امام الاصفیاء شیخ نور قطب عالم علیہ الرحمہ ایک عظیم المرتبت شخصیت ۔Hazrat Noor Qutb Alam is a great personality.۔ مولانا دانش علاںٔی

امام الاصفیاء شیخ نور قطب عالم علیہ الرحمہ ایک عظیم المرتبت شخصیت 


از قلم : دانش علائی سلی گوڑوی

 متعلم: مخدوم اشرف مشن
  پنڈوہ شریف مالدہ مغربی  بنگال انڈیا۔۔۔
               جب ہم بنگال کی آٹھ سو سالہ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو بہت سی ایسی عظیم الشان شخصیات رونماہوتی ہیں جنھوں نے اپنے ارشاد و تبلیغ کے ذریعے دین اسلام کی نشر و اشاعت کی، جن کی دیرینہ کدو کاوش کا نتیجہ ہے کہ آج بنگال و بہار میں علم اسلام بلند ہے ۔ان نفوس قدسیہ میں قطب بنگال و بہار ،سلطان الاصفیاء ، امام الاولیا ، شیخ احمد نور الحق المعروف بہ نور قطب عالم علیہ الرحمہ الرضوان کی ذات ستودہ صفات سرفہرست ہے ۔

نام و لقب : آپ کا اصلی اور تاریخی نام شیخ احمد اور لقب نورالحق والدین ہے،لیکن شیخ نور قطب عالم کے نام سے آپ کی تشہیر ہوئی، اس کی وجہ تاریخ نگاروں نے آپ کاحلقہ سردار اقطاب ہونا قرار دیا ہے۔

ولادت با سعادت : آپ کی پیدائش مالدہ شہر کی مشہور و معروف جگہ پنڈوہ شریف میں ہوئی ۔ یہ جگہ صدیوں سے مردان حق کی آماجگاہ رہی ہے، اس کی عظمت وبزرگی کا پتہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ تارک السلطنت محبوب یزدانی میرکبیر سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کبھی بھی اس شہر کی طرف پاؤں نہ پھیلایا اور نہ ہی بول و براز فرمایا۔

پروش و پرداخت : حضرت شیخ نور قطب عالم علیہ الرحمۃ والرضوان کی نشونما،تعلیم وتربیت ، خانقاہ علائیہ پنڈوہ شریف ہی میں ہوئی ۔ جب آپ چار سال چار ماہ اور چار دن کے ہوئے تو خانقاہی دستور کے مطابق آپ کے والد ماجد و مرشد ومربی مخدوم العالم شیخ عمر علاء الحق والدین گنج نبات ابن اسعد لاہوری پنڈوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے آپ کی رسم بسم اللہ خوانی ادا فرمائی اور آپ کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دینے لگے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ کی تعلیم و تربیت، نشونما،اور پرورش کرنے میں ایک بغدادی خاتون کا کلیدی کردار رہا ہے جس کا ذکر اس واقعہ میں مندرج ہے:کہ خانقاہ علائیہ میں دربار لگا ہوا تھا اور حضرت شیخ علاء الحق پنڈوی رحمۃاللہ تعالی علیہ اپنی عادت کریمہ کے مطابق حاجت مندوں کی حاجت روائی فرما رہے تھے کہ اسی درمیان ایک بغدادی خاتون صف سے باہر الگ تھلگ کھڑی تھی، شیخ علاء الحق پنڈوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے استفسار پر اس نے عرض کیا کہ حضور میں دربار میں خود نہیں آئی ہوں بلکہ مجھے بشارت دی گئی تھی کہ اس شہر مقدس میں ایک درخشندہ و تابندہ ستارہ نمودار ہونے والا ہے اور اس کی تعلیم و تربیت اور پرورش کی ساری ذمہ داریاں مجھے سونپی گئی ہے ۔۔
 حصول تعلیم: حضرت شیخ نور قطب عالم علیہ الرحمۃ والرضوان حصول علم دین کے لیے خانقاہ علائیہ سے کبھی باہر تشریف نہیں لے گئے ،مکمل ظاہری و باطنی تعلیم اپنے والد محترم کی خانقاہ خانقاہ علائیہ میں رہ کر ہی حاصل کی اور اپنے ہم عصر علماء و مشائخ، اور اصحاب فکر و نظر پر تفوق حاصل کرلیا ۔ آپ نے تعلیمی میدان میں وہ کمال حاصل کیا کہ جس سورت کی تلاوت فرما تے اس کے تمام تر اسرار و رموز اور نزول وقت کے جملہ مناظر آپ کے سامنے مثل آئینہ کے گردش کرنے لگتے ۔

تبحر علمی : آپ کے تبحر علمی کا اندازہ آپ کے اس فرمان عالی شان سے لگایا جاسکتا ہے جس کو آپ نےاپنی کتاب " انیس الغرباء" کے مقدمہ میں تحریر کیا ہے کہ"" چند معانی کہ در یں احادیث بدل کباب خود یافتم نہ در کتاب شارحاں دیدم و نہ از استاداں شنیدم در قلم آرم""ترجمہ: احادیث کریمہ کے چند معانی جنہیں میں نے خود اپنے جلے ہوئے دل میں محسوس کرکے سپرد قرطاس کر دیا ہےان معانی و بیان کو نہ میں نے شارحین احادیث کی کتابوں میں دیکھا ہے اور نہ ہی اپنے اساتذہ سے سنا ہے۔۔

مجاہدہ نفس: حضرت شیخ نور قطب عالم علیہ الرحمۃ والرضوان پر بسا اوقات دوران تعلیم ایسی حالت و کیفیت طاری ہوتی کہ آپ کو محسوس ہوتا کہ سینہ مبارک شق ہو جائے گا، جب اس بات کی خبر آپ کے مرشد ومربی کو معلوم ہوئی تو اس حالت و کیفیت کو اعتدال پر لانے کے لئے آپ کو مجاہدہ نفس کر نے کا حکم صادر فرمایا اور آپ نے مجاہدہ نفس کے ذریعے اس مقام و مرتبہ کو حاصل کرلیا جس پر اخص الخاص حضرات فائز ہوتے ہیں، آپ کے اس بے نظیر انداز نفس کشی پر ارباب قلم و قرطاس نازاں ہیں اور قیامت تک نازاں رہیں گے۔ صاحب مراۃالاسرار حضرت علامہ شیخ عبد الرحمن چشتی تحریر فرما تے ہیں کہ" حضور شیخ نور قطب عالم علیہ الرحمۃ والرضوان اس قدر مجاہدہ کرتے تھے کہ طاقت بشری سے باہر تھا ۔حضرت گنج شکر کی مطابعت میں آپ کنواں میں الٹا لٹک کر صلوۃ معکوس ادا کرتے تھے"۔۔

 خدمت خلق: حضرت شیخ نور قطب عالم علیہ الرحمۃ والرضوان کی پوری حیات مستعار تقویٰ و طہارت،عبادت وریاضت سے بھر پور ،دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت سے لبریز تھی۔آپ نے غریبوں، فقیروں کی امداد کی،لاچار ، مظلموں کی لاچار ی دور فرمائی ۔ اس طرح سے آپ نے خدمت خلق کر نے میں ایک انمول مثال قائم کی اور ساتھ ہی اپنے والد بزگوار کے حکم کے مطابق آٹھ سال تک مسلسل لنگر خانہ کی لئے لکڑیاں کاٹ کر لاتے رہے ، پھر تقریبا چار سال تک کمزور اور ناتواں عورتوں کے پانی کا گھڑا اٹھا کر مدد کرنے میں مصروف رہے ، چوں کہ یہ آپ کے مرشد ومربی کا حکم تھا ۔ایک دفعہ مرشد نے فرما یا کہ کل سے آپ کنویں کے قریب جائیں اور وہاں ضعیف و ناتواں عورتیں جو پانی لینے آتی ہیں ان کا گھڑا بھر کردور لے جا کر ان کے حوالے کر دیا کریں کیوں کہ کنویں کے پاس پانی و کیچڑ ہے پاؤں پھسل جانے کا اندیشہ رہتا ہے لہذا آپ ان ضعیف عورتوں کی مدد کر دیا کریں۔
اس طرح سے بارہ سال تک آپ نے خدمت خلق کو اہم فرائض سمجھ کر  انجام دیتے رہے ۔۔
وصال پر ملال: افسوس کہ رشد و ہدایت کا یہ خورشید درخشاں ۱۱‌‌ ذی قعدی ۸۱۲ ہجری کو ہماری ظاہری نظروں سے ہمیشہ کے لئے اوجھل ہو گیا۔آپ کا مزار پر انوار آج بھی پنڈوہ شریف مالدہ بنگال میں مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔
ابر رحمت ان کی مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

ماخوذ از: انیس الغربا، اخبار الاخیار،مکتوبات نور قطب عالم ۔
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں