Death and mankind! Islamic perspective: Md Firoz Alam

 *موت اور بنی آدم ! اسلامی نقطۂ نظر :*

م🖊:محمد فیروز عالم علاںٔی

mdfirozalam7869278692@gmail.com


       عربی زبان میں "دنیا"یا تو دُنُوْئَ ۃْ یا دَنَائَ ۃْ سے مشتق ہے، اس کے معنی ہیں:’’خسیس ہونا، کمینہ و ذلیل ہونا‘‘یا ’’دَنِیْئٌ‘‘ سے یا ’’دُنُوٌّ‘‘ سے ماخوذ ہے۔ اس کے معنی ہیں: کسی چیز کے قریب ہونا، کیونکہ دنیا آخرت کے مقابلے میں قریب ترین ہے، الطاف حسین حالی نے کہا ہے:

دنیائے دَنی کو نقشِ فانی سمجھو

رودادِ جہاں کو اِک کہانی سمجھو

پر جب کرو آغاز کوئی کام بڑا

ہر سانس کو عمر جاودانی سمجھو

 احادیثِ مبارکہ میں ہے:

  " حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا : تم دنیا میں ایسے رہو گویا پر دیسی ہو راہ چلتے مسافر [ سنن الترمذی وغیرہ میں ہے کہ اپنا شمار مردوں میں کرو ] حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما [ جب اس حدیث کو بیان کرتے تو ] کہتے : جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرو اور جب صبح کرو تو شام کے انتظار میں مت رہو ، اور اپنی حالت صحت میں بیماری کے لئے سامان کرلو اور اپنی زندگی میں موت کے لئے سامان کرلو" ۔


( صحيح البخاري :6414 ،الرقاق – صحيح ابن حبان :2/132 )


موت ایک ایسا عالمگیری سچ ہے کہ اس نے نسل انسانی کو شروع ہی سے پریشان و متجسس رکھا ہے۔ اور اس کے متعلق تصورات ہی ہماری زندگی جینے کا طریقہ تشکیل دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگرہم سمجھتے ہیں کہ موت محض ایک واہمہ ہے اور یہ کہ ہم اس کے بعد ہی \’بہت کچھ\’ کریں گے، تو موجودہ زندگی میں کچھ اچھا اور بڑا کرنا مشکل ہی ہے۔ اسی لیئے موت اور اس سے ملتے جلتے تصورات سے متعلق سوچنا بہت اہم ہے، یہ الگ بات کہ ہم عام طور پر اس موضوع پر بحث نہیں کرتے۔جبکہ صاحب کن فیکون کا ارشاد ہے "اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍؕ". اور ابن آدم کو ہوس دلایا ۔۔۔۔" وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ(۱۹)(ق:۱۹)۔۔۔

مسلمان موت کے تصوُّر کو ہرگِز اپنی زندگیوں سے اِخفا میں نہیں رکھ سکتے۔ انھیں تو سبق ہی یہی دیا گیا ہے کہ وُہ زندہ ہی موت کے ساتھ رہیں۔ اُن کے نزدیک زندگی اور موت کا تو ہے ہی چولی دامن کا ساتھ۔ مومن موت کو ہر لحظہ یاد رکھتا ہے۔مسلمانوں کو اسلام نے آگہی یہی دی ہے کہ جیون بھُگتانا ہے تو موت کو سینے سے لگائے رکھو۔ ہر دن، ہر آن، ہر لمحہ کی وہ تمھاری رفیق ہے:کثروا من ذکر ھاذ م اللذات ترجمہ ۔ لذتوں کو مٹانے والی( موت) کو بہت یاد کرو۔ (ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجا فی ذکر الموت ۴۷/۱۳۸، الحدیث ۲۳۱۴)

۸آیات پر مشتمل سورۃ التکاثر کے اہم مقاصد یہ ہیں کہ ہر شخص کو چاہئے کہ وہ دنیاوی زندگی اور اس کے وقتی آرام کو اپنا منزل مقصود نہ سمجھے کیونکہ اس دنیاوی فانی زندگی کے بعد ایک ایسی زندگی شروع ہونے والی ہے جہاں کبھی موت واقع نہیں ہوگی، جہاں کی راحت اور سکون کے بعد کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں ہر مسلمان کا یہ ایمان وعقیدہ ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب دنیا کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے گا، آسمان پھٹ جائے گا، سورج لپیٹ دیا جائے گا، ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر دنیا میں آنے والے تمام انس وجن کو اللہ کے دربار میں ایسی حالت میں حاضر کیا جائے گا کہ ہر نفس کو صرف اور صرف اپنی ذات کی فکر ہوگی ،اس ہوش رُبا وقت میں  یہ تقاضا سامنے ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔!!

ذہن میں تازہ کرو وُہ احساناتِ ربّی جو تم پر ہوئے اور اس دارِ فانی سے رُخصت ہونے سے پہلے پہلے جو تم نے وعدے وعید کیے اور حُقُوق و فرائض جو تم نے اپنے ذمہ لیے۔

اور یہ ادراک کہ الوہیّت و ربوبیّت میں خُدا کا کوئی ہمسر نہیں۔ وُہ واحد، احد ہے ، اور اس خُدائے واحد کا پیغمبر ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔۔۔۔

تب قرآن مجید کی یہ آیت ذہن و فکر میں گشت کرگی۔۔۔

"وَ إِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ أَشْهَدَهُمْ عَلی‏ أَنْفُسِهِمْ أَ لَسْتُ بِرَبِّکُمْ قالُوا بَلی‏ شَهِدْنا"

اے ابنِ آدم۔۔۔۔۔۔۔!!

ایک تیری چاہت ہے…. اور ایک میری چاہت ہے

مگر ہوگا وہی…. جو میری چاہت ہے!!

اگر تو نے خود کو سپرد کردیا اُس کے…. جو میری چاہت ہے

تو میں بخش دوں گا تجھ کو…. جو تیری چاہت ہے!!

اور اگر تونے نافرمانی کی اُس کی…. جو میری چاہت ہے

تو میں تھکا دوں گا تجھ کو اُس میں…. جو تیری چاہت ہے

اور پھر ہوگا وہی…. جو میری چاہت ہے

اے بنی آدم ذرا قیامت کی اس منظر کو یاد کر ۔۔۔۔۔۔ جہاں  ۔۔۔۔۔!

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷)وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) کی صدائیں ہر طرف گونجیں گی۔۔۔۔اللہ تعالی مکمل جلال اور غضب کے ساتھ جلوہ فگن ہوگا اور ہر انسان کا خود حساب لے گا ۔درمیان میں نہ کوئی پردہ حائل ہوگا اور نہ ترجمان کی ضرورت ہو گی ۔وہ اپنی عظمت اور ہیبت کے ساتھ جلوہ افروز ہوگا ‘میدان حشر کا لرزہ خیز منظر اور پھر خدا کا اس طرح جلا ل دیکھ کر انسان کانپ اٹھے گا اور اپنی مدد کے لئے دائیں بائیں دیکھے گا مگر وہاں اس کا صرف وہ عمل دکھائی دے گا جو اس نے دنیا میں کیا ہے اور نامۂ اعمال میں جمع ہے ‘سامنے جہنم کا عذاب ہوگا ۔اس وقت عذاب سے بچنے کے لئے صرف اس کا عمل ہو گا‘وہ اندر ہی اندر سوچ رہا ہوگا کہ اے کاش !دنیا میں رہ کر اور کچھ عمل کا ذخیرہ جمع کر لیا ہوتا تو آج ناکامی نہ ہوتی،

اے......! دنیا کے  مسافرو۔۔۔۔!

پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو "اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ"حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو محتاجی سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے‘‘۔

محترم قارئین! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنہری وصیت ونصیحت کو ہمیشہ مطمح نظر رکھیں، ا اللہ  عزوجل سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ سب کو ان نعمتوں کو آفتوں کے آنے سے پہلے قدر کرنے اور نیک اعمال کی بجاآوری کی توفیق دے، اور ہم سب کو حسن خاتمہ نصیب فرمائے ، آمین یارب العالمین ۔

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں