حضور اشرف الاولیاء: اور بنگال ۔۔۔ مفتی غضنفر حسین مصباحی huzoor Ashraful auliya and Bengal


حضوراشرف الاولیا علیہ الرحمہ اور بنگال



محمد غضنفر حسین  زیلعی مصباحی

             

استا ذ جا معہ قادریہ مدینۃ العلوم بنگلور --------------------
نام   ونسب  ۔ سید مجتبیٰ اشرف  اشرفی   بن   سید مصطفی اشرف  بن    سید   علی حسین  اشرفی  المعروف بہ  اعلی  حضرت اشرفی میاں  ۔۔۔ علیھم الرضوان۔ ــــ آپ کا سلسلہ نصب  اڑ تیس  واسطوں سے سرکار کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔
لقب۔۔۔   اشرف الاولیا ، ابوالفتح۔

جاے پیدائش و تاریخ پیدائش..     ہندوستان کے ایک    مشہور  و معروف خانقاہ  کچھو   چھہ مقدسہ میں   26/ ربیع الاخر /1346ھ۔۔۔23/ اکتوبر / 1927ء۔کو ایک  علم و عرفان  سے لبریز گھرانے میں آپ نے   آنکھیں کھولیں۔
تاریخی نام ۔۔ سن ہجری کے اعتبار سے  ، آ پ کا  تاریخی نام    بدر الفتح  سید  محمد  مجتبی ( 1346ھ) ہے۔ اسی پر   اشرف کا  اضافہ کرنے  سے سن عیسوی  بھی  نکل آتا ہے جیسے  بدر الفتح سید  محمد مجتبیٰ اشرف ( 1927 ء)  .

ابتدائی تعلیم  ۔۔جب  آپ کی عمر شریف   4  سال 4 ماہ 4 دن کو پہونچی تو   خاندانی رسم ورواج کے مطابق  آپ کے والد گرامی  تاج  الاصفیاء سید شاہ  مصطفی  اشرف اشرفی علیہ الرحمہ  نے   مدرسہ  اشرفیہ  کچھوچھہ شریف میں  آپ کا داخلہ کرایا۔ یہاں وقت کے با کمال اور نا بغہ روزگارا ساتذہ کی نگرانی  و سر پرستی  میں پوری انہماکیت اور دل جمعی کے ساتھ  آپ  نے تعلیمی سفر کا آغاز فرمایا اور  پوری محنت ولگن کے ساتھ شرح جامی تک تعلیم  حاصل کی۔
اعلی تعلیم ۔۔  حضوراشرف  الاولیا نے اعلی ٰتعلیم کے  لیے  مبارک  پور  کی جانب  رخت سفر باندھا، اور 12/ شول المکرم / 1360ھ کو اپنےجد امجد  شیخ المشائخ سید شاہ علی حسین  اشرفی میاں  علیہ الرحمہ کے قائم کردہ ادارہ : باغ  فر دوس  دارالعلوم  اہل سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم میں داخلہ لیا۔ یہاں آپ نے  ، وقت کے غزالی ،  رازی  اور  سیوطی جیسے  اساتذہ  کی نگرانی اور سرپرستی  میں   انتھک  محنت  ،پر  خلوص لگن، اور جہدمسلسل وسعی  پیہم  سے فضیلت تک تعلیم حاصل کی۔ آپ کی  تحقیق و جستجو ، معلومات کی گہرائی و گیرائی ،بحث و تکرار، مطالعہ سے گوناگوں دلچسپی اور  تضیع اوقات   سے اجتناب جیسے  اوصاف دیکھ کر یہاں  کے   اساتذہ نے آپ  پر  خصوصی توجہ فرمایا۔
فراغت ۔۔ باغ فردوس دارالعلوم اہل سنت مدرسہ  اشرفیہ مصباح العلوم  مبارک پور میں شعبان  1366ھ/ جون   1947 ء کو  وقت کے اکابر  علماے کرام کے ہاتھوں آپ کے سر  دستار فضیلت کاسہرا  رکھاگیا۔
خدمات ۔۔۔ آپ کی تبلیغی خدمات کا دائرہ  ملک کے مختلف ریا ستوں  جیسے بہار ،بنگال ،آسام ،اڑیسہ ، یو پی ،ایم پی کرناٹک ، راجستھان ، مہاراسڑ، گجرات ، پنجاب ،آندھرا پردیس ،بھوٹان اور سکم ۔ اور بیرون ملک  جیسے بنگلہ دیش ،پاکستان ، سعودیہ ، انگلینڈ   میں پھلا  ہوا ہے۔  اس مختصر مقالہ میں صرف    بنگال کی  سر زمیں میں  آپ کی تبلیغی  خدمات  پر روشنی ڈالی جائے گئی۔
  بنگال آزاد بھارت  کے مشرقی حصے  میں  واقع ،   سنگلاخ  وادیوں سے  پر   ایک  پس  ماندہ  اور  پچھڑا  ریاست ہے ،  یہاں کی  تہذیب و ثقافت  اور رسم و رواج ہندوانہ ہیں  جس میں  یہاں کے مسلم باشندے بھی  رنگے ہوے  تھے ۔ ذرائع ابلاغ و ترسیل کی کمی کی وجہ سے   دعیان اسلام اور مبلغین  حضرات ادھر بہت کم متوجہ ہو سکے، جس کے سبب یہاں کے مسلمانوں کو  اسلامی تہذیب و ثقافت سے  بہت کم حصہ ملا  تھا۔ حضور اشرف الاولیا  نے جب  بنگال کے حالت کا جائزہ لیا ۔  یہاں کے رسم و رواج اور  دینی و مذہبی امور کی معلومات و آگہی حاصل کی تو اس بنجر زمیں پر بود باش کرنے والے مسلمان پر آپ کو  رحم آگیا  اور بنگال کی سرزمیں پر  تبلیغ   دوراہ کرنا  اولین  مستحق  سمجھا۔ اور  انتھک محنت  اور کدو کاوش سے  یہاں کی فضا کو اسلامی  تہذیب  و ثقافت  اور اسلامی رسم و رواج   سے معطر کیا ۔ یہاں کی سر زمین  پر  آپ کی تبلیغی  خدمات    میں تقریر وخطابت  ،  فرقہ باطلہ  کے مبلغین سے   مناظرہ و مباحثہ اور  مدارس دینیہ کے قیام  سر پرستی داخل ہیں۔  ذیل میں ہر ایک پر مختصر روشنی  ڈالی جاتی ہے۔
تقریر و خطابت : آپ  ایک  سنجیدہ   ، پر وقار، اور مقبول ترین مقریر تھے۔ اللہ تعالی نے آپ کی زبان میں وہ تا ثیر عطا فر ما  دی تھی  کہ سامعین  پر کیف وجد کا عالم تاری ہو جاتا ۔ آپ کی پوری تقریرقرآن وحدیث اوراقوال سلف صالحین کی روشنی میں ہوتی ، دلائل  وبراہن کثرت ، قران  حدیث کے حسن استدلال سے اہل علم  و دانش  اچھل جاتے۔  آپ  کی تقریر  سے  ملک کے طول و عرض میں  بے شمار  گم گشتگاں  کو  راہ ہدایت نصیب ہوا ۔

ریاست بنگال کے  کچھ ضلعے  جیسے  مالدہ ،  دکھن دینا ج پور ، اتر دیناج پور ،دارجلنگ  ، سکم اور جلپائی گوڑی نہایت ہی  خستہ حالی کے شکار تھے ۔ یہا ں بعض علاقے ایسے تھے  جہاں  دس دس کیلومیٹر  پکڈنڈیوں سے پیدل چلنا پڑ تا تھا ۔ مبلغین اسلام کی آمد ورفت کم ہونے کی وجہ سے، ہندوانہ رسم و رواج نے مسلمانوں کو اپنے سکنجے میں  لیے رکھاتھا ۔ تمام صعبتوں کو برداشت کر کے  حضور اشرف الاولیا   ،ان علاقوں  میں تبلیغی دورا کیا کرتے   اور اپنی خطابت و تقریر اور وعظ و نصیحت   سے ہندوانہ رسم و رواج  کی قباحت کو واضح کرتے ،اور  اسلامی تہذیب و ثقا فت اور  رسم رواج سے لوگوں کو روشناس کرتے تھـ
مناظرہ ومباحثہ ۔  فرق باطلہ  کے  مبلغین  دن کے اجالے میں بنگال کے  بھولے بھالے عوام کے ایمان کو لوٹ رہا تھے،نئے نئے    ھتکنڈوں اور طرح طرح کے حیلے بہانوں سے ،انہیں  گمراہیت کے قعر عمیق کی طرف  ڈھکیل رہے تھے۔  حضور اشرف  الاولیا کو  جب  اس حالت سے آگہی حاصل ہوئی ۔   تو  آپ اس کو روکنےکے لیے  کمر بستہ ہوئے  ۔  ان مبلغین  سے  بحث  و مباحثہ کر کے ، ان کو میدان مناظرہ میں  لو ہے کے چنے چبوادیے ،  یہاں کے باشندوں پر ان کی بد عقیدگی کو ظا ہر کیا، اور یہاں کی سر زمین کو  عقائد و معمولات اہل سنت سے ہرابھرا۔ بنگال کی  سر زمین پر  فروغ اہل سنت کے لیے آ پ نے جو مناظرے کیے ذیل میں  ان پر کچھ  روشنی ڈالی جاتی ہے۔
1مالدہ کا مناظرہ:یہ منا ظرہ شہر مالدہ    سے دو کیلو میڑ دوری   پر  واقع ایک بستی  (کھکھربونا  ) میں ایک دیوبندی عالم مولوی فیض الدین سے ہو تھا ۔ مخالف مناظر  نے آیت مبارکہ ۔  ان اللہ   العرش استوی- کی  تلاوت کی اور کہا ہمارا عقیدہ ہے  کہ اللہ ا پر ہے۔  آپ نے اس کی طرف غضب ناک  نگاہوں سے دیکھتے ہوئے فرمایا،  مولوی  فیض الدین ، سن لو تیرا خدا  ا پر ہو سکتا ہے،ہمارا خدا  تو جگہ  و مکان  سے پاک  ہے ،اس کا  جلوہ  اور قدرت ہر جگہ   ہے۔  پھر  آپ نے  اپنے دعویٰ کو  قران کریم  کی آیت  کریمہ  "  اینما تولو ا فثم وجہ اللہ " اور متعدد آیات  کریمہ اور احادیث مبارکہ سے ثابت کیا ۔  میدان مناظرہ میں دیوبندی مناظر کی شکست و پسپا یئ ہویئ۔
2  دار جلنگ کا مناظرہ ۔ یہ مناظرہ دارجلنگ کا ایک سر سبز شاداب علاقہ چٹ ھاٹ میں واقع ہوتھا ، اس  اعلاقے میں حضور اشرف الاولیا   اکثر تبلیغی دورا فرمایا کر تے تھے ۔ کچھ بد عقیدوں نے  یہاں کے نا خواندہ مسلمانوں   کوگمراہ کرلیاتھا ۔ سنی اور بد عقیدوں کے مابین تین دن کا مناظرہ تے پایا ۔ صدر مناظر کی حیثیت  آپ یہاں جلوا بار ہوے۔ پہلے دن ہی بد عقیدہ مناظر کے دانت کھٹے ہو گیے ۔ دوسرے دن کا سورج طلوع ہوتے ہی۔   بدعقیدہ مناظر نے راہ فرار  اختیار کیا ۔  صبح  آپ نے جشن فتح منایا  اور مخالفین نے اپنی بد عقید گی سے تا ئب ہو کر  آپ کے ہاتھ میں بیعت کی۔
3   غیث باڑی کا مناظرہ۔ غیث باڑی  ضلع مالدہ کی ایک بستی کا نام ہے۔ یہاں غیر مقلدین سے آپ کا مناظرہ ہوا ۔ میدان مناظرہ میں آپ نے  ان کو شکست فاش دے کر فتح و کامیابی کا جھنڈا لہر ا دیا ۔
مدارس دینیہ کا قیام ۔  بنگال ایک  مسلم  اکثریتی ریاست ہونے  کے با  وجود ۔  یہاں  مدارس  دینیہ کی تعداد  نہ کے برابر تھی۔ اور جو تھے بھی وہ  کسی ضابطہ اور نظام کے  تحت نہ تھے ۔یہاں کے مسلم باشندے  ۔ دینی   امور سے بہت کم واقف تھے  اور ان کی مسجدیں ویران  تھیں ۔ حضور اشرف الاولیا   نے یہاں مدارس دینہ کا قیام ضروری سمجھا  تا کہ  یہاں ٖ  کی فضا  قال اللہ تعالی  ، اور قال الرسول   صلی اللہ تعا لی  علیہ وسلم  کی صدؤں سے مہک  اٹھے اور مسلمان   آحکام شرعیہ سے واقف ہو کر  اپنے رب کے آگے  سرنگو ہوں  اور ویران  مسجدوں کو آباد کریں۔ اسی  جذبہ صادق کے پیش نظر  آپ نے یہاں بے شمار مدارس دینیہ قائم، فرمایا ۔  استا ذ محترم  مفتی کما ل الدین مصباحی کی کتا ب "  اشرف الاولیا    حیات و خدمات"  سے  بنگال کی سر زمین  پر   آ پ کے  قائم کردہ  اداروں کی  ایک فہرست  نظر قارئیں ہے۔
1    مخدوم  اشرف مشن   پنڈوہ شریف، مالدہ بنگال
2 م جامعہ علائیہ  قظب شہر مالدہ  بنگال
3  مدرسہ نظامیہ  اشرف العلوم کھیکر باندہ  کلیا چک  بنگال
4 مدرسہ  اشرفیہ  اصلا ح المسلمین، طوفان ڈانگی  دارجلنگ  بنگال
5 تنظیم  اصلاح المسلمین رام  گنج  با زار   ،اتر دیناج پور ، بنگال
6 مدرسہ غریب نواز  ، داسپاڑہ ، اتر دینا ج پور ، بنگال
7 مدرسہ  اشرف العلوم  ، لکھی پور ، اتر دیناج پور  بنگال
8 مدرسہ عینیہ اشرفیہ  چوپڑ ا ، اتر دینا ج  پور ، بنگال
9 عطائے رسول  مال ہٹی ، جلپائی گوڑی بنگال
10 مدرسہ لکھی پاڑہ  ٹی گارڈن، جلپائی گوڑی، بنگال
11  مدرسہ اشرفیہ  اشرف نگر ، سلی گوڑی ، دار جلنگ ، بنگال
                                      ( اشر ف الاولیا  حیا ت خدمات، ص: 107، مصنف مفتی کمال الدین مصباحی۔)س
وفات  ـــ21 /ذوالقعدہ / 1418 ــــ بمطابق    20 / مارچ  1998 ــــ بروز جمعہ، رات گیارہ  بج کر 3 منٹ پر شہر کولکاتا میں رشدو  ہدایت کا یہ چراغ بچھ گیا،
تجہیز وتکفین ۔ آپ کے جسد ا طہر کو   وصال کے دوسرے دن بذریعہ ہوا ئی جہاز  لکھنو لایا گیا ۔  وہاں سے  بذیعہ ایمبو لنس کچھوچھہ شریف  لایا گیا ۔ تجہیز وتکفین کا عمل پورا ہو نے کے بعد  جناز کا اعلان ہوا ۔ آپ کی نماز   دو با ر ہوئی ۔ پہلی بار  شیخ اعظم  حضر ت  علامہ  سید شاہ اظہار  اشرف  علیہ الرحمہ نے  پڑھا ئی ،  اور دوسری بار تا ج الاولیا ء  حضر ت علامہ سید شاہ  جلال الدین  اشرف اشرفی  نے پڑ ھائی۔ وصیت کے مطابق  حضرت   مخدومہ رحمۃ اللہ علیھا  کے قرب میں  آپ کی تدفین عمل میں آئی ۔
 ( نوٹ  : اس مضمون کو حضور اشرف الاولیا حیات و خدمات  ( مفتی کمال الدین  مصباحی)، اور ماہنامہ  غوث العالم  کا اشرف الاولیا نمبر سے  تیار کیا گیا  ہے  )
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں