*فقہاء کرام جب کسی امرکے متعلق "ناجائز" تحریر فرماتے ہیں تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟M. Bilal Ahmad misbahi

فقہاء کرام جب کسی امرکے متعلق "ناجائز" تحریر فرماتے ہیں تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

فقہاء کرام جب کسی امرکے متعلق "ناجائز" تحریر فرماتے ہیں تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ حرام یامکروہ تحریمی یا تنزیہی یا کچھ اور؟

المستفتی:توفیق رضا بلرام پور۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔فقہائے کرام جس امر کے متعلق "ناجائز"فرماتے ہیں اگر وہ دلیل قطعی سے ثابت ہےتو اس جگہ"نا جائز" سے مراد حرام ہوتا ہے اور دلیل قطعی سے ثابت نہ ہو بلکہ دلیل ظنی سےہو تو اس جگہ "ناجائز" سے مراد مکروہ تحریمی ہوتا ہے جیسا کہ مکروہ تحریمی اور حرام کی تعریف سے معلوم ہوتا ہے۔

حرام: جس کی ممانعت دلیل قطعی سے ثابت ہو۔

مکروہ تحریمی: جس کی ممانعت دلیل ظنی سے ثابت ہو۔

مجمع الانھر میں ہے: "فالحرام مامنع عنہ بدلیل قطعی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

والمکروہ مامنع بظنی"۔(مجمع الانہر،کتاب الکراھیة،ج:٢ ،ص: ٥٢٣،ط: دار احياء التراث العربي،بيروت.لبنان)

البتہ کبھی کبھی فقہائے کرام "ناجائز"کا اطلاق مکروہ تنزیہی پر بھی فرمایا ہے۔

فتاوی رضویہ میں ہے: "جب کہ واقع میں نماز جمعہ و عید نہ تھی تو ایک نماز ہوئی کہ   باجماعت و اعلان وتداعی ادا کی گئی یہ ناجائز ہوا"۔(فتاویٰ رضویہ،اعلی حضرت علیہ الرحمہ،کتاب الصلوٰۃ،ج:۶،ص: ۲۵۵،ط:امام احمد رضا اکیڈمی)

درمختار میں ہے:"یکرہ ذالک لو علی سبیل التداعی بان یقتدی اربعة بواحد کما فی الدرر"۔ اس کے تحت رد المحتار میں ہے:"وھو کالصریح فی أنھا کراھة تنزیة"۔(در مختار مع ردالمحتار،کتاب الصلاۃ/باب الوتر والنوافل،ج:۲،ص:۵۰۰،ط: زکریا بکڈپو) والله تعالیٰ أعلم۔

*كتبہ*: *بلال احمد مصباحی مالدہ*۔

*مرکز تربیت افتا اوجھا گنچ،بستی*

*۲۲/ذی الحجہ ۱۴۴۲ھ*

*الجواب صحیح والله اعلم*

*مفتی ازہار امجدی مصباحی ازہری*

*خادم الافتاء بمرکز تربیةالافتاء،اوجھا گنج،بستی۔*

*۲۲/ذی الحجہ ۴۲ھ۔*

Share on Google Plus

About Md Firoz Alam

Ut wisi enim ad minim veniam, quis nostrud exerci tation ullamcorper suscipit lobortis nisl ut aliquip ex ea commodo consequat. Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla facilisis at vero eros et accumsan et iusto odio dignissim qui blandit praesent luptatum zzril delenit augue duis.

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں