شہادت حسنین کا پیغام: انسانوں کے نام ! M. Shams tabrez

 !شہادتِ حسنین کاپیغام،انسانوں کے نام



* ازقلم:محمدشمس تبریزعلیمی ۔مدارگنج ،ارریہ ،بہار ۔

نہ یزیدکاوہ ستم رہانہ وہ ظلم ابنِ زیادکا٭ جورہاتونام حسین کاجسے زندہ رکھتی ہے کربلا

دنیاکی اس وسیع وعریض فضامیں اشرف المخلوقات حضرت انسان کوجب سے پیداکیاگیا،اولادآدم کے باغ میں کتنی باربہارآئی لیکن الگ الگ حوادثات کاہمیشہ سامناکرناپڑا،طرح طرح کے انقلاب آئے،ادب وتہذیب نے شکلیں تبدیل کی ،ہزاروں لڑائیاں وجودمیں آئیں ،قتلِ انسانی سے کتنے خون کے دریارونماہوئے،کئی ملک نیست ونابودہوگئے،آبادیاں ویران ہوگئیں۔ان سب کے باوجوددنیانے اسے ایسافراموش کردیا کہ تاریخ کے صفحات کے سوااس کاکہیں پتہ اورنشان تک نہیں ملتاہےلیکن تاریخ گواہ ہے کہ اس روئے زمین پرایک ایسامعرکہ پیش آیا جسے سن کرساری دنیابے چین  اورہرقلب مضطرب ہوجاتاہے وہ ہے حسنین کریمین اورآپ کے رفقاء کرام کی عظیم شہادت ۔

حسنین:حضرت امام حسن اورامام حسین رضی اللہ عنہماکومختصرجملہ میں حسنین کہاجاتاہے۔امام حسن رضی اللہ 15،رمضان المبارک 3،ہجری میں پیداہوئے۔رسول اللہ ﷺنے بحکم الٰہی آپ کانام حسن رکھااورکنیت ابومحمد،پھرپیدائش کے ساتویں دن آپ کاعقیقہ کیا،بال منڈوائے اورحکم فرمایاکہ بالوں کے وزن برابرچاندی صدقہ کی جائے۔حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بہت سی حدیثیں واردہیں۔حاکم کی روایت ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس اعلیٰ قسم کے اونٹ رہنے کے باوجودبغیرسواری کے پیدل پچیس حج ادافرمائے۔ آپ سخاوت میں بے مثال تھے کہ بسااوقات ایک ایک شخص کوایک ایک لاکھ درہم عطافرمادیتے تھے۔ابن سعدعلی بن زیدسے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے تین بارآدھاآدھامال خداکی راہ میں دے دیااوردومرتبہ اپناپورامال اللہ کے راستے میں خرچ کردیا۔آپ بہت بڑے بردباراورحلیم الطبع تھے۔آپ کوظالموں کی جانب سے پانچ مرتبہ زہرہلاہل دیاگیامگرہربارخدائے تعالی کی رحمت اوررسول پاک کی برکت سے زہرکااثرزائل ہوجاتا،آخری بارجوزہردیاگیااس سے آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ وفات کے وقت آپ کے بھائی سیدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے زہردینے والے کے متعلق دریافت فرمایا؟ تو آپ نے فرمایا:کیاتم اسے قتل کروگے؟ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:بیشک میں اسے قتل کروں گا۔آپ نے فرمایا:جس کے بارے میں میراگمان ہے اگرحقیقت میں وہی زہردینے والا ہے توخدائے تعالی حقیقی بدلہ لینے والاہےاوراس کی پکڑبہت ہی سخت ہے۔اورجس کے بارے میں میراگمان ہے اگروہ زہردینے والانہیں تومیں نہیں چاہتاکہ میری وجہ سے کوئی بے گناہ قتل کیاجائے۔

قارئین !حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کافضل وکمال کتنابلندوبالاہے کہ آپ کوظالموں نے زہرپلادیاجس سے سخت تکلیف میں مبتلا ہوئے ،قلب وجگرٹکڑے ٹکڑے ہوگیے ،آپ بے قراری میں ماہی بے آپ کی طرح تڑپتے رہے،مسلسل قے ہوتی رہی اورایسادست جاری ہوا جس کے ساتھ جگراورانتڑیوں کے ٹکڑے کٹ کرگرنے لگے اورجانکنی کاعالم ہے مگراس وقت بھی سچا،عادل بادشاہ نے اپنے عدل وانصاف کاکبھی نہ مٹنے والانقش تاریخ کے صفحہ پرثبت فرمادیااورآپ کی حددرجہ احتیاط نے اجازت نہیں دیاکہ جس کے بارے میں گمان ہے اس کانام تک لیناگواراکیاجائے۔ واہ !!!!!! میرے امام تیری احتیاط کوسلام !

قارئین کرام !آج کے اس پُرفتن زمانہ کے لوگوں کومیرے امام نے ایک ایسا درس دیاہے جس پرعمل کرنے سے بہت سارے معاملات آسانی سے حل ہوجائیں گے ۔ذراآج کے انسانوں کاجائزہ لیاجائے تویہ بات روزِروشن سے زیادہ عیاں ہوجاتی ہے کہ آج وہم وگمان کی وجہ سے انسان کی زندگی اجیرن ہوکررہ گئی ہے۔جب کہ مذہبِ اسلام نے سختی کے ساتھ اس سے روکاہے۔سورہ حجرات کی آیت 12میں بکثرت بدگمانیوں سے دوررہنے کاحکم دیاگیاہے۔ آقاکریمﷺکافرمان ہے :بدگمانی سے بچوکیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔مشاہدات بتارہے ہیں کہ بدگمانی کرنے والااوراپنی بدگمانی کے مطابق افواہیں پھیلانے والاشخص معاشرے کابدترین مجرم ہے کہ وہ اپنی اس حرکت سے مسلمانوں کوبے آبروکرتاپھرتاہے۔ذراسوچیں کہ یہ بدگمانی ہی ہے جومسلمانوں کی دل آزاری اور ان میں باہمی منافرت وعداوت کاباعث بنتی ہے۔اگرکسی کووہم وگمان کی ایسی بیماری ہوجائے تواس کی کیاکیفیت وحالت ہوجائے گی۔حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت آج کے انسانوں کویہ پیغام دے رہی ہے کہ صرف وہم وگمان کی وجہ سے معاشرے کے امن وامان کوبربادمت کرو،جب تک کسی معاملہ میں کامل واکمل یقین نہ ہواس کے متعلق فیصلہ مت کرو! ورنہ کفِ افسوس ملناپڑے گا۔

سیدالشہداء حضرت امام حسین  رضی اللہ عنہ کی ولادت 5،شعبان المعظم 4ہجری مدینہ منورہ میں ہوئی۔آپ کے فضائل میں بکثرت احادیث واردہیں۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے ساتھ ہی شہادت کی شہرت بھی عام ہوچکی تھی ۔لیکن اس شہادت کی وجہ یہ ہے کہ صحابی رسول حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا، یزیدباپ کی وفات کے بعدجونہی تخت نشین ہوا، اپنی بیعت کے لئے ہرطرف خطوط وحکمنامہ روانہ کردیا۔خاص کرمدینہ کے گورنرولیدبن عقبہ کولکھاکہ ہرخاص وعام سے میری بیعت لواورحسین بن علی ،عبداللہ بن زبیر،عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہم سے پہلے بیعت لوان سب کوایک لمحہ بھی مہلت نہ دو۔امام حسین رضی اللہ عنہ اچھی طرح واقف تھے کہ اگریزیدکی بیعت کرلی تووہ آپ کی بڑی قدومنزلت کرے گا اوردنیاکی بے شماردولت آپ کے قدموں میں ڈھیرکردے گا، اورآپ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ بیعت کے انکارسے یزیدبدبخت جان کادشمن اورخون کاپیاساہوجائے گا۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ ان سب باتوں کوجانتےہوئے آپ نے یزیدکی بیعت کیوں نہ کی؟؟؟

اس کے لیے پہلے یہ جان لیناضروری ہے کہ یزیدکیساانسان تھا؟ تاکہ بیعت کے متعلق جنم لینے والے شکوک وشبہات ختم ہوجائیں۔یزیدحضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کابیٹاجس کی کنیت ابوخالدہے۔امیہ خاندان کایہ بدبخت،بدباطن اورخاندان کے لیے شرم وعارکاباعث،25ہجری میں پیداہوااس کی ماں کانام میسون بنت بحدل کلبی ہے۔یزیدبہت موٹا،بدنما،بدخُلق،فاسق وفاجر، شرابی،بدکار،ظالم اوربے ادب وگستاخ تھا۔ اس کی بدکاریاں اوربیہودگیاں انتہاکوپہنچ گئی تھیں۔حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اللہ عنہماکابیان ہے کہ یزیدپرہم نے اس وقت حملہ کی تیاری کی جب ہم لوگوں کواندیشہ ہوگیاکہ اس کی بدکاریوں کے سبب ہم پرآسمان سے پتھروں کی بارش ہوگی۔اس لیے کہ اس کی وجہ سے فسق وفجورکایہ عالم تھاکہ لوگ اپنی ماں ،بہنوں اوربیٹیوں سے نکاح کرنے لگے تھے۔شرابیں کھلے عام پی جارہی تھیں اوردیگرمنہیات شرعیہ کاعلانیہ رواج ہوگیاتھا اورلوگوں نے نمازترک کردی تھی۔یزیدنے تخت نشیں ہوتے ہی زمین میں فساد پھیلایا،حرمین طیبین وخودکعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں۔مسجدنبوی میں گھوڑے باندھے ان کی لیداورپیشاب منبراطہرپرپڑے۔ تین دن مسجدنبویﷺ بے اذان ونمازرہی۔ مکہ ومدینہ ،حجازمیں ہزاروں جلیل القدرصحابہ وتابعین بے گناہ شہیدکئے ۔کعبہ معظمہ پرپتھرپھینکے،غلاف کعبہ پھاڑااورجلایا۔مدینہ طیبہ کی پاک دامن پارسائیں تین رات ودن اپنے خبیث لشکرپرحلال کردیں۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی غیرت وحمیت اورتقویٰ وپرہیزگاری نے اجازت نہ دی کہ اپنی جان بچانے کی خاطرنااہل کے ہاتھ پربیعت کرلیں اورنواسہ رسول ہوکراسلام ومسلمان کی تباہی کی پروا نہ کریں۔کیونکہ اگرآپ بیعت کرلیتے تویزیدکی بدکاری وحرام کاری کے جوازکے لیے یہ بڑی سندہوجاتی اوراسلام کانظام درہم برہم ہوجاتا اوردین میں ایسافسادبرپاہوتاکہ جس کادورکرنابعدمیں ناممکن ہوجاتا۔

یہی وجہ ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنےبچوں، جوانوں اور رفقاء کی قربانیاں پیش کردی لیکن فاسق کی بیعت قبول نہ کی ۔

خلاصہ تحریر :حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت نےپوری دنیا انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ حلم اور صبر کا دامن کسی بھی حالت میں نہ چھوڑیں چاہے جان جارہی ہو، کیونکہ حلم و بردباری اوربرداشت کرنے سے آپسی امن و شانتی، اتحاد و اتفاق قائم رہے گا، ساتھ ہی سب سے اہم پیغام یہ دیا کہ کسی پر محض وہم وگمان کی بنیاد پر کوئی الزام نہ لگائیں جب تک کامل یقین نہ ہو جائے ۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت تمام انسانوں کو عظیم پیغام دے رہی ہے کہ وقت کے فرعونوں اور ظالم حکمرانوں سے خائف اور مرعوب ہونے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہمیشہ تم حق کی آواز بلند کرو چاہے اس کے لیے جان کی بازی لگانی پڑے ۔اور مسلمانوں کے لیے عظیم پیغام یہی ہے کہ ہر حال میں مشیت خداوی پر راضی رہے اور دشمن کے نرغے میں رہ کر بھی فرائض و واجبات کو ترک نہ کرے ۔شہادت کا یہ پیغام ہے کہ انسان بیدار ہوجائے،ذلت و رسوائی کے بجائے عزت کے ساتھ مرجانا سیکھ لے، ایثاروقربانی، شہادت کے جذبوں کو اپنے دل و دماغ میں نقش کرلے اور ہمیشہ حق پر قائم رہے ۔

سمجھارہی ہے سب کو شہادت حسین کی*آزادی حیات کا یہ سرمدی اُصول۔

      چڑھ جائے سر تیرا کٹ کے نیزہ کی نوک پر * لیکن تو فاسقوں کی اطاعت نہ کر قبول۔

      ********

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں