Introduce of Madarsah Salimia تعارف مدرسہ سلیمیہ

 شہر نشاط کلکتہ کی عظیم دینی درس گاہ 



مدرسہ سلیمیہ فیض الاسلام،کمرہٹی

1857 میں مغلیہ سلطنت کا چراغ بجھ جانے اور ہندوستان پر انگریزوں کا اقتدار آجانے کے بعد سب سے بڑا خطرہ اسلامی شعار، ملی تشخص اور مذہبی تعلیمات پر منڈلارہاتھا ۔ انگریزوں کا اصل منشاء ہندوستان پر اقتدار نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کا خاتمہ تھا ۔وہ مذہبی تحریکات کو ناپید کرنا چاہتے تھے ان کی دشمنی اور عداوت مسلمانوں سے نہیں بلکہ اسلام سے تھی ۔ وہ ایسا مسلمان چاہ رہے تھے جوظاہر میں مسلمان ہوں اور باطن میں عیسائی ہوں ۔ایسے دور میں علماء کرام نے مدارس کے قیام کی داغ بیل ڈالی ۔ شعائر اسلام کو فروغ دینے کی ایک نئی تحریک شروع کی ۔جگہ جگہ مدارس قائم کئے گئے ۔ مکاتب کا وجود عمل میں آیا ۔ کچھ ہی دنوں میں اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ۔ضلالت و گمراہی کا پردہ چاک ہوا ۔ لوگوں میں اسلامی تعلیمات عام ہوئی ۔ مذہبی شناخت کو برقرار رکھنے کا جذبہ بیدار ہوا ۔آج برصغیر میں اگر اسلام اپنی صحیح صورت میں زندہ ہے ۔ لوگوں میں مذہبی رحجان پایا جاتا ہے ، انہیں اسلامی تعلیمات کا علم ہے ۔ ملی تشخص برقرار ہے ۔ حفاظ اور علماء کرام پائے جاتے ہیں تو اس کا سہرا براہ راست مدارس اسلامیہ کو جاتا ہے 

*"مدرسہ سلیمیہ"* بھی انہیں عظیم درس گاہوں میں سے ایک ہے جو اپنے قیام کے فورا بعد سے ملی تشخص کو برقرار رکھنے ، مسلم بچوں کو قرآن کی تعلمات سے روسناش کرانے ، ان کی تربیت کرنے میں مسلسل سرگرداں ہے۔ یہ ادرہ اصلاحی ، رفاہی اور سماجی کاموں میں بھی مسلسل مصروف ہے۔ کم عرصہ میں اس نے تاریخ ساز اور نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

مدرسہ سلیمیہ کا قیام آج سے دو سال قبل حضر ت مولانا صوفی سیلم رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت حافظ نور محمد علیہ رحمۃ اور دیگر ہندوستان کے نامور علماء کرام اور بزرگادین کے مشورہ سے *"کمر ہٹی، کولکاتہ"* میں عمل میں آیا تھا جو آج الحمد اللہ اپنی تعلمی اور رفاہی خدمات کی بناپر ایک مثالی ادارہ ہونے کا اعزاز حاصل کرچکا ہے .....

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں