اشرف الاولیاءکی زندہ کرامت "مخدوم اشرف مشن " مفتی شمس تبریز علیمی قادریM.Shams Tabrez Alimi

اشرف الاولیاء کی زندہ کرامت'' مخدوم اشرف مشن''


ازقلم :محمدشمس تبریزقادری علیمی

صدرمفتی قادری دارالافتاء ،
دارالعلوم کلیمیہ رضویہ حفظ القرآن
عنایت پور مالدہ (مغربی بنگال)
رابطہ نمبر :7001063703
جب آتاہےمرے دل میں خیال مجتبیٰ اشرف٭ نظرمیں رقص کرتاہے جمالِ مجتبیٰ اشرف
چمکتاچاندساچہرہ جبیں رشک قمرجن کی٭کوئی کس طرح لائے گامثال مجتبیٰ اشرف
اللہ رب العزت نےانسانوں کی رشدوہدایت کے لئے ہرزمانے میں کچھ ایسے نفوس قدسیہ کوپیدافرمایاجنہوں نے دین اسلام کی نصرت وحمایت کواپناجزوزندگی بنایااورضلالت وگمراہی میں پھنسے انسانوں کوراہ راست پرچلناسکھایایہ وہ مقدس ہستیاں تھیں جنہوں نے تبلیغ دین متین کے لئے اپنی زندگی وقف کردیں۔حق گوئی وراست بازی جن کاشعارتھا،دنیاکی دولت وثروت اورجاہ وحشم انہیں اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی سے بازنہ رکھ سکی ۔انہیں برگزیدہ بندوں میں سے اشرف الاولیاء حضرت علامہ ومولاناسیدشاہ مجتبیٰ اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمۃ والرضوان کی ذات گرامی بھی ہےجن کی خدمات اورتبلیغ کی برکتوں سے بنگال وبہارکی سرزمین رشدوہدایت کے انوارسے جگمگااٹھی،بدعقیدوں کے قلوب واذہان کی تاریکیاں چھٹ گئیں اورگم گشتہ راہوں کوہدایت ورہنمائی کی دولت سرمدی نصیب ہوگئی۔
حضوراشرف الاولیاء علامہ سیدشاہ مجتبیٰ اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمۃ والرضوان غوث اعظم سیدناشیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل پاک سے تھے اورعلمی وروحانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔حضوراشرف الاولیاء علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت 26،ربیع الآخر1346ھ مطابق 23،اکتوبر،1927ء کوعلمی وروحانی ماحول کچھوچھہ شریف ،یوپی میں ہوئی۔آپ کاسلسلہ نسب اڑتیس واسطوں سے آقائے کائنات ﷺ تک پہنچتاہے۔آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت کچھوچھہ شریف میں قائم شدہ مدرسہ اشرفیہ میں ہوئی،ناظرہ قرآن مقدس سے لیکرشرح جامی تک کی تعلیم اپنی محنت شاقہ ،پرخلوص ذوق وشوق ،سعی پیہم اوراپنے اساتذہ کی مشفقانہ توجہات کی بدولت ان تمام کتابوں میں پوری مہارت اورکامل دسترس کے ساتھ حاصل کی۔مدرسہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مبارکپور،اعظم گڑھ یوپی تشریف لے گئے اورمرکزعلم وفن دارالعلوم اہل سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم میں داخلہ لیااوراسی ادارہ سے آپ نے تعلیم مکمل فرمائی اورتدریسی خدمات بھی انجام دیں۔
حضوراشرف الاولیاء علیہ الرحمہ جب سن بلوغ کوپہنچے توآپ کی نورانی وعرفانی پیشانی اورفضائل وکمالات اورخدادادصلاحیتوں کودیکھ کرآپ کے داداجان حضوراعلیٰ حضرت اشرفی علیہ الرحمہ نے سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ اشرفیہ میں آپ کوبیعت کیااوراجازت وخلافت سے نوازا،خاندانی روایات اورخانقاہی طریقہ کے مطابق آپ کے والدماجدمخدوم المشائخ تاج الاصفیاء حضرت علامہ سیدشاہ پیرمصطفیٰ اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ نے جملہ سلاسل حقہ ماذونہ خصوصاسلاسل اربعہ مشہورہ کی اجازت وخلافت مع تاج وجبہ عطافرمائی اورجملہ اورادووظائف اوراعمال خاندانی خاص کردعائے حیدری،دعائے سیفی،دعائے بشمخ،دعائے الف اورحزب البحروغیرہ کی اجازت مرحمت فرمائی اورآپ کواپناجانشین اورقائم مقام نامزدفرمایا۔
حضوراشرف الاولیاء علیہ الرحمہ دارالعلوم اشرفیہ مبارکپورمیں درس وتدریس کی خدمات میں مصروف تھے ابھی تعلیمی سال مکمل بھی نہیں ہواتھاکہ والدبزرگوارحضورتاج الاصفیاء علیہ الرحمہ کے مشاغل ومصروفیات اورتبلیغی اسفارکے مدنظرخدمات سے علاحدگی اختیارکرنی پڑی اورتبلیغی کاموں میں ہمہ تن مصروف ہوناپڑا۔احقاقِ حق وابطالِ باطل اوراحیائے سنت ،صوفیاء کرام اوراپنے والدگرامی کے مشن کوفروغ دینے میں مصروف ہوگئے۔دین مصطفوی ﷺکی نشرواشاعت اورمسلک اہل سنت وجماعت کے فروغ وارتقاء کے لئے ایشیاویورپ کے مختلف ممالک اورہندوستان کے مختلف صوبوں کاآپ نے سفرکیا،یوں توآپ کافیضان جمیع مسلمین کے لئے عام تھالیکن بنگال،بہار،اڑیسہ،آسام،گجرات،یوپی،ایم پی،مہاراشڑا،راجستھان،پنجاب،کرناٹک ،آندھراپردیش،سکم اوربیرون ہندبھوٹان،بنگلہ دیش،پاکستان وغیرہ کے مسلمان آپ کے فیوض وبرکات سے زیادہ مستفیض ومستنیرہوئے ہیں۔دین محمدی ﷺکی حفاظت وصیانت کے لیے کئی جگہوں پرمدرسے قائم کئے،کہیں اپنے رب الارباب کی عبادت کے لئے مسجدیں تعمیرفرمائی،کہیں تصفیہ قلب اورتزکیہ نفس کے لئے خانقاہوں کی تعمیرکی،اورکہیں دین اسلام اورمسلک اہل سنت وجماعت کوکسی نے اپنے اعتراضات کانشانہ بنایااورانگشت نمائی کی تواپنی خداددادصلاحیتوں کے ذریعے ان سے مقابلہ کیااوردشمنان دین کودنداں شکن جواب دیا،جس سےکثیرتعدادمیں گمراہ لوگوں نے اپنے باطل عقائداورغلط نظریات سے توبہ واستغفارکیااورجنتی گروہ میں شامل ہوگئے۔
حضوراشرف الاولیاء علیہ الرحمہ کے تبلیغی سفرکاخاص مقصددین وسنیت کی ترویج واشاعت اورمخدومی مشن کافروغ وارتقاء تھا۔اشاعت دین متین کے اہم مراکز اورمضبوط قلعے مدارس اسلامیہ ہی ہیں اوردینی علوم کے حقیقی مبلغ اوراسلام کے سچے ترجمان ہیں ۔مدارس کی سرپرستی اورنگرانی یہ ایک اہم کام اورعظیم ذمہ داری ہے جوہرکسی کے بس کی بات نہیں ،کیونکہ مدرسوں کے عروج وزوال ،بلندی وپستی میں سرپرستوں کاکلیدی رول ہواکرتاہے۔اس اہم فریضہ کوحضوراشرف الاولیاء علیہ الرحمہ نے نہایت حسن وخوبی کے ساتھ نبھایااورمتعددمدارس اسلامیہ کی سرپرستی کاوزن نہ صرف اپنے کاندھوں پراٹھایابلکہ دامے ،درمے ،قدمے ،سخنے ہرطرح سے آپ نے ان کاتعاون بھی کیا۔
مخدوم اشرف مشن کا قیام :پنڈوہ شریف جوایک زمانے میں علم وحکمت اوررشدوہدایت کاعظیم سرچشمہ تھاجہاں ایک وقت میں ایک ساتھ سات سوعلماء کرام حضورمخدوم العالم کی بارگاہ میں زانوئے ادب تہہ کیاکرتے اورعلمی مذاکرے ومحادثے کرتے ہوئے بادہ علم وعرفان سے سیراب ہواکرتے تھے۔جہاں وقت کے عظیم بزرگوں نے طویل عرصے تک چلہ فرمایااوراعلیٰ مراتب ودرجات سے ہمکنارہوئے تھے،اختصارایہ کہ پنڈوہ شریف ایک زمانہ میں علم وحکمت اوررشدوہدایت کاعظیم مرکزتھا،لیکن مرورِایام کے ساتھ ایک ایساوقت بھی آیاکہ عروج وارتقا ء،پستی اورتنزلی میں بدلنے لگااورآہستہ آہستہ روشنی کی جگہ پرتاریکی نےقبضہ جمالیا ایسی نوبت آگئی کہ یہاں کے مسلمان بزرگانِ دین کی تعلیمات وپیغامات سے منحرف ہوکرکفروشرک کے رسومات سے قریب ہونے لگے تھے ،ایسے عالم میں پنڈوہ میں آرام فرما اولیاء کرام کی جانب سے ایک ایسی ذات کاانتخاب ہواجسے زمانہ حضور اشرف الاولیاء کے لقب سے پہچانتاہے۔آپ جب بھی بارگاہ مخدوم العالم شیخ علاء الحق والدین گنج نبات ابن اسعدلاہوری پنڈوی رضی اللہ عنہ میں حاضرہوتے اوروہاں کے حالات کامشاہدہ کرتے توپنڈوہ کی سات سوسالہ قدیم تاریخ آپ کے ذہن وفکرمیں گردش کرنے لگتی ،چونکہ آپ ایک صاحب دل درویش تھے ان بزرگان دین کی پرانی روایات کوپھرسے زندہ کرناچاہتے تھے اوربہاروبنگال کے لوگوں کوان نفوس قدسیہ کے انواروتجلیات اورفیوض وبرکات سے مستفیض کرناچاہتے تھے ان ہی ضروتوں اورتقاضوں کومدنظررکھتے ہوئے جامعہ جلالیہ علائیہ اشرفیہ معروف ب'' مخدوم اشرف مشن'' کے نام سے ایک ادارہ کی بنیادرکھی ۔انڈیاکی سرزمین پربے شمارچھوٹے بڑے دینی ادارے موجودہیں اوراپنی خدمات سے معروف ہیں۔خصوصایوپی میں مدارس کی کثیرتعداددیکھ کریہ کہاجاتاہے کہ وہاں دینی اداروں کی کھیتیاں ہوتی ہیں۔کہیں کہیں اتنی زیادہ تعدادمیں ادارے قائم ہیں کہ وہاں اس کی چنداں ضرورت نہیں ،تعلیم وتربیت کافقدان اس قدرہے کہ آج مسلمان ایسے مکاتب ومدارس کی عمارتوں کودیکھ کربول پڑتے ہیں کہ یہ ادارے دین کے فروغ کے لئے نہیں ہیں بلکہ ذریعہ معاش کابہترین مرکزہیں ۔اس تناظرمیں اگرحضوراشرف الاولیاء علیہ الرحمہ کے قائم کردہ ادارہ کودیکھاجائے تواہل وفکرودانش یہ بولنے پرمجبورہوں گے کہ واقعی یہ ادارہ ایک ایسی جگہ قائم ہے جہاں اس کی اشدضرورت تھی۔حضوراشرف الاولیاء اگرچاہتے تودیگرمشائخ کی طرح کچھوچھہ مقدسہ میں ایک دینی ادارہ کی بنیادرکھتے اورعروج وارتقاء کی منزل پرگامزن کردیتے لیکن حضرت نے ایسانہیں کیا،کیونکہ آپ ناموری اوردکھاواکے لئے کچھ کرنانہیں چاہتے تھے ۔آپ نے جب بہاروبنگال ،اڑیسہ ،قرب وجوارکے صوبے کامعائنہ فرمایاتودیکھاکہ سب سے زیادہ جہالت اورگمراہی اوربدعقیدگی ،اورغریبی ،مفلسی ،پسماندگی کی مارجھیلنے والاصوبہ بنگال اوربہارہے توآپ نے یہاں کے لوگوں کی رشد و ہدایت کے لئے یہ ادارہ قائم فرمایا۔ایسے نازک حالات میں اس ادارہ کی بنیادڈالی گئی کہ ظاہری طورپراسباب موجودنہیں تھے مگرتوکل علی اللہ اوررسول کائنات ﷺکے وسیلے پرمکمل وثوق تھا۔
12،شوال 1993ء کوحضوراشرف الاولیاءعلیہ الرحمہ نے اپنے مریدین ومتوسلین اورمعتقدین کی جھرمٹ میں مخدوم اشرف مشن کی بنیادرکھی۔آج اس ادارہ کی پرشکوہ اورفلک بوس عمارتیں ہرآنے والے کودعوت نظارہ دے رہی ہیں،پنڈوہ شریف جیساسنسان ،ویران خطہ اوربے آب وگیاہ صحراپھرسے گہوارہ علم وعرفان اورچمنستان حکمت ومعرفت بن گیاہے اورقدیم سات سوسالہ دینی وروحانی تعلیم وتربیت کی نمائندگی کررہاہے،عقلیں محوِحیرت ہیں اورنگاہیں محواستعجاب ہیں کہ اتنی قلیل مدت میں یہ سب کچھ کیسے ہوگیا؟۔۔۔۔۔۔
مشن سے آوازآتی ہے بھلایہ سب کچھ کیوں نہ ہوں ،کیونکہ حضوراشرف الاولیاء علیہ نے اس ادارے کواپنے خونِ جگرسے سینچاہے ۔مخدوم اشرف مشن کی ترقی اعلان کررہی ہے کہ یہ سب فیضان ہے مرشدمخدوم اشرف جہانگیر سمنانی اورسیدجلال الدین تبریزی ودیگربزرگانِ بہار و بنگال کا اور اور ان سب کی روحانیت کاسرچشمہ ہے۔آج جب کوئی پنڈوہ شریف پہنچ کرحضور اشرف الاولیاء علیہ الرحمہ کی ولایت وکرامت کے بارے میں غوروفکرکرتاہے اورمشن کی عالیشان عمارت اوریہاں کے فارغین جو انڈیا کے مدارس اوریونیورسیٹوں نیزجامع ازہرمصرمیں بہترین کارکردگی کامظاہرکررہے ہیں انہیں دیکھنے کے بعد لوگ تعجب کرتے ہیں کہ اتنی قلیل مدت میں یہ کیسے ہوگیا؟ تودل بول پڑتاہے حیرت واستعجاب کی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ مخدوم اشرف مشن حضوراشرف الاولیاء کی ایک زندہ کرامت، اور اولیاء اللہ کے فیوض وبرکات کا منبع ہے۔حضور اشرف الاولیاء علیہ الرحمہ کومشن سے حددرجہ محبت تھی اسی لئے وصال سے قبل فرمایاتھا: مشن کودیکھتے رہومیں تمہیں دیکھتارہوں گا۔
وصال پُرملال: آ پ نے21،ذوالقعدہ 1418ھ مطابق20، مارچ 1998ءبروزجمعہ مبارکہ رات 11بج کر3منٹ پرکولکاتاہی میں داعی اجل کولبیک کہتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔اناللہ واناالیہ راجعون۔
ابررحمت ان کے مرقدپرگہرباری کرے
حشرتک شان کریمی نازبرداری کرے

⭐⭐⭐⭐⭐

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں