حضور اشرف الاولیاء اور دورۂ لوہر دگا۔۔۔ محمد انتخاب القادری۔۔ Ashraful auliya and lohardaga

*(حضور اشرف الاولیا اور دورۂ لوہردگا)*



محمد انتخاب القادری

کچھوچھہ مقدسہ یوں تو ایک زمانہ سے ولیوں کا مرکز رہا ہے اور آج بھی ولیوں کا مرکز مانا جاتا ہے, اسی سر زمین میں حضور سیدی سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے گھر حضور تاج الاصفیا سید شاہ مصطفی اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کا لخت جگر خاک دان گیتی میں اس شان سے جلوہ بار ہوتا ہے کہ ایک جانب اہل سنت و جماعت کو فرقۂ باطلہ پر غلبہ حاصل ہوتا ہے تو دوسری جانب اسی فتح و نصرت کی نشانی اشرف الاولیا اور بدر الفتح کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے, یعنی حضور اشرف الاولیا بدر الفتح سید شاہ مجتبی اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کی ولادت ہوتی ہے,
حضور اشرف الاولیا علیہ الرحمہ کی ولادت 26 ربیع الآخر 1346 ھ مطابق 23 اکتوبر 1932 ھ کو ہوئی,
آپ کی ابتدائی تعلیم کچھوچھہ شریف کے ایک دار العلوم بنام ”مدرسہ اشرفیہ“ میں ہوئی اور اعلی تعلیم کے لیے مرکز عقیدت باغ فردوس الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور تشریف لے گئے اور عقل و نقل کی مکمل تعلیم کے بعد حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی خواہش پر الجامعۃ الاشرفیہ ہی میں درس و تدریس کے کام انجام دیے مگر والد محترم حضور تاج الاصفیا علیہ الرحمہ کی مصروفیت نے زیادہ دن درس گاہ میں نہیں رہنے دیا اور آپ درسگاہ میں سال بھر بھی نہیں رہے اور تبلیغ دین متین اور مسلک حق اہل سنت و جماعت کے فروغ میں خود کو وقف کر دیا, آپ کی تبلیغی کارنامے کا یہ اثر ہوا کہ سینکڑوں غیر مذہبوں کو راہ حق نصیب ہوئی اور بہتوں بد عقیدوں کو مسلک اہل سنت قبول کرنے پر مجبور کیا,
آپ ایک بہترین اور با صلاحیت عالم ہونے کے ساتھ با کرامت ولی بھی تھے, کئی کرامتیں رسالوں میں مذکور ہیں  (ماہنامہ غوث العالم کا خصوصی شمارہ اشرف الاولیا حیات و خدمات کا مطالعہ تسکین قلب کے لیے کافی ہے)

*حضور اشرف الاولیا سر زمین لوہردگا میں:-*
حضور اشرف الاولیا علیہ الرحمہ کا دورہ تقریباً پورے ملک میں ہوا جس میں صوبہ جھارکھنڈ کا ضلع لوہردگا بھی امتیازی شان رکھتا ہے, راقم الحروف ضلع لوہردگا کے تعلق سے چند معلوماتی باتیں پیش کرتا ہے,
آج بتاریخ 11 جولائی 2020 بروز سنیچر بعد نماز عشاء جانشین حضور اشرف الاولیا حضور سید شاہ جلال الدین اشرف اشرفی جیلانی کے مرید خاص اور خلیفہ پیر طریقت الحاج عبد الجلیل کوثر اشرفی سے بات ہوئی انہوں نے بتایا کہ حضور اشرف الاولیا علیہ الرحمہ کی لوہردگا جھارکھنڈ میں پہلی آمد 1982 میں ہوئی اور اس وقت سے مسلسل تا دم حیات ہر سال اس شہر میں تشریف لاتے رہے اور فیوض و برکات سے مالا مال کرتے رہے,
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اول *کسکو لوہردگا* میں ایک دار العلوم بنام مصباح العلوم قائم کیے (یہاں بھی تعلیم جاری ہے) بعدہ کسی مصلحت کے تحت کسکو بستی سے دور ایک ویران جگہ بالا ٹولی کے سراج خان کی اہلیہ نے حضور اشرف الاولیا کی خدمات و جذبات دیکھ کر مرید ہوئی اور مدرسہ کے لیے اپنی زمین بھی وقف کر دی جس میں مدرسے کی بنیاد حضور اشرف الاولیا علیہ الرحمہ نے 1991 عیسوی میں رکھی اور مدرسے کا نام ”اشرف العلوم“ رکھا, تاریخ نگاروں سے ایک التجا ہے کہ جہاں بھی حضور اشرف الاولیا کی حیات و خدمات پڑھنے کو ملی وہاں اس مدرسے کا ذکر مفقود ہے لہذا اسے ضرور تحریر کریں,
الغرض 1991 میں دار العلوم اہل سنت اشرف العلوم بالا ٹولی روڈ کسکو لوہردگا کا قیام ہوا حضور اشرف الاولیا سرپرستی فرماتے رہے اور آج بھی جانشین حضور اشرف الاولیا سید شاہ جلال الدین اشرف اشرفی جیلانی کی سرپرستی میں چل رہا ہے, الحمد للہ حضور اشرف الاولیا کا قائم کردہ اشرف العلوم محتاج تعارف نہیں ہر سال حفاظ کرام کی ایک جماعت کی فراغت با سند ہوتی ہے اور درس نظامی کی اعلی تعلیم کے لیے اسی ادارے سے مخدوم اشرف مشن کا رخ کرتی ہے مجھ فقیر کو بھی یہ شرف حاصل ہے کہ حفظ کی تکمیل اسی اشرف العلوم میں ہوئی بعدہ یادگار حضور اشرف الاولیا مخدوم اشرف مشن پنڈوہ شریف تک اسی ادارے کے توسل رسائی ہوئی,
خلیفۂ حضور تاج الاولیا الحاج عبد الجلیل کوثر اشرفی نے یہ بھی کہا کہ اس ضمن میں بہت سی معلوماتی باتیں ہیں مگر فون پر تفصیل ممکن نہیں,
ان شاء اللہ پھر کبھی تفصیل سے ”حضور اشرف الاولیا اور حالات لوہردگا“کے عنوان پر مضمون پیش کیا جائے گا,
آخر میں ان کی وفات کا ذکر اس لیے بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ مہینہ میرے لیے بھی یادگار ہے,
دار العلوم اہل سنت اشرف العلوم میں میرا داخلہ 3 مارچ 1998 میں ہوا اور پندرہ بیس دن کا عرصہ گزرا ہی تھا کہ ایک خبر سنائی دی کہ ”پیر صاحب پردہ فرما گئے“یہ خبر سنتے ہی مدرسہ میں سکوت طاری ہو گیا اساتذہ کرام اور بڑے طلبہ افسوس کا اظہار کرنے لگے تبعاً ہم بھی شامل ہوئے, یہ تو پتہ چلا کہ پیر صاحب کا انتقال ہوا مگر آج احساس ہوا کہ ایک عظیم شخصیت کے دیدار سے محروم رہے, اسی سال 20 مارچ 1998 مطابق 21 ذی الحجہ 1418 ہجری کو حضور اشرف الاولیا سید شاہ مجتبی اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کا وصال ہوا,
اللہ تعالی ان کی تربت پر رحمت و انوار کی بارشیں برسائے آمین,

ع
*ہزاروں غیر مسلم کو بنا کر صاحب ایماں*
*دوانہ شاہ بطحا کا بنائے مجتبی اشرف*

خاکپائے اہل بیت
محمد انتخاب القادری لوہردگا جھارکھنڈ
9113369313
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں