قربانی تقوی؛ خلوص و للہیت کا نام ہے M. Abdul Hadi

قربانی تقوی؛ خلوص و للہت کا نام ہے


محمد عبد الہادی سلیمیی✍️ 

( درجہ: مولوی الاول ، مدرسہ سلیمیہ فیض الاسلام کمرہٹی ، کولکاتہ ) 


قربانی کا مقصد جانور ذبح کرنا ہے مگر اس کی اصل روح تقویٰ اور اخلاص کی آبیاری ہے، قربانی کی قبولیت کاانحصار دکھلاوے پر نہیں بلکہ خالصیت پر ہوتا ہے، جہاں اخلاص نہ ہو وہاں قبولیت بھی نہیں ہوتی، اسوہ حضرت ابراہیم ؑ کی پیروی کا اصل مقصد جانور ذبح کرنا ،نفسانی خواہشات کی تکمیل اور دکھلاوا نہیں بلکہ طلب رضائے الٰہی ہے، قربانی کے ذریعے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، انبیائے کرام ؑ سے محبت،خلوص و ایثار کا جذبہ پراون چڑھتا ہے، قربانی کا اصل فلسفہ تقویٰ اور اللہ کی رضا کا حصول ہے، اگر اسی جذبے سے قربانی کی جائے تو یقیناًوہ بارگاہ الٰہی میں شرف قبولیت کی سند پاتی ہے، اللہ تعالیٰ کو قربانی کے جانور کا خون یا گوشت نہیں بلکہ قربانی دینے والے انسان کی نیت مطلوب ہوتی ہے جس کے ذریعے اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہوتا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ: 

" اللہ پاک کو  ہرگز نہ انکے گوشت پہنچتے ہیں نہ انکے خون ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تک بار یاب ہوتی ہے  "

یعنی آپ کا تقوی آپ کی نیک نیت  آپ کے اخلاق آپ کے مقاصد  پاک پروردگار کی بارگاہ میں پہنچتی ہیں۔ 

(القران الکریم پارہ ۱۷ صفحہ ۱۵ سورہ حج )

یعنی قربانی کرنے والے صرف نیت کے اخلاص اور شروط  تقوی کی رعایت سے اللہ کریم کو راضی کر سکتےہیں، 

لوگوں کو چاہیے کہ وہ رب قدیر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے قربانیاں کریں  اپنی وسعت کے اعتبار سے قربانی کا جانور خوب قیمتی ہو اور خوب فربہ ہوتو اور اچھی بات ہوگی 

ورنہ اپنی صلاحیت کے مطابق جو میسر ہو وہی کافی ہے بغیر کسی کراہت کے ۔۔۔۔۔! ساتھ ۔

     عیدالاضحیٰ کا معنی 

عید معنی خوشی  اور الاضحی کا معنی قربانی ہوتا ہے 

یعنی ایسی خوشی جو انسان کو اپنا قیمتی سرمایہ پاک رب کی بارگاہ میں قربان کر کے حاصل ہوتی ہے  اسی خوشی کا نام عید قربانی ہے 

مذہب اسلام میں یہ دین ایک عظیم الشان حیثیت  رکھتا ہے 

یہ حضرت  سیدنا  ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی سنت ہے

اور درد بھری عظیم یادگار  ہے 

اور یہ ایک بڑی  عبادت بھی ہے  جو کہ دسویں ذی الحجہ کو منایا جاتا ہے جس میں ہم مسلمان جانوروں کی قربانیاں کیا کرتے ہیں۔ 

 قربانی جہنم سے نجات اور رب ذوالجلال کو خوش کرنے کا عظیم ذریعہ ہے ،قربانی نجات اور خلوصِ نیت اور تقوی بھی ہیں،یہ قربانی اللہ تبارک و تعالی سے قریب تر ہونے کا عظیم بھی رکھتا ہے

قرآن پاک میں  رب کا فرمان  نیت اور تقوی کی جانب اشارہ فرماتے ہوئے  ارشاد فرمایا ہے" 

نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اُس نے ان کو تمہارے لیے اِس طرح مسخّر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو اور اے نبیؐ، بشارت دے دے نیکو"

(تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:)



قربانی پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو

ارشاد ہوتا ہے کہ قربانیوں کے وقت اللہ کا نام بڑائی سے لیا جائے۔ اسی لئے قربانیاں مقرر ہوئی ہیں کہ خالق رازق اسے مانا جائے نہ کہ قربانیوں کے گوشت وخون سے اللہ کو کوئی نفع ہوتا ہو۔ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے غنی اور کل بندوں سے بےنیاز ہے۔ جاہلیت کی بیوقوفیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے۔ یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے، مسلمان ہو کر صحابہ (رض) نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تو تقوی کو دیکھتا ہے اسی کو قبول فرماتا ہے اور اسی پر بدلہ عنایت فرماتا ہے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا نہ اس کی نظریں تمہارے مال پر ہیں بلکہ اس کی نگاہیں تمہارے دلوں پر اور تمہارے اعمال پر ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ خیرات وصدقہ سائل کے ہاتھ میں پڑے اس سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر ٹپکے اس سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ خون کا قطرہ الگ ہوتے ہی قربانی مقبول ہوجاتی ہے واللہ اعلم۔ عامر شعبی سے قربانی کی کھالوں کی نسبت پوچھا گیا تو فرمایا اللہ کو گوشت وخون نہیں پہنچتا اگر چاہو بیچ دو ، اگر چاہو خود رکھ لو، اگر چاہو راہ للہ دے دو ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے قبضے میں دیا ہے۔ کہ تم اللہ کے دین اور اس کی شریعت کی راہ پا کر اس کی مرضی کے کام کرو اور نامرضی کے کاموں سے رک جاؤ۔ اور اس کی عظمت وکبریائی بیان کرو۔ جو لوگ نیک کار ہیں، حدود اللہ کے پابند ہیں، شریعت کے عامل ہیں، رسولوں کی صداقت تسلیم کرتے ہیں وہ مستحق مبارکباد اور لائق خوشخبری ہیں۔ (مسئلہ) امام ابوحنیفہ مالک ثوری کا قول ہے کہ جس کے پاس نصاب زکوٰۃ جتنا مال ہو اس پر قربانی واجب ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شرط بھی ہے کہ وہ اپنے گھر میں مقیم ہو۔ چناچہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ جسے وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ اس روایت میں غرابت ہے اور امام احمد (رح) اسے منکر بتاتے ہیں۔ ابن عمر فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برابر دس سال قربانی کرتے رہے۔ (ترمذی) امام شافعی (رح) اور حضرت احمد (رح) کا مذہب ہے کہ قربانی واجب وفرض نہیں بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا اور کوئی فرضیت نہیں۔ یہ بھی روایت پہلے بیان ہوچکی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی تمام امت کی طرف سے قربانی کی پس وجوب ساقط ہوگیا۔ حضرت ابو شریحہ (رح) فرماتے ہیں میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے پڑوس میں رہتا تھا۔ یہ دونوں بزرگ قربانی نہیں کرتے تھے اس ڈر سے کہ لوگ ان کی اقتدا کریں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی سنت کفایہ ہے، جب کہ محلے میں سے یا گلی میں سے یا گھر میں سے کسی ایک نے کرلی باقی سب نے ایسا نہ کیا۔ اس لئے کہ مقصود صرف شعار کا ظاہر کرنا ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان عرفات میں فرمایا ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے اور عتیرہ ہے جانتے ہو عتیرہ کیا ہے ؟ وہی جسے تم رجبیہ کہتے ہو۔ اس کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔ حضرت ابو ایوب (رض) فرماتے ہیں صحابہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں اپنے پورے گھر کی طرف سے ایک بکری راہ للہ ذبح کردیا کرتے تھے اور خود بھی کھاتے، اوروں کو بھی کھلاتے۔ پھر لوگوں نے اس میں وہ کرلیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ (ترمذی، ابن ماجہ) حضرت عبداللہ بن ہشام اپنی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کیا کرتے تھے۔ (بخاری) اب قربانی کے جانور کی عمر کا بیان ملاحظہ ہو۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں نہ ذبح کرو مگر مسنہ بجز اس صورت کے کہ وہ تم پر بھاری پڑجائے تو پھر بھیڑ کا بچہ بھی چھ ماہ کا ذبح کرسکتے ہو۔ زہری تو کہتے ہیں کہ جزعہ یعنی چھ ماہ کا کوئی جانور قربانی میں کام ہی نہیں آسکتا اور اس کے بالمقابل اوزاعی کا مذہب ہے کہ ہر جانور کا جزعہ کافی ہے۔ لیکن یہ دونوں قول افراط والے ہیں۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اونٹ گائے بکری تو وہ جائز ہے جو ثنی ہو۔ اور بھیڑ کا چھ ماہ کا بھی جائز ہے۔ اونٹ تو ثنی ہوتا ہے جب پانچ سال پورے کرکے چھٹے میں لگ جائے۔ اور گائے جب دو سال پورے کرکے تیسرے میں لگ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین گزار کر چوتھے میں لگ گیا ہو۔ اور بکری کا ثنی وہ ہے جو دو سال گزار چکا ہو اور جذعہ کہتے ہیں اسے جو سال بھر کا ہوگیا ہو اور کہا گیا ہے جو دس ماہ کا ہو۔ ایک قول ہے جو آٹھ ماہ کا ہو ایک قول ہے جو چھ ماہ کا ہو اس سے کم مدت کا کوئی قول نہیں۔ اس سے کم عمر والے کو حمل کہتے ہیں۔ جب تک کہ اسکی پیٹھ پر بال کھڑے ہوں اور بال لیٹ جائیں اور دونوں جانب جھک جائیں تو اسے جذع کہا جاتا ہے، 

(تفسیر ابن کثیر)


اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی تقویٰ کی روح کو قائم کرتے ہوئے اس کے حضور ظاہری قربانیوں کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کی قربانی بھی پیش کرنے کی توفیق دے تاکہ ہم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہو سکیں جن کے لئے یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ﴿٭ۖ۲۸﴾ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً ﴿ۚ۲۹﴾ فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۳۰﴾ وَ ادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ ﴿٪۳۱﴾ کی خوشخبری ہے۔

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں