حضور اشرف الاولیاء تقوی طہارت کے آئینے ! مولانا دانش علاںٔی M . Danish Alam




!حضور اشرف الاولیاء تقوی طہارت کے آئینے میں 



 مولانا دانش علاںٔی 


ذبدة العارفین، قدوة السالکین، سید المناظریں، منبع فیوض رحمانی ،فاتح کنوز عرفانی متبع شریعت و طریقت صاحب تقوی و طہارت، عالم ربانی پیر لا ثانی نبیرہ اعلی حضرت اشرفی ، شہزادہ تاج الاصفیا ، اشرف الاولیا حضرت علامہ سید شاہ ابو الفتح  محمد مجتبی اشرف اشرفی جیلانی قدس سرہ النورانی  کی ذات والا صفات کو اس زاویے سے دیکھا جائے تو آپ کی پوری زندگی تقوی و طہارت کی آئینہ دار ہے اور شریعت مصطفی و سنت مصطفی علیہ التحة والثنا کی پابندیوں سے آراستہ ہے،آپ تقوی ہی نہیں بلکہ ورع کی منزل بلند پر فائز تھے اور ان اولیاءه الا المتقون کے مطابق متقی کامل ولی و عارف تھے۔

تقوی کے حوالے سے  قران کریم ارشاد فرماتا ہے  "ان اكرمكم عند الله اتقاكم"
اس آیت تطہیر کی تفسیر صاحب ابن کثیر یوں کرتے ہیں کہ  احمد رحمة الله عليه نے درة  بنت ابو لہب سے روایت کیا ہے کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم منبر شریف پر جلوہ افروز تھے کسی نے بار گاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم  لوگوں میں سب سے بہترین کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا: "سب سے بہترین وہ ہے جو سب سے بڑا قاری،تقوی میں سب سے بڑھ کر اور امر المعروف نہی عن المنکر کرنے والا ہے ارو سب سے زیادہ صلح رحمی کرنے والا ہے"۔

اس آیت قرآنی و حدیث نبوی کی روشنی میں جب ہم حضور اشرف الاولیا علیہ الرحمہ کی مقدس زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ کی  ذات بالکل اس فرمان نبوی پر گھڑی اترتی ہے۔

 آپ کا شمار بند و پاک کے بڑے بڑے قاری قرآن کی صف کی میں  ہوتا ہے، آپ کا عربی لہجہ اس قدر دلفریب تھا کہ  ایک دفعہ آپ اپنے والدین کریمین کو حج بیت  اللہ کے لۓ  ممبئ چھوڑنے تشریف لائیں اس وقت آپ کی ملاقات حج ایک معلم ہوجاتی ہے جو کہ آپ کے داد حضور( حضور اعلی  اشرفی میاں علیہ الرحمہ ) کے مریدین میں سے تھے  وہ معلم آپ سے کچھ دیر ہم کلام ہوکر اتنا متاثر ہوجا تا ہے کہ آپ کو آپ اپنے ساتھ زیارت حرمین طیبین لے جانے کی خواہش ظاہر کرتا ہے اور حج بیت اللہ لےجانے پر بضد ہوجاتا ہے  اس طرح آپ اپنی زنگی کا پہلا حج ادا فرماتے ہیں، آپ کا انداز تلاوت  اتنا دلکش تھا کہ جس وقت تلاوت فرما تے تو موجودین پر عجب سی کیفیت طاری ہو جایا کرتی تھی،

تقوی و پرہیز گاری میں آپ کی مثال نہیں آپ کے ہم عصر علما و مشائخ نے بھی  آپ کی پرہیز گاری کو سراہایا  ہیں اور آپ کے اسی تقوی و طہارت کو دیکھ کر علما اہل سنت اور عوام اہل سنت آپ کو اشرف الاولیا جیسے عظیم لقب سے یاد کرتی ہیں

آپ اپنے وقت کے عظیم داعی اسلام اور مبلغ دین متین تھے آپ کی دعوتی خدمات کے ذریعہ  بند و بیرون ہند کے لاکھوں گم گشتگان راہ کو راہ ہدایت نصیب ہوئی،آپ ہمیشہ اپنی تقریروں میں لوگوں کو امر با المعروف نہی عن المنکر کا حکم صادر فرما تے اور نے اس کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔


   باب صلح رحمی میں تو آپ منفرد المثال معلوم ہوتے ہیں  کیوں کہ صلح رحمی تو  آپ کے اند کوٹ کوٹ کر بھرا پڑا تھا۔

سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرما تے ہیں: " کرامةالولي  استقامة فعله علی قانون النبي " ترجمہ: " ولی کی کرامت یہ ہے کہ اس کا فعل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و قانون کے مطابق ہو" ۔
امام ربانی مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ ارشاد فرما تے ہیں: " اگر کوئی شخص ہتھیلی میں سرسو جما کر اور ہوا اڑ کر بھی دیکھاۓ اور اس کا عمل شریعت کے مطابق نہ ہو تو وہ ہر گز اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا" ۔
بزرگان دین کے ان اقوال و ارشاد کی روشنی میں جب ہم حضور اشرف الاولیا علیہ الرحمہ کی پاکیزہ زندگی کو دیکھتے ہیں تو ہم پہ یہ بات منکشف ہوجاتی  ہے کہ آپ کی ذات میں  ولایت کے تمام اوصاف حمیدہ موجود تھے یہ ہی  وجہ تھی کہ آپ اپنے مانے اور چاہنے والے بلکہ تمام مسلمان کو شریعت مصطفی پر چلنے  کا درس دیتے رہے اور عملی طور پر بھی اسے کر کے دیکھاتے رہے ، آپ کی زندگی نہایت پاک صاف اور مقدس تھی، آپ کا لیل و نہار قرآن و سنت کے  مطابق تھا آپ  ظاہری  باطنی دونوں میں یکساں رہا کرتے تھے، اکل حلال و صدق مقال آپ کا معمول تھا، اطاعت خدا وندی  اتباع سنت نبوی فرائض و واجبات کی پابندی ارتکاب محرمات سے اجتناب، ترک نفسانیت ،اور محافظت شریعت ان تمام اوصاف کے آپ جامع تھے۔
الغرض حضور اشرف الاولیا علیہ الرحمہ نے تقوی کی انتہائ بلندیوں کو چھو کر اللہ کی جانب سے تکریم کی منازل خاص پالی تھی ، روز مرہ کے معمولات ہو یا دنیاوی معمولات، عبادات یو یا عام مشغولیات، چلنا پھڑنا ہو یا مجلسی گفتگو، عالم خواب میں ہو یا عالم بیداری میں ہر چہار جانب ایک ایک بات میں تقوی کا دامن مظبوطی سے تھامے ہوۓ نظر آتے ہیں۔
ایک مرتبہ حضور اشرف الاولیا علیہ الرحمہ کسی سفر میں تشریف لے جاتے ہیں اس سفر مبارک آپ کے ولد سعید حضور تاج الاولیا بھی آپ کے ہمراہ ہوتے ہیں اچانک آپ کی طبیعت سخت علیل ہوجاتی ہے یہاں تک آپ پر غشی پر غشی طاری ہونے لگتی ہے تاریخ شاید کہ اس وقت بھی اس نازک حالت میں بھی حضور اشرف الاولیا علیہ الرحمہ اپنی ایک نماز بھی قضا نہیں ہونے دیتے ہیں۔
یہ تو صرف ایک واقعہ ہے اس طرح کے بہت سے واقعات آپ کے حیات پر بہار میں ملتے ہیں جس سے آپ کے اتباع شریعت اور تقوی و پرہیزگاری کا پتا چلتا ہے

ماخذ و مراجع
اشرف الاولیا حیات خدمات،
 اشرف الاولیا نمبر۔۔
Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

1 تبصرے:

  1. ما شا ء اللہ تعالی
    اللہ پاک آپ کے ادارے کو مزید ترقی عطا فرمائے

    جواب دیںحذف کریں