرگی محض علم کی وجہ سے ہے۔ علم کے بغیر انسان حیوان ناطق ہے۔ کیونکہ انسان اور حیوان میں نطق کے علاوہ کوئی دوسرا فرق نہیں ،پڑھا لکھا آدمی بہت جلد معاملہ کی تہہ تک پہنچ جاتا ہےجاہل کا ذہن نا پختہ اور عقل خام ہوتی ہے۔ اس لئے کسی بات کے اچھے یا برُے پہلوؤں میں فرق کرنا مشکل ہو جاتاہے۔ علم ہی سے انسان، انسان ہے۔ عالم اور جاہل میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ استاد ہی ہے جو ایک جاہل کوجہالت کے قعرِمذلت نکال کردرخشندہ مستقبل دیتاہے۔مثل مشہورہے :کہ عالم فرشتہ اور جاہل حیوان ہوتا ہے۔ عالم بینا اور جاہل اندھا ہوتا ہے۔ اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو استاد کی حثییت اہمیت اور مقام مسلم ہے۔ کہ استاد ہی نو نہالان قو م کی تعلیم وتربیت کا ضامن ہوتا ہے۔ استاد ہی قوم کے نوجوان کو علوم و فنون سے آراستہ پیراستہ کرتا اور اس قابل بناتا ہے کہ وہ ملک اور قوم کی گراں بارذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکیں ۔ استاد جہاں نوجوانوں کی اخلاقی وروحانی تربیت کرتا ہے وہیں ان کو مختلف علمی سائنسی فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرتا ہے۔ والدین بچے کی جسمانی پرورش کرتے ہیں۔ جبکہ استاد کے ذمے بچے کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے استاد کی حثییت اور اہمیت والدین سے کسی طرح سے کم نہیں بلکہ ایک لحاظ سے ان سے بڑھ کر ہے ۔ کیونکہ روح کو جسم پر فوقیت حاصل ہے۔
سکندرسے کہاگیا:تجھے کیاہواکہ تواپنے باپ سے زیادہ اپنے استادکی تعظیم کرتاہے۔اس نے جواب دیا:اس لئے کہ میراباپ میری ختم ہونے والی زندگی کاسبب ہے اورمیرااستادمیری باقی رہنے والی زندگی کاسبب ہے۔
کسی عربی شاعرنے کیاخوب کہاہے:(ترجمہ)
میں اپنے استادکواپنے والدپرمقدم کرتاہوں٭حالانکہ مجھے فضل وشرف میرے والدکی طرف سے ملاہے۔
اس لیے کہ وہ (استاد)روح کی پرورش کرنے والاہے اورروح موتی ہے٭ اوریہ (والد)جسم کی پرورش کرنے والاہے اورجسم سیپ ہے۔
        استاد کسی بھی قوم یا معاشرے کا معمار ہوتا ہے…وہ قوم کو تہذیب وتمدن،اخلاقیات اور معاشرتی اتار چڑھاؤ سے واقف کراتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ استاد کا مقام کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی قوم کامستقبل اس قوم کے استاد کے ہاتھ میں ہو تا ہے۔ استاد ہی قوم کو تربیت دیتا ہے۔وہی اسے بتاتا ہے کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔ گویا کسی بھی قو م کو کوئی حکومت تربیت نہیں دیتی بلکہ ایک استاد تربیت دیتا ہے۔ دلوں کو چھو لینے والی بات کی جا ئے تو قوم کی تباہی یاقوم کی سرفرازی دونوں کا باعث استا د ہی ہوتا ہے۔
کسی شاعر نے فروغِ انسانیت کی بہترین عکاسی کرتے ہوئے کہا ہے :
علم و ہنر سے پاتی ہے انسانیت فروغ * انسان زندہ لاش ہے علم کے بغیر
     اس شعر کے مفاہیم ومطالب میں غور کیا جائے تو یہ بات نکل کر سامنے آتی ہے کہ معاشرے میں انسانیت کو فروغ دینے والی ذات کوئی اور نہیں بلکہ واحد استاد کی ذات ہے۔ استاد ہی ہیں جو شب و روز اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ کس طرح قوم کے بچوں کو اچھی تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا جائے -
آج تہذیب و تمدن کی یہ جو اتنی بڑی عمارت کھڑی ہے۔ اس کے پیچھے اْسی شفیق و محترم ہستی کا ہاتھ ہے جسے اتالیق یا استاد کہتے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ ، جن کی گردن ہمہ وقت اکڑی رہتی تھی ، اپنے اساتذہ کے سامنے ہمیشہ سر جھکا دیا کرتے تھے۔
استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے اس لیے اسلام نے معاشرے میں اسے بہت بڑی حیثیت دی ہے اور اس کی بے حد عزت واحترام کی تاکید کی ہے۔حضور ﷺ نے استاد کو حقیقی باپ سے بھی زیادہ مرتبہ دیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:دنیا میں تمہارے تین باپ ہیں: ایک وہ جو تمہاری پیدائش کا باعث ہوا،دوسرا وہ جس نے اپنی بیٹی کی شادی تمہارے ساتھ کردی،اور تیسرا وہ جس سے تم نے علم حاصل کیا،اور ان میں بہترین باپ تمہارا استاد ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین آپس میں جس سے کچھ سیکھتے اسے استاد کا درجہ دیتے اور اس کا ادب و احترام کرتے تھے ۔حضرت مولیٰ علی مشکل کشا رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: کہ جس سے میں نے ایک حرف بھی سیکھا ہے میں اس کا غلام ہوں اسے اختیار ہے خواہ وہ مجھے فروخت کردے یا آزاد کردے اور چاہے تو غلام بناکر رکھے۔
ایک شاعر نے عربی زبان میں کہا ہے:(ترجمہ)
سب سے بڑا حق تو معلم کا ہے جس کی رعایت تمام مسلمانوں پر فرض ہے ۔واقعی وہ شخص جس نے تم کو ایک لفظ سکھادیا اس کا مستحق ہے کہ ہزار درہم اس کے لئے ہدیہ کئے جائیں بلکہ اس کے احسان کے مقابلہ میں تو ہزار درہم کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ( آداب المتعلمین)
استاد جس نے تمام انسانوں کو انسانیت کا درس عظیم دیا ہے وہ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ حد درجہ ان کی عزت کی جائے ۔اور ہمیشہ ادب، تعظیم سے پیش آیا جائے ۔استاد کو ہر زمانے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے.استاد کی عزت اور ان کی تعظیم و توقیر کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ہماری شخصیت سازی اور کردار سازی میں معاون مددگار ثابت ہوتا ہے۔استاد ہر ایک طالب علم کو ویسے ہی سنوارتا ہے جیسے ایک سونار دھات کے ٹکڑے کو سنوارتا ہے۔استاد علم کے حصول کا براہ راست ایک ذریعہ ہے اس لیے ان کی تکریم اور ان کے احترام کا حکم دیا گیا ہے۔استاد کا احترام اسلامی نقطہ نظر سے دو اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے:
1۔ ایک تو وہ منبع علم ہونے کے ناطے ہمارے روحانی باپ ہوا کرتے ہیں۔ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح وفلاح کے لئے اپنی زندگی صرف کرتے ہیں ۔
2۔ دوسرا یہ کہ وہ عموما طلبہ سے بڑے ہوتے ہیں اور مذہب اسلام اپنے سے بڑوں کے احترام کا حکم بھی دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے"من لم یرحم صغیرنا و لم یؤقر کبیرنا فلیس منا"
یعنی جو شخص اپنے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور اپنے بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں -
         اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معلّم کو سب سے بہترین انسان قرار دیا گیا ہے۔استاد کے ادب کو تحصیل علم کے لیے بنیادکہا گیا ہے ۔عربی کا مقولہ ہے:" الادب شجر والعلم ثمر ثم فکیف یجدون الثمر بدون الشجر"۔ادب درخت ہے اور علم پھل ہے پھر بغیر درخت کے پھل کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔اگر تدریس کو بحیثیت مشغلہ دیکھا جائے تو یہ مشغلہ تمام پیشوں سے اعلی ،اشرف و افضل ہے۔دنیا میں لوگ جتنی بھی محنتیں کر رہے ہیں ان میں معلّم کی فضیلت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتاہے۔عربی ضرب المثل ہے کہ "خیر الاشغال تھذیب الاطفال" ۔بہترین مصروفیت و مشغلہ بچوں کی تربیت کرنا ہے۔معلم، انسانیت پر محنت کرکے کار نبوت سرانجام دے رہا ہوتا ہے۔امام الانبیاءﷺکی حدیث شریف اس پر شاہد ہے کہ علم والے نبیوں کے وارث ہیں۔(ابوداؤد۔3641)
استادافراد کی تربیت کرکے ایک مہذب معاشرہ تشکیل دیتا ہے گویا بادشاہ، لوگوں پر حکومت کرتے ہیں جب کہ بادشاہوں پر معلّمین کی حکومت ہوتی ہے۔پیغمبر اسلام ﷺکا ارشاد مبارک منصب تدریس کی اہمیت کو مزید واضح کردیتا ہے: کہ جس شخص نے لوگوں کو خیر کی طرف بلایا ،لوگوں کے اجر کے برابر اس کو بھی اجر ملے گااور لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔(مسلم۔1893)
 معلّم کا فرض سب سے اہم اور اس کی ذمہ داری سب سے مشکل ہے۔ شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر  اقبال نے معلّم کی حیثیت ،عظمت اور اہمیت کو بہت احسن انداز میں بیان کیا ہے کہ استاددراصل قوم کا محافظ ہوتاہے کیونکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو سنوار نا اور ان کو ملک و ملت کی خدمت کے قابل بنانا ان ہی کے سپرد ہے۔سب محنتوں میں اعلٰی درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے بیش قیمت کارگزاری معلّموں کی ہے۔معلم کا فرض سب سے زیادہ مشکل اور اہم ہے کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سر چشمہ اس کی محنت ہے۔
    استاداگر صحیح معنوں میں استاد ہو تو وہ اپنے شاگردوں کی زندگیاں بدل سکتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ آئندہ نسلوں کی انفرادی واجتماعی زندگی استادکے ہاتھ میں ہے۔ وہ زندگی کو جس رخ پر چاہے موڑ سکتا ہے۔ معلم اگر اپنے علم کی منہ بولتی تصویر ہو، اخلاق وآداب کا نمونہ ہو تو اس کی ذات معاشرے میں مرکزی حثییت رکھتی ہے۔ وہ قوموں کی تقدیریں بدل سکتا ہے۔ صالح انقلاب بر پا کر سکتا ہے۔ استاد اپنے زیر تعلیم شاگردوں کی خودی کو چمکاکر ان میں انفرادی اور اجتماعی انقلاب برپا کر سکتا ہے ۔تاریخ میں اچھے اساتذہ نے ہر دور میں یہ کام کیا ہے ان کے نقوش تاریخ کے صفات ہی میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی نظر آتےہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مشاہیر عالم کی تمام تر شہرت وعظمت ان کے عظیم اساتذہ کی کاوشوں کی مرہون منت ہے لہذااستاد کو اس کے شایان شان مقام ملناچائے۔ہمیں اپنے استاد کا احترام کرنا چاہیے استاد ہمارے روحانی والدین ہیں ہمیں استاد کی جہاں تک ہو سکے خدمت کرنی چاہیے۔
رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
           *******
صدر ومفتی :قادری دارالافتاء دارالعلوم کلیمیہ رضویہ حفظ القرآن ،
عنایت پور ،مالدہ ۔(مغربی بنگال)
Mdshamstabrezalimi@gmail.com
رابطہ نمبر :7001063703
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں